کھیللکھاریمہتاب حیدر تھہیم

مہتاب حیدر تھہیم کا کالم : اخبار کے پیچھے منہ چھپانے والا دھرنے باز لاڈلا کپتان

یہ 1982 کی سردیاں تھیں ،فروری کا مہینہ ، میرے فرائض میں سکول سے واپسی پر ابا جی کو اخبار پڑھ کر سنانا بھی شامل تھا ، اس دور میں ہمارے گھر میں دو اخبارات روزنامہ امروز اور جنگ آتے تھے ، میرے ابا جی مشتاق حسین تھہیم ایک پولیٹیکل ورکر تھے اسی لئے تجزئیے اور اداریہ بڑے شوق سے پڑھتے یا مجھے پڑھنے کا حکم اس وقت دیتے جب اردگرد خبروں کے شوقین موجود ہوتے جو لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے ، مجھے اخبار کی عادت، کرکٹ ، آرٹ و میوزک اور دلیپ کمار کی فلموں سے محبت ورثے میں ملی ، ایک دن اچانک میری نظر جنگ اخبار کے اندرونی صفحہ پر ایک تصویر پر پڑی جس میں پاکستان کے کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑی قذ افی سٹیڈیم میں پی سی بی کے دفتر سے باہر آرہے ہیں ان میں ایک کھلاڑی نے اپنا چہرہ اخبار سے چھپایا ہوا ہے ، اور وہ کھلاڑی کوئی اور نہیں مایہ ناز آل راؤنڈر، کپتان، اب پی ٹی آئی کے چیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان تھے ۔
اصل میں ماجرہ کچھ یوں تھا کہ ان دنوں ہمارے موجودہ نئے نئے سیاسی یتیم سابق وزیر اعظم (جو اس وقت ایک مایہ ناز آل راؤنڈر تھے ) نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کچھ سینیر کھلاڑیوں کو ساتھ ملایا اور اس کے کپتان جاوید میانداد کی خلاف دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان کی کپتانی میں نہیں کھیل سکتے ۔
یہ بڑا عجیب معاملہ تھا اور پاکستانی کرکٹ میں ایک غلیظ روایت کی ابتدا تھی ، بیرونی دنیا اس بارے میں کیا سوچ رہی تھی زیادہ اطلاعات نہیں تھیں کیونکہ خبر اور رسائل تک رسائی محدود تھی ہاں مگر بی بی سی پر اس بارے میں روز تبصرہ ہوتا اس میں کرکٹ جیسی جینٹلمین کھیل میں اس بھونڈی اور غلیظ روایت کے ابتدا پر ان کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، اس وارداتیے نے گھات بھی تب لگائی جب سری لنکا جو ٹیسٹ کرکٹ میں نووارد تھا اس کو ٹسٹ میچ اسٹیٹس ملنے کے بعد پہلا دورہ متوقع تھا ، اس روز یہ اپنے ٹائیگرز کے گینگ کے ہمراہ جن میں بوڑھا سازشی ماجد خان اور دیگر سینئر کھلاڑی شامل تھے اس وقت کی چیئرمین نورخان سے مل کر آرہے تھے آگے صحافیوں سے مد بھیڑ ہونے پر اپنا منہ اخبار سے چھپا لیا اور شاید اسی دن وارداتی لاڈلا بھانپ گیا کہ اگر اخبار اور آگے چل کر میڈیا ہاتھ میں ہو تو منہ چھپایا جاسکتا ہے چاہے حرکت کتنی ہی غیر اخلاقی اور کارکردگی کتنی ہی صفر کیوں نہ ہو ۔
خیر ائیر مارشل نور خان نے تب تک تو اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی مطالبے پر سرنڈر سے انکار کیا اور دور ہ سری لنکا شروع ہو گیا اور پاکستان نےپہلا ٹیسٹ میچ جیت لیا ، اور دوسرے ٹسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم فالوان سے بمشکل بچی اور وہ بھی اشرف علی کی شاندار بیٹنگ کے باعث اور فیصل آباد ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے بورڈ انتظامیہ نے درمیان کے لوگوں کے دباؤ پر جاوید میانداد کو آئندہ دورہ انگلستان کے لئے کپتانی سے ہٹا دیا ۔ بغاوت کامیاب ہوگئی اور سینئر کھلاڑی سری لنکا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے پر تیار ہوگئے اور پاکستان سیریز دو صفر سے جیت گیا اور عمران خان بن گیا نیا کپتان، اور یوں لاڈلے خان کا پہلا دھرنا اس دور کی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے کامیاب ہو گیا کیونکہ شنید ہے کہ اس دور میں عمران خان کو پنجاب کے وزیر خزانہ کی بڑی سپورٹ حاصل تھی ، مگر اس کامیابی کی قیمت ہماری کرکٹ اور پھر سیاست اور معیشت اور معاشرتی اور سیاسی قدروں کو کتنی چکانا پڑے گی کوئی نہیں جانتا تھا
اس واقعے کے بعد پاکستان کی کرکٹ میں ایک ایسی روایات کا آغاز ہوا کہ جس نے وہ تماشہ لگایا کہ جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔
عمران خان صاحب نے صرف اسی پر بس نہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے وسیم اکرم کو بھی اکسایا کہ جاوید میانداد کے خلاف بغاوت کریں اس نے بالکل ایسا ہی کیا اور دورہ انگلینڈ کے آخری دنوں میں انہوں نے جاوید میانداد کے خلاف بغاوت کر دی اور 1996 کے ورلڈ کپ میں وہ کامیاب ہوگئے خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا وسیم اکرم نے جسٹس قیوم کمیشن اور میچ فکسنگ کے ثبوت کے بعد کپتانی چھوڑ دی مگر اندر کے زہر کو نہ مار سکے اور کپتانوں کے خلاف سازش کے کھرے ان کے گھر تک ضرور جاتے پھر کیا کیا تماشہ کرکٹ لورز نے نہیں دیکھا کہ کپتانوں کے خلاف بغاوتوں میں قرآن پر حلف بھی ہوئے یہاں تک کہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے تقریبا تمام کپتانوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا رمیز راجہ ہو عامر سہیل ہو اور اس کے بعد چاہے انضمام الحق ، اور پھر ہماری کرکٹ نے وہ سیاہ دن بھی دیکھا کہ ہماری ٹیم 2007 کے ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں بہت معمولی سی ٹیموں سے ہار کر باہر ہوگیا پاکستان ٹیم میں شدید لڑائی کی خبریں وطن پہیچیں اور پھر سانحہ ایک عظیم کوچ باب وولمر کی پراسرار موت اور پاکستان ٹیم کی بین الاقوامی ذلت قوم کے لئے سانحہ سے کم نہ تھی ، ایک طرف میچ فکسنگ کے الزامات دوسری طرف ٹیم کو ویسٹ انڈیز روکے جانا ایک پریشان کن صورتحال تھی کیونکہ قومی سطح پر ایک اچھی خبر صرف اور صرف کرکٹ میں کامیابی تھی مگر عمران خان صاحب کا بغاوت ، سازش اور نفرت کا بویا بیج پوری طرح پھل دار اور گہری جڑوں والا درخت بن چکا تھا اور یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا تھا کیونکہ ایک طرف پلیئر پاور کے سامنے بے بس پی سی بی اور دوسری طرف دہشت گردی اور کراچی میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران حملہ اور پھر لاہور میں سر ی لنکن ٹیم پر حملہ اس نے پاکستان میں کرکٹ پر ایک جمود طاری کردیا ، نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہا تھا ۔
یہ سلسلہ اس وقت تھما یا کم ہوا جب ایک بزنس مین چوہدری ذکاءاشرف کو بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا وہ ذاتی طور پر ایک مضبوط ایڈمن تھے ، انہوں نے پلیئر پاور کو کم کرنے کا اعلان کیا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے سنٹرل کنٹریکٹ ، پی سی بی کے آئین اور ٹیم میں موجود سازشی عناصر کی پاکستان کے مروجہ اصولوں کے تحت خاصی ” تعلیم و تربیت ” اس بڑی مشکل سے کامیاب ہوئے اور پاکستان 2009 میں ٹی20 کپ جیتنے میں کامیاب ہوا اور پاکستان کرکٹ اور قوم کو پتا چلا کہ 1992 کے بعد بھی ورلڈ کپ جیتا جا سکتا ہے اور پاکستانی کرکٹ کو عمران خان کے نفرت اور نفاق کے دیئے ہوئے تحفے کو مکمل ختم کرنے میں 35 سال لگے کہ جفیظ، شعیب ملک ، یونس خان، اکمل برادران جیسے زہریلے کھلاڑی بھی پر نہ مار سکے ، اور عمران خان کے یہ کرکٹ پر احسانات بڑے دور اثر ثابت ہوئے، اور اس دھرنا بازی کے زہر کے تریاق میں تقریبا تین دہائیاں لگیں ۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر عمران خان کو اسی وقت پہلے دھرنے پر ہی روک دیا جاتا اور لاڈلے کے طور پالا نہ جاتا تو کرکٹ ٹیم تو اس کے بغیر بھی چل رہی ہے 1992 کے بعد دو عالم ٹائٹل جیتے کئی بار نمبر ون رہی تو اتنی تباہی نہ آتی ۔
مگر شاید اس لاڈلے کے ہاتھوں ہم نے کئی مزید دکھ دیکھنے تھے کہ اس کے ذریعے قومی سیاست کو کنٹرول کرنے کا پروگرام اس کی ذاتی اور نفسیاتی مسائل کو مدنظر رکھنے کے باوجود اتنا مہلک تابوت ہوگا شائد اس کا اندازہ اس کو تیار کرنے والوں کو نہیں تھا ، کیا میچ کا پروگرام دس سال تک وکٹ تیار کی گئی، پسند کے کھلاڑی ڈھونڈ ڈھونڈ کر دئے گئے ، ایمپائر بھی پسند کے ، جیوری اور تھرڈ ایمپائر بھی ابروئے ناز کا اشارہ سمجھنے والے ، میچ کے ابتدا میں اسکور بورڈ بھی ایسا کہ اگر جلد وکٹیں گرنے یا مخالف سوئنگ کروا دے تو بھی یا اگر مخالف بیٹسمین کے اسکور بھی میرے کپتان کے کھاتے میں دال دے ، ایمپائر ایسا کہ وکٹ سے دو فٹ دور بھی گیند پیڈ کو لگے یا ہوا میں اچھلنے والی گیند کو زمین سے بھی اٹھا کر اپیل کرے تو ایمپائر انگلی کھڑی کردے ، اگر ریوو لینے لگیں تو بڑے بورڈ پر پہلے ہیں آؤٹ لکھا ہوا ملے ، اور تبصرے پر مامور لوگوں کو صرف اور صرف ایک رائے کی اجازت ہو وہ ہو کپتان کی تعریف ورنہ باؤنسر کھانے کے لئے تیار ہو جائے ، اس سارے میچ میں شائد لاڈلے وارداتی کو اتنی چھوٹ دی گئی کہ وہ سچ مچ ہی اپنی کارکردگی سمجھ بیٹھا اور حق بھی ، اور 14 سال تک جھوٹ کی بارش نے سچ کا چہرہ اتنا بگاڑ دیا کہ اب لاڈلا جو کہے وہی سچ ہے ،مگر قوم کا جو نقصان ہوچکا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، اس کھیل میں ہونے والا مالی نقصان شائد پورا ہوجائے مگر قوم میں نفرت اور تقسیم کا جو بیج بو دیا گیا ہے اور کا علاج شائد جلد نہ ہو سکے، اب حالت یہ ہے کہ 30 فی صد لوگ 70 فی صد فیصد لوگوں کو غدار سمجھتے ہیں، بات چیت کی ابتدا ہی چور اور ڈاکو سے ہوتی ہے ،اور یہ یہیں نہیں رہا روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ نہیں ، اور دکھ اس بات کا کہ اس کو روکنے کی بجائے ہوا دی جارہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لاڈلے کو کسی نے روکا نہیں ، اس کی دھرنوں اور تقسیم اور نفرت کی باقاعدہ سر پرستی کی گئی ، اس کے اور اس کے ساتھیوں کو یہ باور کرایا گیا کہ آپ ہی صرف اور صرف محب وطن اور ایماندار ہیں باقی سب چور اور لٹیرے ہیں اور پچھلے 15سال کی اس محنت کا نتیجہ ہے قومی سطح پر شدید نفرت اور اشتعال انگیزی اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور عمران خان شائد نفسیاتی طور پر خود کو اپنے ساتھیوں کو اس سطح پر لے گیا ہے کہ اس تقسیم کو ختم کرنے میں بڑی مدت لگے گی کیونکہ اس وقت عمران خان کو احساس تھا کہ جو بغاوت وہ کررہا ہے وہ غلط کررہا ہے اس لئے اس نے اخبار میں اپنا منہ چھپا لیا تھا مگر اب کچھ اخبار والوں ، اس کے تخلیق کاروں ، اس کے ارد گرد کے ساتھیوں نے اسے یقین دلا دیا ہے کہ وہ حق کا استعارہ ہے اور وہ اپنے مخالف ہر ایک کو باطل سمجھ رہا ہے اس ساتھیوں کو بتارہا ہے ، اب قومی تقسیم کی اس گہری خلیج کو بھرنے میں اللہ جانے کتنی مدت لگے یا کوئی اس کو گہری نہ کر دے ، نفرت کے جس بنیاد پر خان صاحب سیاست کررہے ہیں خدا ہم پر رحم کرے کیونکہ معیشت اور سیاست دونوں بحرانوں کا حل ایک ہے اور ہے ڈائیلاگ جو فل الحال نظر نہیں آرہا کیونکہ لاڈلا وہی 1982 والی فرمائش کررہا ہے اور میچ بھی پسند کے گراؤنڈ اور پسند کے ایمپائروں کے ساتھ چاہ رہا ہے مگر ادھر سے آواز آرہی ہے کہ
پہلے تھی تیرے نام سے رغبت بڑی مجھے
اب سن کے تیرا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker