اختصارئےلکھاریمحمد یوسف خان

محمد یوسف خان کا اختصاریہ : پاکستان میں 20 فی صد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں بسنے والے انسانوں کی آبادی 7ارب 90کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اوربتایا جا رہا ہے کہ اگر اسی رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھتی رہی تو 2050ءمیں یعنی صرف تین دہائیوں کے بعد دنیا کی آبادی 10ارب افراد پر جا پہنچے گی۔
اگر صرف پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت دنیا بھر میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر آنے والے پاکستان کی آبادی بھی 22کروڑ 90لاکھ نفوس سے تجاوز کر چکی ہے۔خوراک کے مسئلے سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور بھوک ، ناقص غذ ا اور غربت کے خلاف جدو جہد کر نا، عالمی سطح پر خوراک کی پیدا وار میں اضافہ کے لئے شعور بیدار کر نا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کرونا وباءکے دوران بھی عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ جس سے دنیا بھر میں غریب افراد کو کرونا وباءکے دوران خوراک کی شدید کمی کا سامنا رہا ۔ کرونا وباءکے آغاز کے بعد خوراک اور کھانے پینے کی دیگر اشیاءکی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے بہت سے غریب گھرانوں کو اپنی خوراک کے معیار اور مقدار میں کمی کر نا پڑی۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ کرنسی کی قدر میں کمی ، کھاد اور بیج کی قیمت میں تیزی سے ہونے والا اضافہ کے علاوہ ذخیرہ اندوزی بھی بہت بڑی وجہ ہے۔خورا ک کی قیمتوں میں اضافہ کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار طبقہ ،گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور مزدور بچوں پر ہو ا ہے کیونکہ کم آمدنی والے افراد کے لئے خوراک کا حصول ہی ان کی پہلی ترجیح ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ سیکورٹی کی رپورٹ کے مطابق 2020ءمیں دنیا بھر کی تقریبا 30فیصد آبادی کو مناسب خوراک کی کمی کا سامنا رہا جبکہ پاکستان کی 20.5فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔5سال سے 18سال تک کی عمر کے بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ دنیا بھر میں بھوک کے حقائق پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو تا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کا عدم تحفظ واقعی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا میں بھوک کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں بھوکے لوگوں میں وسائل کی کمی اور دنیا میں آمدنی کی انتہائی غیر مساوی تقسیم اور شادی بیاہ و دیگر تقریبات اور ہوٹلوں میں کھانے کا ضیاع سرفہرست ہیں۔
خوراک میں کمی کا مطلب صرف بازار میں اشیاءخوردونوش کا نہ ملنا نہیں بلکہ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بازار میں تواشیاءخوردنی موجود ہوں مگر لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو۔ حکومت نے احساس پروگرام کے ذ ریعے 16ملین لوگوں کو 12000روپے فی خاندان امداد دی ہے جس سے ان کی مالی مشکلات میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ خوراک کی کمی کو دور کر نے کے لئے ہنگامی بینادوں پر بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے مثلا پسماندہ اضلاع بلکہ تحصیل لیول تک سبزی منڈی ،غلہ منڈی اور مویشی منڈی کا قیام ، کھیتوں سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر ، کولڈ اسٹوریج کا قیام ، کمیشن مافیاکا خاتمہ ، چھوٹے کسانوں کو ٹریکٹر ،ٹیوب ویل اور دیگر زرعی آلات کی آسان شرائط پر فراہمی ، پختہ کھالوں کی تعمیر اور خوراک پیداکرنے والے ذ رائع جیسا کہ مرغی فارم، بکری فارم، مچھلی فارم کے تالاب ، ڈیری فارم کے شیڈ کی تعمیر کے لئے بلاسود قرض اوربالخصوص چھوٹے کسانوں کو سودمافیا سے نجات دلانے جیسے اقدامات کی بدولت خوراک کی کمی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker