کسی بھی معاشرتی رویے کو سمجھنے کےلیۓ رحجانات کا سائینسی اور تحقیقی جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ مجھ سے کوئی اگر پوچھے کہ ثقافت کیوں ضروری ہے تو میں یہ کہوں گا کہ ثقافت قوموں کو آزاد رہنے کی ضمانت دیتی ہے، افراد کو زندہ رہنے کےلیۓ عزت بخشتی ہے اور ملکوں میں امن کا باعث بنتی ہے۔ جس معاشرتی رویے کی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ ہم اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ سے خائف کیوں ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سوال پوچھتا ہی کوئی نہیں۔ تو پھر کس کو بتائیں اور کیا بتائیں کہ یہ کیوں ہے اور کیسے ہے۔ چلیں خیر ہے، آج اس موضوع پر خود کلامی کرتے ہیں۔
ثقافت اس رہن سہن کو کہتے ہیں جو کسی علاقے میں رہنے والوں کےلیۓ مخصوص ہوتا ہے۔ مقامی لوگ اپنے مخصوص طرز زندگی کو اپنا کر خوشی اور سہولت محسوس کرتے ہیں۔ اپنا لباس، اپنا کھانا، اپنی بولی، ہم سب کو اپنے دل کے قریب اس لیے لگتا ہے کہ ہم ان سب کے بغیر ادھورے ہوتے ہیں۔ انسانی تہذیب کے صدیوں پر پھیلے تجربات کا نتیجہ ثقافت کے رنگوں کی صورت میں نکھر کر پہناوے، موسیقی اور رقص کے زاویوں میں بکھر جاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی بلکہ شاید آپ میری یہ بات ماننے سے انکار بھی کر دیں، مگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کلچر اور ثقافت کا اثر مذہب کے اثر سے زیادہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے زندگی گزارنے کے جو معیار صدیوں کی ریاضت کے بعد حاصل کیے ہوتے ہیں، وہ ان کی روح میں رچ بس گۓ ہوتے ہیں۔ کیا اس احساس کو اور ان ثقافتی اقدار کو محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی؟ جس ملک اور جس قوم نے زندہ رہنا ہو، اسے یقیناً اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خطہ یا کوئی گروہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنا رہن سہن فراموش کر دے تو وہ نہ صرف اپنی شناخت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ اجنبی رویوں اور احساسات کو اپنے گھر میں جگہ دے دیتے ہیں جو مسلسل ان کے لیۓ مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیں کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم رہتا ہے۔ ان علاقوں میں مقامی لباس کی اہمیت کو سمجھا جاۓ تو مناسب ہو گا۔ ان علاقوں میں گرمی سے نبٹنے کےلیے دستار، کھلے کرتے، تہبند اور ”کنے والی جوتی“ کا رواج تھا۔ کتنی ناموافق بات ہے کہ ہم نے اس لباس کو چھوڑ کر ٹائی کوٹ اور بند بوٹ پہننا شروع کر دیا ہے جو سرد ملکوں کا لباس ہے۔ ہم انگریزوں کی تقلید کرتے کرتے پسینے سے شرابور اور بدبودار ہو جائیں گے مگر وہ لباس نہیں پہنیں گے جسے پہن کر ہم اپنے آباء جیسے بھی لگیں گے اور تکلیف سے بھی بچ جائیں ۔ اپنے رہن سہن سے شرم آنے لگے تو یوں سمجھیں کہ ثقافت کے چھتناور درخت کی جڑیں کٹنا شروع ہو گئیں۔
ثقافت قوموں کی روح میں رچی بسی ہوتی ہے اور اسی لیئے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہ فطرت کے قریب ترین کی زندگی کا عکاس ہوتی ہے جس میں جسم و جاں کی تسکین اور روح کی خوشی کا سامان ہوتا ہے۔ ہماری اپنی یاد میں ہے کہ ہمارے دیہات کیسے خالص زندگی سے بھرپور ہوتے تھے۔ سرسوں کا ساگ، چاٹی کی لسی، مکھن کے پیڑے، دیسی گھی، دیسی مرغیاں، نلکے کا پانی، کیکر کی چھاوں، فاختہ کی آواز، چرخے کی ”گھوک“؛ نہ جانے یہ سب تحفے کدھر کو گئے۔ اب گاؤ ں میں جانا ہو تو وہاں بھی میزبانی پیپسی سے ہوتی ہے۔ کھیتوں میں سپرے کی بُو نے ڈیرے جماۓ ہیں اور پرندے وہاں اب نہیں بولتے۔ نہ رہٹ پر پانی پینے کوئی آتا ہے اور نہ کوئی ”بیساکھی“ کرتا ہے۔ مقامی طرز تعمیر تک معدوم ہو گیا ہے۔ مجھے تو بہت دکھ ہوا جب میں نے ایک کسان کو جینز ٹی شرٹ میں کھیتوں میں ہل چلاتے دیکھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اپنی شناخت بچانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اگر پاکستان کے لوگوں کو آزادی، عزت اور امن کی ضرورت ہے تو یقیناً انہیں اپنی ثقافت کی پناہ میں جانا ہو گا۔ کون کٹھور ہے جس کو دھرتی ماں کی لوری نہیں چاہیۓ؟ ہمارا مستقبل ہمارے ماضی سے جڑا ہے۔ اگر ہم نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا تو پتھر کے بن جائیں گے۔ ہمیں ہماری اخلاقیات کی بنیاد ہمیں ہماری ثقافت دیتی ہے۔ اجرک ٹوپی سے پختون ولی تک کے احساسات ہماری قوم کا اثاثہ ہیں۔ کتنے اچھے رنگ ہیں بلوچستان کے اور کتنی میٹھی زبان ہے ملتان کی۔ ثقافت کا ورثہ وقت کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں ہونے دیتا اور ثقافت کے ہنر محبتوں کو مرنے نہیں دیتے۔ تو پھر ہمیں کس چیز کا انتظار ہے؛ کشمکش کی فضا میں کلچر ہمارا سہارا بن سکتا ہے، اس میں اتنی توانائی اور تنوع ہے کہ ہماری معیشت اور معاشرت بدل سکتی ہے اگر ہم صرف یہ طے کر لیں کہ ہمیں اپنی زندگی کے اصول اپنی زمین اور اپنے ثقافتی رہن سہن میں سے ڈھونڈنے ہیں۔
ملک میں قومی ورثہ کی ترویج کی صورتحال یہ ہے کہ قومی دنوں پر ٹیلی وژن ہر خطے کی رقص و سرود میں نمائیندگی کو ثقافتی ورثہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے اسٹیج پر ان ثقافتی طائفوں کو دیکھا جا سکتا ہے؛ اس کےعلاوہ کچھ نہیں۔ صوبے اپنی ثقافت کو اپنے گاؤ ں کی حدود میں اور میوزیم کی شیشے کی الماریوں کے پیچھے دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہتے ہیں، اس سے زیادہ کی نہ انہیں اجازت ہے اور نہ ادراک۔ اگر باہر سے لوگ آ کر ہمیں بتائیں کہ دنیا کہ پہلی یونیورسٹی کے نشان آج بھی ٹیکسلا میں دیکھے جا سکتے ہیں تو اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ کب تک ہم باہر سے آنے والے سکندر کو تکریم دیتے رہیں گے اوریہاں کے راجہ پورس پراپنی سرزمین کو بچانے کی کوشش کرنے پر ہنستے رہیں گے؟ کیا اپنی اپنی صوبائی سرحدوں میں اپنی زبان بولنا ہی ہماری ثقافت ہے۔ کیا اب عید اور شادی کی محفلوں میں ہی ہم اپنے کپڑے پہنا کریں گے؟ کیا خوشبو اور پیار کے یہ سارے رنگ پاکستان کے رنگ نہیں ہیں؟ کیا پاکستان کو ایک ایسے قومی ورثے کی ضرورت نہیں جو ہم سب کا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنا مستقبل اس لیے دھندلا نظر آتا ہے کیونکہ ہم نے اپنے ماضی کو اپنے رہن سہن اور اپنی سوچ سے توڑ دیا ہے۔
موجودہ حکومت یقیناً ایک قومی نقطہء نظر سے اچھے مستقبل کےلیۓ جدوجہد کر رہی ہے۔ قومی ورثہ کی وزارت میں بھی بہت اہل افسران کام کر رہے ہیں۔ ہم سب کو سوچنا یہ ہے کہ قومی ورثے کو نسل در نسل محفوظ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملکوں کی معیشت کو ثقافت کے فروغ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں ثقافت کے فروغ کےلیۓ منصوبہ سازی کریں تو یہ جدت اور علامت سے لبریز ایک ایسے دور کا آغاز ہو گا جس میں روزگار کے ہزارہا دروازے کھلیں گے۔ وفاقی حکومت کو چاہیۓ کہ ہر شہر میں مقامی تاجروں اور مقامی ثقافتی نمائیندگان پر مشتمل ایسے پلیٹ فارم کو متعارف کروائیں جو ہمارے چھوٹے چھوٹے ثقافتی مراکز کو عالمی مارکیٹوں کے ساتھ منسلک کر دے۔ اس ضمن میں پاکستان کے قومی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کےلیۓ مندرجہ ذیل تجاویز فیصلہ سازوں کی خدمت میں پیش ہیں:
1۔ صوبائی ثقافتی طائفوں کو ایک دوسرے کے صوبوں میں بھیجنے کو رواج دیا جاۓ تاکہ بین الصوبائی لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطے کو رواج دیا جا سکے۔
2۔ پاکستان کو اور مضبوط کرنے کےلیے سب مقامی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جاۓ۔ قومی اسمبلی میں مقامی زبانوں میں بولنے کی حوصلی افزائی کی جاۓ اور تقاریر کے دوران ہیڈ فون پر ان زبانوں کے ترجمے کی سہولت متعارف کروائی جاۓ۔
3۔ ایک صوبے کے طالبعلموں کو دوسری مقامی زبانوں کے سیکھنے پر اضافی نمبر اور سرکاری نوکریوں میں ترجیح دی جاۓ۔
4۔ ثقافت کے فروغ کےلیۓ نوجوانوں کو کمپنیاں بنا کر مقامی مصنوعات کا آن لائن کاروبار کرنا سکھایا جاۓ۔
5۔ سرکاری دفاتر میں مقامی لباس کے پہننے کی حوصلہ افزائی کی جاۓ۔
6۔ مقامی فیشن انڈسٹری اور فلم انڈسٹری کو ہدایات دی جائیں کہ وہ مقامی لباس اور مقامی ثقافت کو پروان چڑھائیں ۔
7۔ تعلیمی نصاب میں اپنے کلچر اور اپنے رہن سہن پر فخر کرنا سکھایا جاۓ۔ طالبعلموں کو برٹرینڈ رسل اور شیکسپئیر کے ساتھ ساتھ وارث شاہ، میاں محمد بخش، شاہ عبدالطیف بھٹائی، خوشحال خاں خٹک اور میر گل نصیر بھی پڑھایا جاۓ کیونکہ ہمارے مقامی فکری اور معاشرتی مسائل کا حل ان مفکروں کی تعلیمات میں ہے۔
8۔ عام شہریوں کو قائل کیا جاۓ کہ وہ اپنے مہمان نوازی اور میزبانی کے انداز میں اپنی ثقافتی رنگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
9- گھروں اور سرکاری عمارات اور کاروباری مراکز کےلیۓ ضابطہء اخلاق بنایا جاۓ جس کے تحت تعمیرات میں مقامی ثقافت اور تاریخ کو مد نظر رکھا جاۓ۔
10۔ پاکستان کے ہر خطے کی ثقافت کو قومی ثقافت کے طور پر ایسے اپنایا جاۓ کہ ثقافتی میلے قومی دنوں اور عیدوں کی طرح مناۓ جائیں اور لوک ان دنوں کا بلا تخصیص ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہونے کےلیے انتظار کریں۔
زبان، لباس اور ثقافت کسی کی دشمن نہیں ہوتی۔ البتہ، جب کوئی خود اپنی چال ڈھال اور سوچ وچار بھول جاۓ تو پھر اس کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ مجھے یقین ہے کہ ثقافت کی محبت کا فروغ ہمیں ہمارے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے نکالنے کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاست تقسیم کرتی ہے؛ ثقافت تجسیم کرتی ہے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟
فیس بک کمینٹ

