تجزیےلکھاریمختار پارس

غربت اور عدم مساوات کیسے ختم ہو گی ؟ سوچ وچار / مختار پارس

حکومت سوچ رہی ہے کہ ملک میں عدم مساوات کو کم کیا جاۓ۔ یہ ایک بہت ذمہ دار سوچ ہے اور اس بات کی عکاس ہے کہ ملک میں طبقاتی تفریق اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کی 1354 ڈالر کی فی کس جی ڈی پی اسے دنیا میں 154ویں نمبر پرکھڑا کرتی ہے۔ ملک میں سالانہ فی کس آمدنی 421 ڈالر ہے اور بائیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں 35 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس ملک میں بیس لاکھ کروڑپتی موجود ہیں۔ دس فیصد امیر ترین افراد ملک کے تیس فیصد وسائل پر قابض ہیں جبکہ ملک کے غریب ترین دس فیصد کو وسائل کا 4 فیصد بھی نہیں ملتا۔ اس گمھبیر معاشی تفاوت کو ختم کرنا آسان نہیں۔
معاشی عدم مساوات کا ایک اور پہلو دیکھیۓ۔ ملک میں ٹیکس کا 75فی صد بلاواسطہ اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ صرف 25 فی صد ٹیکس براہ راست اکٹھا ہوتا ہے۔ براہ راست ٹیکس دینے والوں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ نہیں۔ جس عوام سے بلاواسطہ ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے اسے معلوم ہی نہیں کہ ان سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے۔ ایک صارف اگر 20000 ہزار روپے بجلی کا بل ادا کرتا ہے تو وہ تقریبا” 7000 روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اس کے فون کا بل 3000 روپے ہے تو تو کم وبیش 700 روپے ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر 1000 روپے کا موبائل فون کا کارڈ کسی نے ڈلوایا ہے تو 380 روپے کا ٹیکس صارف سے وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔ (اگر موبائل فون کمپنی غیر ملکی ہے تو پھر 380 روپے میں سے 300 روپے وہ کمپنی اپنے ساتھ باہر لے جاتی ہے جس کا صارف کو بالکل پتہ نہیں)۔ اگر حکومت معاشی ناانصافیوں کا خاتمہ کرنے کا سوچ رہی ہے تو پھر ابتدا اس ٹیکس کے نظام سے ہو گی جس میں بلاواسطہ ٹیکسوں کا خاتمہ ہو گا تاکہ غریب کو غربت کے بوجھ سے نکالا جا سکے۔
ایک اہم سوال کا جواب ہمیں جاننا ہو گا اور وہ یہ کہ کیا پاکستان میں صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے کہ نسبتاً کم آبادی والے صوبوں کو زیادہ وسائل دیے جا سکیں؟ اس کی ضرورت شاید اس لیے ہے کہ آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہونے والے وسائل نے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کو زیادہ متمول بنا دیا ہے۔ وفاق کی باقی اکائیوں کی بھی اپنی شناخت ہے اور انہیں بھی معاشی طور پر توانا کرنے کی ضرورت ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہم صوبوں میں وسائل کی تقسیم رقبے کے حساب سے کر سکتے ہیں؟معاشیات میں ‘ایکوئٹی’ کو اگر مشعلِ راہ بنایا جاۓ تو صوبوں کے مابین معاشی تفاوت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
میرا خیال ہے اس بات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر نیشنل فنانس کمیشن آبادی کی بجاۓ رقبے کے اعتبار سے وسائل صوبوں میں دے گا تو اس کا پنجاب کو نقصان پہنچے گا۔ پنجاب اب اپنے پاوؑں پر کھڑا ہو چکا ہے اور اس کی افرادی قوت معاشرے میں طبقاتی تفریق کا سامنا کر سکتی ہے۔ عدم مساوات کا عمل معیشت میں لوگوں کو آگے بڑھنے کی جستجو، تخلیقی ہنر اور کاروباری مواقع کی سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے۔ پنجاب میں پڑھے لکھے لوگوں کو اگر معاشی سرگرمیوں کو شروع کرنے کےلیۓ کوئی پلیٹ فارم مہیا کر دیا جاۓ تو یہ این ایف سی کے حصے سے زیادہ نتائج دکھاۓ گا۔ این ایف سی میں حصہ ان صوبوں کا زیادہ بنتا ہے جو ابھی تعلیمی اور سماجی اعتبار سے اس قابل نہیں ہوۓ کہ عالمی اقدار اور اصولوں کے تحت اپنے معیار زندگی کو رواج دے سکیں اور اپنی معیشت کو ترقی دینے کےلیۓ باقی پاکستان کےلیے کھول سکیں۔
اگر ہم آج کے پاکستان میں ملک کو صرف امیر اور غریب کے طبقات میں تقسیم دیکھ رہے ہیں تو ہم ایک شدید غلطی کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ایک بڑا طبقہ نوجوانوں کا ہے جو نظرانداز ہو رہا ہے۔ ملک کی آبادی کا 65 فیصد پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان نے مستقبل میں معاشی عدم مساوات کو کم کرنا ہے تو آج اس نوجوان طبقے کو علم کے زیور سے اور معیشت کے ہنر سے آراستہ کرنا ہو گا۔ عالمی تجربات سے یہ ثابت ہے کہ اگر ملک میں موجود لوگوں کےلیۓ سکول کا تعلیمی نظام یکساں معیار کا یقینی بنایا جائیگا تو معاشرے میں فرق کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ جب بچے کالج پہنچیں تو ان کےلیۓ معاشرے میں کارآمد مضامین پڑھانے کا انتظام ہو اور انہیں ان اساتذہ کے حوالے کیا جاۓ جو رول ماڈل ہوں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں وہ علوم اور ہنر سکھاۓ پڑھاۓ جائیں جن کا ارد گرد کی معاشی اور معاشرتی زندگی سے تعلق ہو۔ یونیورسٹی میں طالبعلموں کو تحقیق اور ترویج کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات انجام دینے کی طرف راغب کیا جاۓ۔ کسی طالبعلم کو اس وقت تک ڈگری نہ ملے جب تک وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں انٹرن شپ نہ کر لے۔ جب تک پاکستان اپنے نوجوانوں کو کامیابی کی ان سیڑھیوں میں چڑھنے میں مدد نہیں کرے گا، معاشی عدم مساوات ختم نہیں ہو سکے گا۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ معاشی عدم مساوات کے مسئلے کو طبقاتی نہیں بلکہ ترقیاتی عدسے سے دیکھنے کے عمل کا آغاز ہونا چاہیۓ۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ہم دولت کی منصفانہ تقسیم کا خواب دیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنی آدھی آبادی کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری یہ آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے جس کو وراثت میں حصہ دینے کا رواج نہیں اور جس کو کام کرنے کےلیے پہلے والدین اور پھر شوہر اور سسرال کی اجازت درکار ہے۔ مت بھولیں کہ یہ وہ آدھی آبادی ہے جو سانس لیتے زندہ انسانوں پر مشتمل ہے جسے سکولوں اور ہسپتالوں میں سہولیات درکار ہوتی ہیں مگر ملک کا معاشی نظام ان کےلیۓ اتنے وسائل مختص نہیں کر رہا جتنی ان کی آبادی ہے۔ مقامی دقیانوسی سوچ نے مذہب اور ثقافت کی آڑ لے کر اس آدھی آبادی کو مردوں کا محکوم بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اس معاشرے میں لوگ شادی صرف اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی ان کے گھر میں روٹی پکانے اور برتن مانجنے کےلیۓ میسر آ جاۓ۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں کہ گھروں کا نظام اور خاندان اسی طرح نمو پاتے ہیں۔ مگر اس خاتون خانہ کی صحت، تعلیم اور معاشرت میں کچھ حقوق ہیں جن کی حفاظت ہر شہری پر فرض ہونا چاہیۓ۔ اسی طرح خواتین کےلیۓ گھر سے باہر کام کرنے کا کلچر بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی معاشی آزادی اور بہتر زندگی کےلیۓ راہ ہموار ہو سکے۔ اگر حکومت سرکاری اور نجی اداروں کو بجٹ بناتے وقت خواتین کے حصے کو یقینی بنانے کا پابند کردے توملک کی آدھی آبادی اگلے دس سال میں واضح طور پر بہتر ہوتی ہوئی نظر آ سکے گی۔
سچ پوچھیۓ تو کسی شہری کو اس کا حق دینے کےلیۓ کسی انقلاب کو دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں ہونے والی حالیہ مردم شماری کے مطابق ملک میں اسوقت دس ہزار خواجہ سرا ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں؛ کم و بیش دس لاکھ معذور افراد ہیں جن کا اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں؛ ایک کروڑ یتیم اور بیوہ خواتین ہیں جن کو معاشرہ زکواۃ تو دیتا ہے؛ کوئی ڈیڑھ کروڑ کے قریب مزدور بچے بھی یہاں پر رہتے ہیں ۔ کیا ان لوگوں کو باعزت زندگی دینے کےلیے بھی ہمیں کسی انقلاب کی ضرورت ہے؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں 650 ارب روپے کی رقم مستحقین کےلیے پاکستان میں جمع اور تقسیم ہوتی ہے۔ کیا اتنی بڑی رقم کے ہوتے ہوۓ کسی انکم سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے؟ کیا وجہ ہے کہ 2008 میں شروع ہونے والا انکم سپورٹ پروگرام ملک میں غربت کو نہ کم کر سکا اور نہ ختم کر سکا؟ کیا وجہ ہے کہ ٹریفک سگنل پر بھیک مانگنے والا بچہ اور کسی محلے میں رہنے والی کنواری یتیم لڑکی اس انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید نہیں ہو سکی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی عدم مساوات اور طبقاتی فرق مفت پیسہ اورکھانا دینے سے نہیں مٹتا۔ جب بھی یہ پیسہ مفت بانٹا جاتا ہے، یہ نظام کوکرپشن کی طرف لے جاتا ہے۔ معاشی استحکام کو رواج دینے کا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کےلیۓ روزگار کے مواقع پیدا کیۓ جائیں۔
اگر معیشت کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بات کرنا ہے تو زراعت کو لے لیجیۓ۔ پاکستان میں اب بھی 55 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں سہولتوں کا گہرا فقدان ہے۔ یہ شعبہ سارے پاکستان کی آبادی کےلیۓ گندم، کپاس، چاول، گنا اور اجناس پیدا کرتا ہے۔ تفاوت یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں پیدا کرنے والا کسان ہمیشہ غریب رہتا ہے اور اس کی اگائی ہوئی چیزوں سے تجارت کرنے والے امیر سے امیر تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جو شعبہ ملک کے خوراک اور معیشت کا ضامن ہے اس کو بجٹ میں ہم ملک کی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی ناانصافی ہے جو عوام میں معاشی عدم مساوات کا باعث بن رہی ہے۔ دنیا اس وقت زراعت میں بہت توجہ سے ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہے اور اپنے کسانوں کو خوشحال بنا رہی ہے اور یہاں ابھی زراعت اور کسان کا استحصال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جدید زراعت کے ذریعے ایک شخص ایک ایکڑ زمین سے سالانہ بارہ لاکھ روپے کماسکتا ہے۔ ورلڈ بینک کی تحقیق کے مطابق چھوٹے زمیندار بڑے زمینداروں سے زیادہ کما سکتے ہیں۔ بڑے زمیندار زراعت میں نہیں بلکہ زمینداری اور چودھراہٹ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان اگر تین کام کرے تو ملک میں معاشی استحکام اور مساوات یقیناً قائم ہو جاۓ گا۔ پہلے یہ کہ آیئندہ دس سال کےلیۓ ملک کی جی ڈی پی کا پانچ فیصد جدید زراعت کے فروغ کےلیۓ اور نئی ٹیکنالوجی ملک میں رائج کرنے کےلیۓ مختص کیا جاۓ اور اس سرمایہ کاری کو کسانوں تک سکولوں، کالجوں اور مقامی حکومتوں کے ذریعے پہنچایا جاۓ؛ دوئم یہ کہ زرعی اجناس کی خرید کسانوں سے براہ راست کی جاۓ اور ‘مڈل مین’ کے کردار کو منفی کیا جاۓ۔ تیسرا کام انقلابی ہے اور اس کےلیۓ عمران خان جیسی جراءت کی ضرورت ہے۔ ملکِ خداداد میں پانچ فیصد زمیندار ایسے ہیں جن کے پاس 100 ایکڑ سے زیادہ زمین ہے۔ وہ ملک کے 64 فی صد زرعی رقبے کے مالک بھی ہیں،مختار بھی ہیں اور مرشد بھی ہیں۔ ان کے اردگرد 50 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی زمین نہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی شہری کو پانچ ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے کی اجازت نہ ہو اور سب زمینداروں سے اضافی زمین لے کر آیئندہ دس سالوں میں فارغ التحصیل طالبعلموں اور نوجوانوں میں ایک ایکڑ فی کس کے حساب سے جدید زراعت کے منصوبے شروع کرنے کےلیۓ لیز پر دی جاۓ۔ آپ یہ کر کے دکھایۓ اور میں دیکھتا ہوں کہ ملک میں معاشی مساوات کا انقلاب آتا ہے یا نہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker