قیصر عباس صابرکشمیرلکھاری

رتی گلی کے بیس کیمپ پر : صدائے عدل/ قیصر عباس صابر

رتی گلی کے بیس کیمپ پر پہنچ کر جیپ نے بریک لگائی اور ہم اتر کر گیلی نرم ہوچکی زمین پر پاﺅں دھرتے گئے۔ خیمہ ہوٹل کے بکنگ آفس کی طرف بڑھنے لگے ۔ دھند میں حدنگاہ صفر ہوچکی تھی مگر یہ دھند بھی ہواﺅں کی زد میں بہت عارضی دھند تھی جسے ہوا کا ایک جھونکا اڑا کر بہت دور لے جاسکتا تھا۔ دو صاف ستھرے خیمے خالی تھے جن میں نئے میٹرس بچھائے گئے تھے اور ایک کونے میں رضائیوں کے ڈھیر لگے تھے۔ خیموں کی صفائی کو دیکھتے ہی ہم نے آگے بڑھنے کے بجائے ان کا کرایہ پوچھا تو تعجب نہ ہوا ۔ میٹرس اور رضائی پانچ سو روپے میں زیادہ غیر مناسب ریٹ نہ تھا ۔ ٹوائلٹ کچھ فاصلے پر مشترکہ تھا اور خیموں کے ساتھ ہی ایک خیمہ کچن کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا ۔ اپنے اپنے بستر پر ، رضائیوں میں دبک کر گیس ہیٹر ہماری رگوں میں جمنے والے خون کو رواں رکھتا تھا ۔ رتی گلی جھیل صبح جائیں؟ ابھی جائیں؟ نہ جانے بارش کب تھم جائے؟ یہ بحث جاری تھی ۔ راشد تو رتی گلی جھیل کی طرف جانے کو موت کے مترادف قرار دے رہے تھے ۔
بارش چائے پیتے ہوئے رک گئی۔
چائے کے دوران عون عباس سے غزلیں سنی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔آیت زہرا جو بہت چھوٹی تھی وہ رتی گلی کو کٹی گلی ، کٹی گلی کہتی تھی تو یہ جگہ اور زیادہ دلکش لگتی تھی۔ ہم رتی گلی کے بیس کیمپ پر لگے خیموں میں گیس ہیٹر کی حدت کے سامنے جھیل کی طرف جانے کے منصوبے بناتے تھے ، بارش رک جانے کے بعد دھند نے پوری وادی کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
کچھ نظر نہ آتا تھا ،صرف پانی کی جو ندیاں چاروں اطراف میں رواں تھیں ان کی موسیقی سنی جارہی تھی۔ یہ صرف رتی گلی کی ایک جھیل کا بیس کیمپ نہ تھا بلکہ یہاں سے آپ درجنوں جھیلوں کی طرف بڑھ سکتے تھے ۔ نوری ٹاپ کی چوٹی، کچ گلی ، آنسو جھیل، سیف الملوک جھیل، برکا تیہ جھیل اور رتی گلی کی چھوٹی چھوٹی بارہ جھیلیں اسی بیس کیمپ کو اپنا مرکزی نکتہ تسلیم کرتی تھیں۔ ایک ندی جو خیمہ بستی کے بہت قریب سے گزررہی تھی اس میں بہت ساری جھیلوں کا پانی شامل تھا۔
دن ڈھل چکا تھا مگر دھند نے شام کے گہرے سائے پھیلا رکھے تھے۔۔۔۔۔ ساجد نے گھوڑے منگوالئے ۔ راشد نے خیمے میں رہنا پسند کیا۔ میں نے عون اور عبداللہ کے ساتھ پیدل جانا تھا۔ چار گھوڑے جن پر سجی سجائی زینیں رکھی تھیں وہ ہمارے خیموں کے باہر کھڑے تھے۔ آنے جانے کے سات سو روپے ایک گھوڑے کے طے ہوچکے تھے۔ ساجد نے ہمارے ساتھ بطو ر گائیڈ جانا تھا۔ ہم خیموں سے نکلے اور گھوڑوں پر سوار ہونے لگے ۔ ماریہ نے آیت کو اپنے ساتھ بٹھالیا۔ حجاب اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ گئی۔ کنول اور سندس الگ الگ گھوڑوں پر سوار تھیں اور گھوڑے رتی گلی جھیل کی طرف روانہ ہوئے ۔عون ، عبداللہ اور میں پیدل روانہ ہوئے۔ چڑھائی چڑھتے ہی گھوڑے کے پاﺅں پھسلے اور سندس نے شور مچانا شروع کردیا۔ گھوڑے کے مالک نے چلا کر بتایا کہ سندر باجی بول پڑی، سندر باجی بول پڑی۔۔۔۔۔
سندس کے چپ رہنے اور نہ بولنے سے گھوڑے والا بھی واقف ہوچکا تھا۔ گھوڑے رتی گلی جھیل کی طرف روانہ تھے اور راستے میں پڑنے والے گلیشئیرپر چلتے تھے ۔ اس گلیشئیرپر پیدل چلنے والوں نے بھی الگ الگ پگڈنڈیاں بنا رکھی تھیں جن پر جو راستوں کے معمولی سے نشان تھے وہ آسمان پر اس رگڑ کی طرح نمایاں تھے جسے کہا جاتا ہے کہ یہاں سے حضرت نوح علیہ السلام کا بیڑہ گزرا تھا جس کی رگڑ اپنی داستان سمیت نقش ہوتی گئی ، وہ آسمان سے اتر کر روایات اور کہانیوں کا حصہ بن گئی ، گلیشئیر پر جو گھوڑوں اور انسانوں کے پاﺅں کے نشانوں سے پڑنے والی رگڑ تھی، بالکل ویسی ہی تھی۔
گلیشئیر کے سامنے مخملی گھاس کا قالین بچھا تھا اور وہ مسلسل بلند ہوتی چٹان پر بچھا تھا ۔ بائیں جانب چھوٹی سی جھیل تھی جس کے ساتھ وہ ندی بہتی تھی جو شیشہ پانی کو رتی گلی جھیل سے نکال کر دریائے نیلم میں جا ملاتی تھی ۔ اس وقت ہمارے تمام گھڑ سوار اس بلند ہوتی جاتی چوٹی پر پہنچ چکے تھے او ر یقینا وہ جھیل کو بھی دیکھ چکے تھے مگر ہمارے انتظار میں جھیل کی طرف بڑھے نہیں تھے۔
خیمہ بستی سے اس گلیشئیر تک عبداللہ ڈوگر اور عون پیدل آئے اور بغیر تھکن کے آئے مگر اس آخری چڑھائی سے پہلے ہم تینوں کی بس ہوگئی۔ عبداللہ کو ساجد نے اٹھالیا اور تھکا دینے والی چڑھائی چڑھنے لگا مگر میں نے اپنے لئے دوسو روپے کے عو ض صرف اس چڑھائی کےلئے گھوڑا لیا ۔ اس قدر مشکل چڑھائی تھی جسے گھوڑا بھی زگ زیگ بناتا ہوا چڑھ رہا تھا کیونکہ مسلسل اوپر اٹھنا گھوڑے کے لئے بھی دشوار تھا۔
اس چڑھائی کے بعد ، مسلسل مشق اور چلہ کشی کا جو نتیجہ تھا وہ چند قدم کے فاصلے پر دھند میں ملفوف تھا اور اب اس کے اور ہمارے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker