تجزیےشوکت اشفاقلکھاری

ملتان کورونا میں تیسرے نمبر پر : اوکاڑہ میں ٹڈی پندرہ روپے کلو۔۔ شوکت اشفاق

پاکستان میں کرونا وائرس کی تباہیوں میں مزید تیزی آگئی ہے اور بات ایک دن میں اٹھاسی کے لگ بھگ اموات تک جا پہنچی ہے یہ صرف ایک دن میں نہیں ہوا ہے بلکہ اس حوالے سے متعدد مرتبہ بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے کیونکہ کئی بین الاقوامی ریسرچ اداروں نے انہی خدشات کا اظہار کیا تھا جو اس وقت سامنے ہیں کہ لاہور اس وقت مریضوں اور اموات میں پہلے اور ملتان تیسرے نمبر پر ہے لیکن دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک طرف تو سرکار نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا اور مختلف اوقات میں بے ربط بیانات جاری کرکے لوگوں میں اس وبائی امراض کے بارے میں ابہام پیدا کردیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ عوام نے سرکاری اور پرائیوٹ میڈیا پر دھیان اور توجہ کرنے کی بجائے سوشل میڈیا کی ہر سچی جھوٹی پوسٹ پر اعتماد کرنا شروع کردیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کہ جس میں پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل تھا،یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ کرونا نامی کوئی وائرس دنیا بھر میں تباہی پھیلاتا پھر رہا ہے اور اس جلتی پر تیل کا کام انہوں نے کردکھایا جنہوں نے عید کی شاپنگ کیلئے تمام بازار سمیت شاپنگ مال کھلوا دئیے جس پر تاجر برادری بھی سرکش ہوگئی اور حکومتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کاروبار جاری رکھنے کا اعلان کردیا،ایسے میں پبلک ٹرانسپورٹ والے پیچھے کیوں رہتے وہ بھی اپنی گاڑیوں کو میدان میں لے آئے۔اب اس کا رزلٹ جو آرہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے اور خدشہ ہے کہ رواں مہینے میں نہ صرف مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگا بلکہ اموات بھی بڑھیں گی،لیکن حیرت ہے کہ عوام کو سمجھ آرہی ہے اور نہ ہی حکومتی عہدیداروں کو کہ وہ یہ کیسے پھر رہے ہیں۔اگر مریضوں اور اموات کی تعداد ان کی توقع سے کم رہی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ تعداد ان کی سوچ اور توقع کے عین مطابق ہوتی۔
کتنی عجیب بات ہے کہ شکر ادا کر نے کی بجائے شکوہ ہورہا ہے حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر مریضوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو سرکاری بلکہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی مریض رکھنے کی گنجائش نہیں ہوگی مگر ان کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ پریس کانفرنس کرنے کے شوقین ہیں تاہم سوال کا جواب دینا ان کی توہین ہے،ایسی صورت میں اب ان سے خیر کی توقع رکھنے کی بجائے عوام کو چاہیے کہ وہ خود کچھ اپنا ہی خیال رکھ لیں اپنے اردگرد کے دوستوں،رشتہ داروں کو خصوصا بچوں کی فکر کریں کہ کرونا شکلیں اور عہدے نہیں پہچانتا ویسے بھی احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
دوسری طرف وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بین المذاہب یکجہتی کے حوالے سے ہندو تاجر چیلا رام کو اقلیتی کمیشن کا چیئرمین بنانے کو ایک مثبت پیغام قرار دیا ہے اور دنیا کی توجہ دلائی ہے کہ پاکستان میں نہ صرف اقلیتیں بلکہ ان کی عبادت گاہیں بھی محفوظ ہیں اور انہیں تمام حقوق حاصل ہیں جبکہ انڈیا میں اس کے برعکس ہے اور چار سو سالہ تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا ہے ۔یہاں جو اقلیتی کمیشن تشکیل پایا اس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کی نمائندگی موجود ہے۔انہوں نے چینی سکینڈل کے حوالے سے حکومتی کوششوں کو سراہا اور بتایا کہ حکومت سکینڈل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے گریزاں نہیں ہے بلکہ رپورٹ شائع کرکے کارروائی کی بنیاد رکھ دی ہے اوریہ بلا امتیاز ہوگی،انہوں نے سی پیک کے حوالے سے خدشات کو رد کردیا اور کہا کہ یہ ایک قومی منصوبہ ہے اور یہ قوم کی یکجہتی سے پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
ادھر این ڈی ایم اے نے ملک بھر میں ٹڈی دل کے خلاف آپریشن کی جو تفصیلات جاری کی ہیں اس کے مطابق ملک کے 52اضلاع میں یہ تباہیاں پھیلا رہا ہے تاہم اتھارٹی نے کنٹرول آپریشن کی نشاندہی کی ہے کہ 1102ٹیمیں اس آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں اور 4900ہیکڑ رقبے پر ادویات سے ٹریٹمنٹ کیا گیا جو چاروں صوبوں میں ہوا ہے تاہم اس کے کنٹرول کے حوالے سے کوئی بات نہیں بتائی گئی دوسری جانب اطلاعات کے مطابق جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں مقامی کاشتکار روایتی طریقے سے برتن،ڈھول اور شور مچا کر ٹڈیوں کو بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن کیونکہ یہ ایک دل ہے اس لئے اس طرح قابو میں آنا مشکل ہے جس سے ان متاثرہ علاقوں میں باغات،سبزہ،چارہ،سبزیوں اور کپاس کی فصل متاثر ہورہی ہے،ادھر کچھ زرعی ماہرین کو کہنا ہے کہ اگر ان ٹڈیوں کو رات کے وقت بڑی تعداد میں پکڑ لیا جائے تو یہ مرغیوں اور جانوروں کی اچھی خوراک ثابت ہوسکتی ہے۔اب یہ بات کس حد تک درست ہے اس کیلئے ماہرین سے پوچھنا پڑے گا کیونکہ زہر آلود سپرے کی وجہ سے یہ جاندار کیلئے مضر ثابت ہوسکتی ہے یہاں یہ بات اگردرست ثابت ہوئی تو پھر ٹڈی دل کا پاکستان میں زندہ بچنا مشکل ہوگا۔کیونکہ اس وقت کئی وجوہات کی بنا پر جانوروں اور مرغیوں کیلئے خوراک کی کمی ہورہی ہے جو اس سے پوری کی جاسکتی ہے۔ضلع اوکاڑہ میں یہ سکیم شروع کی گئی ہے اور 15سے 20روپے فی کلو ٹڈی خرید کی جارہی ہے اور اندازہ ہے کہ وہاں جلد اس کا خاتمہ ہوگا۔
ادھر عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے کرونا وائرس،ٹڈی دل اور مہنگائی کو عوام پر حکومتی ظلم قرار دیا ہے اور حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور انکشاف کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمن کو سیاسی دھوکہ نہ دیتی تو عوام کی جان ان نااہل حکمران سے چھوٹ چکی ہوتی،لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اس کے باوجود علیحدہ صوبے کے مطالبے کو بھولے نہیں ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خسرو بختیار،سردار نصراللہ دریشک سمیت جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کا نام استعمال کرنے والوں نے عمران خان اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے ساتھ مل کر اس خطے کے عوام کو دھوکہ دیا ہے اور صرف 100دنوں میں صوبہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے اب اس کا نام لینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ جھوٹ ووٹ لینے کیلئے بولا تھا۔عوامی راج کے سربراہ نے علیحدہ صوبے کے قیام کیلئے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ ملتان میں دس لاکھ افراد کو اکٹھا کرکے الگ صوبے کا مطالبہ کیا جائے گا۔انہوں نے موجودہ حکومت کے ارکان اسمبلی پر بھتہ خوری کا الزام عائد کیا،وزیر اعظم سمیت تمام وزراء جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں لیکن اب ان کے تمام جھوٹ بے نقاب ہوچکے ہیں اور کرونا کے نام پر تمام ادارے لوٹ مارکررہے ہیں جبکہ ٹڈی دل کے نام پر زراعت والے لوٹ مار کررہے ہیں،اب وقت ہے کہ ہم سڑکوں پر نکلیں اور عوام کے حقوق کی بات کریں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker