کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

رضا ربانی صاحب ذلتوں کے مارے لوگ انگریزی نہیں جانتے ۔۔ مستنصرحسین تارڑ

محترم چیئرمین سینٹ میاں
رضا ربانی صاحب، معزز خواتین و حضرات السلام و علیکم۔۔۔ اس الوہی شاندار تقریب میں شمولیت میری زندگی کی ایک بڑی خواہش تھی لیکن افسوس نہ صرف بڑھاپے نے بلکہ نصیب نے بھی میرا ساتھ نہ دیا اور یہ نصیب بھی گویا ایک طوائف ہے کہ میرا نہیں ڈونالڈ ٹرمپ کا ساتھ دیا صرف اس لیے کہ وہ کھربوں میں کھیلتا تھا اور ان دنوں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا سے کھیلتا ہے بلکہ کھل کھیلتا ہے۔۔۔ خدا ہم پر اور امریکہ پر رحم کرے۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ میاں صاحب نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے نثر کا چناؤ کیا اور براہ کرم انہیں ایک اور میاں صاحب سے گڈ مڈ مت کر دیجیے گا جو اظہار ہی نہیں کر سکتے۔۔۔ شاعری اور نثر کے درمیان فرق یہ ہے کہ شاعری حقیقت کے ساتھ منسلک نہیں ہوتی۔ واضح طور پر اپنے آپ کو حق کے سپرد نہیں کرتی قدرے Abstract سی رہتی ہے یعنی ’خون کے دھبے مٹیں گے کتنی برساتوں کے بعد‘۔۔۔ ویت نام، فلسطین، یا مشرقی پاکستان کے خون کے دھبے بھی ہو سکتے ہیں جب کہ نثر میں آپ واضح طور پر کسی بھی سانحے یا تاریخی تبدیلی کا حلفیہ بیان دیتے ہیں، آپ شاعری کی طرح مبہم نہیں ہو سکتے۔۔۔ گویا نثر میں آپ اپنے ہاتھوں سے اپنی F.I.R تحریر کرتے ہیں جس سے روگردانی ممکن نہیں ہوتی۔ اپنی موت کے پروانے پر خود ہی دستخط کرتے ہیں۔ جیسے امریکی الیکشن کی مہم کے دوران ہیلری کلنٹن نے نثر اور شاعری کے درمیان فرق کو کیا ہی خوب واضح کیا تھا کہ الیکشن کی مہم کے دوران امیدوار شاعری کرتے ہیں، خوشبودار باتیں اور رومانوی وعدے کرتے ہیں اور ووٹر کو خوش کرتے ہیں لیکن جب الیکشن جیت کر وہائٹ ہاؤس میں براجمان ہوتے ہیں تو پھر آپ حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے نثر لکھتے ہیں۔۔۔ وعدے نہیں کرتے، بلکہ خبردار کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہیلری نے نثر اور شاعری کے درمیان فرق کی تمیز کس سے سیکھی، عین ممکن ہے کہ مونیکا لونسکی نے اُسے یہ رمز سمجھائی ہو کہ وہ اس کے میاں کے ساتھ اعضاء کی شاعری کرتی رہی تھی۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میاں صاحب نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے انگریزی کا انتخاب کیا۔۔۔ انگریزی میں لکھنے کی بہت برکتیں اور حکمتیں ہیں۔ اردو کی مانند میری انگریزی بھی قدرے ناتواں ہے اگرچہ 1958ء کے انگلستان میں ایک طالب علم کے طور پر گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے ایک ریستوران میں انگریزوں کے برتن صاف کرنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے چنانچہ بقول کسے میں نے اپنی انگریزی، انگریز کے جھوٹے برتنوں سے پالش کی ہے۔ کچھ برس پیشتر میں نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں Diary of a Vagabond کے عنوان سے کالموں کا
ایک سلسلہ شروع کیا اور ظاہر ہے وہ انگریزی میں تھے تو اکثر لوگ میری تعظیم کرنے لگے۔ راستہ روک کر کہتے تارڑ صاحب ہمیں تو حیرت ہوئی کہ ماشاء اللہ انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں، آپ تو بہت پڑھے لکھے ہیں۔۔۔ یعنی میرے کچھ کام نہ آیا یہ کمالِ اردو نوازی۔۔۔ میری کئی درجنوں اردو کی کتابیں ایک طرف اور انگریزی کا ایک کالم اُن سب پر بھاری۔۔۔ یعنی سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔۔۔ اگرچہ لوہار حضرات کی انگریزی بھی ان دنوں اتنی اچھی نہیں ہے، وہ بھی پرچیوں سے ہی کام چلاتے ہیں۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ رضا ربانی نے اچھا کیا کہ اپنی ادبی اننگ کا آغاز انگریزی سے کیا، یوں وہ بھی پڑھے لکھوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
ایک مدت کے بعد میں نے کسی بھی افسانوی مجموعے کا ایک ایک افسانہ حرف بہ حرف پڑھا ہے بلکہ “Invisible people” نے مجھے پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اُن کی ہر کہانی فکشن کے اُس طے شدہ معیار پر پوری اترتی ہے یعنی ۔۔۔ بڑی نثر “Suspension of disbelief” ہوتی ہے۔۔۔ بے یقینی کو اپنے زور بیان سے معلق کر دیتی ہے۔۔۔ مثلاً “Impolroned Law” کی نادار لاچار بڑھیا جب کہتی ہے کہ ’’تو مجسٹریٹ ہے‘‘ وہ انصاف کے لیے دھکے کھاتی پھرتی ہے اور بالآخر اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے چلی جاتی ہے تو میں فراموش کر گیا کہ یہ محض ایک کہانی ہے۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ میں ہی وہ بڑھیا ہوں جو انصاف کی تلاش میں در بدر ہوتی ہر شخص سے پوچھتی ہے کہ کیا تو ہی مجسٹریٹ ہے، میں تو لٹ گئی۔ وہ بڑھیا ساغر صدیقی میں تو ہو سکتی ہے جس نے فریاد کی تھی کہ ’جس دور میں فقیروں کی کمائی لٹ جائے اُس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے‘۔
ایک ہسپتال کے باہر وہ جو بوڑھا بے آسرا پڑا ہے اور وہ ’’راکھ کا پھول‘‘ ہے بلکہ ’’دھول کا پھول‘‘ ہے۔
’’Innocense Lost‘‘ بھی کیسی کمال کی کہانی ہے۔۔۔ اس کی بنت ایسی ہے جیسے ایک جولاہا اپنی کھڈی پر ایک کھیس بنتا ہے، ایک معصومہ پنجرے کھول کر پرندوں کو آزاد کرتی ہے۔ ایسے خواب ہیں جو کرچی کرچی ہو رہے ہیں۔ سونے کا ایک کلپ ایک خون آلود مٹی میں سے ظاہر ہوتا ہے۔۔۔ ایک شخص مرنے کے بعد اپنی کہانی سناتا ہے۔ “Dead man walking” اسے پڑھتے ہوئے نصرت فتح علی خان کا وہ الاپ کانوں میں اترتا ہے جو اس نے اسی نام کی فلم کے لیے ترتیب دیا تھا۔
تو کیا ہم سب بھی مر چکے ہیں لیکن ابھی تک چلتے پھرتے ہیں۔ ’’کبوتر‘‘ ہیرا منڈی کی کبوتر لڑکی۔۔۔ ’’الجھ چکے دھاگے‘‘ ہم سب کی داستان۔ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کے ثقافتی اور مذہبی الجھاؤ کا المیہ۔ میری سب سے پسندیدہ کہانی “When a part of you dies” ہے۔۔۔ جن کی مائیں مر جاتی ہیں وہ یتیم ہو جاتے ہیں اور جن کے باپ مر جاتے ہیں ان کے بدن کا ایک حصہ بھی اُن کے ساتھ مر جاتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے ایک ’’چھوٹی سی بات‘‘ اپنی صبح کی نشریات کے آخر میں کہی تھی کہ جب ماما مرتی ہے تو چاندنی مدھم ہو جاتی ہے اور جب باپ چلا جاتا ہے تو سورج بجھ جاتا ہے۔
بے شک یہ کہانیاں فرانزفینن کے “The wretched of the earth” لوگوں کی ’’ذلتوں کے مارے لوگوں‘‘ کی ذلت آمیز حیات کے قصے ہیں۔ لیکن یہ انگریزی زبان میں ہیں اور ذلتوں کے مارے لوگ انگریزی نہیں جانتے۔ اگر ان کہانیوں کو ان زبانوں میں بھی ترجمہ کر کے شائع کروایا جائے جو ذلیل لوگوں کی زبانیں ہیں تو وہ جان جائیں گے کہ ہاں اس سر زمین پر کوئی رضا ربانی نام کا لکھنے والا موجود ہے جو ہماری حیاتی کی کلفتوں، ذلتوں اور رسوائیوں کو بیان کرتا ہمارے ساتھ کھڑا ہے، ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہمارے پاس پاجامہ بھی نہیں ہے اور اُن کے پاس پانامے ہیں۔۔۔شکریہ!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker