ادبکالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

ڈوب چکے شامی بچے کے لئےایک کھلونا ۔۔ مستنصر حسین تارڑ

انسان کے اندر جو ہمدردی کا جذبہ ہوتا ہے، وہ جو درد دِل ہوا کرتا ہے کسی اور انسان کے لئے تو اس کی بنیاد کیا ہے۔۔۔ مذہب، ملک، زبان، رنگ اور نسل یا ثقافت یا روایت، میں اس کا فیصلہ آج تک نہیں کر پایا، کسی نتیجے پر نہیں پہنچا البتہ میرا تجربہ یہی کہتا ہے کہ اس کا تعلق مندرجہ بالا عوامل سے عموماً نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ جذبہ ان سے بالاتر ہوتا ہے۔ ایک انسان کے اندر کسی اور انسان کے لئے ہمدردی کا جذبہ مذہب اور ملک، رنگ و نسل وغیرہ سے نہیں پھوٹتا بلکہ یہ انسانیت کی سب سے ارفع اقدار میں شامل ہے۔۔۔اس کے لئے صرف ایک انسان ہونا شرط ہے یعنی آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔۔۔یہ ایک چھوٹی سی خبر تھی ایک غیرملکی اخبار میں جس نے مجھے آبدیدہ کردیا۔۔۔ آپ آگاہ ہیں کہ ان دنوں شام میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔ جس مسلم امہ کے ہم پاکستانی خواب دیکھتے ہیں اُس کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ ایک جانب صدر اسد کی سرکار ہے اور میں جب کبھی اُس شخص کو دیکھتا ہوں تو مجھے شاہ دولا شاہ کے چوہوں کا خیال آجاتا ہے، اُسے روس اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔ صدر اسد کے خلاف قوتوں کو ترکی، کردستان اور سعودی عرب سپورٹ کر رہے ہیں اور ان کے سوا داعش جسے سعودی عرب نے جدید اسلحے سے لیس کیا۔ یہ سب آپس میں برسرپیکار ہیں اور روس کے سوا اللہ کے فضل سے سب کے سب مسلمان ہیں۔۔۔ کم از کم سب لوگ اپنے آپ کو ہی مسلمان سمجھتے ہیں، اور ہم دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں۔ ان دنوں حلب ایک میدانِ جنگ ہے، پورا شہر کھنڈر ہو چکا اور لاکھوں شامی مہاجرین ترکی اور یونان کے راستے یورپ میں پناہ لینے کے لئے دربدر ہوتے ہیں، بھوک سے مرتے ہیں اور اُن کے بچے سمندروں میں ڈوبتے ہیں۔ شامیوں کو پناہ کون دے رہا ہے۔۔۔مسلم اُمہ نہیں، ہرگز نہیں۔ سوائے ترکی کے۔۔۔یہ جرمنی ہے جس نے ان میں سے بیشتر کو کھلے ہاتھوں پناہ دی ہے۔ مرکل جسے یورپ کی آئرن لیڈی کہا جاتا ہے اُس کی سیاسی مقبولیت کا گراف اس لئے نیچے آگیا کہ اُس نے لاکھوں بے سہارا شامیوں کو خوش آمدید کہا۔۔۔ اور جب اُس سے پوچھا گیا کہ شامیوں کو پناہ دے کر اُس نے کیوں اپنا سیاسی مستقبل مخدوش کرلیا ہے تو اُس نے کہا تھا کہ ۔۔۔ مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ ہم ایک تہذیب یافتہ قوم
ہیں۔۔۔ میں تو شامیوں کی شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اپنے آپ کو تہذیب یافتہ ثابت کرسکیں۔ شامی مہاجرین مرکل کو اپنی ماں کہتے ہیں، حلب کے کھنڈروں کو دیکھ کر میرے دل میں ایک ہُوک اٹھتی ہے کہ وہاں میرے دل پسند صحابی خالد بن ولیدؓ کا مقبرہ ہے اور میں نے سفرِ شام کے دوران وہاں حاضری دی تھی۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ حلب کی وہ شاندار اور قدیم پن چکیاں ابھی تک موجود ہیں یا اُن کے پانی بھی برباد ہو چکے۔۔۔اُدھر یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے ناتجربہ کار پائلٹوں نے وہاں کے ایک وزیر کے ایک عزیز کے جنازے کے موقع پر بمباری کرکے جنازے میں شامل تقریباً پونے دو سو شہریوں کو ہلاک کرڈالا۔ ویسے فرض کیجئے کہ اگر سعودی عرب کے کسی وزیر کے عزیز کے جنازے پر یمن کی ایئرفورس حملہ کرکے پونے دو سو سعودی مار ڈالتی تو ہر جانب کیسی ہاہاکار مچ جاتی۔۔۔ معاف کیجئے گا میں شام سے بھٹک کر یمن چلا گیا۔ میں تو اُس چھوٹی سی خبر کاتذکرہ کر رہا تھا جو ایک غیرملکی اخبار میں شائع ہوئی اور مجھے آبدیدہ کردیا۔۔۔جرمنی کے ایک صاحب ہیں، شادی شدہ اور بچوں والے۔۔۔اُن کے بیوی بچے اُن کے لئے بہت فکر مند رہتے ہیں، وہ اپنا کام کاج ترک کرکے گلیوں میں بچوں کے کھلونے جمع کرتے ہیں۔ صدائیں لگاتے ہیں کہ اپنے بچوں کے فالتو کھلونے مجھے دے دو۔۔۔ اُنہیں کوڑے میں نہیں پھینکو مجھے دے دو۔۔۔اُن کے پاس اگر کچھ پونجی ہے تو وہ اُس کو بھی خرچ کرکے بچوں کے کھلونے خریدتے ہیں اور پھر اُنہیں کارٹن اور سوٹ کیسوں میں پیک کرکے نکل کھڑے ہوتے ہیں، پورا یورپ عبور کرکے ترکی پہنچتے ہیں اور وہاں سے شام میں داخل ہوتے ہیں اور یہاں موت حکمران ہے، وہ کسی بھی دھماکے میں ہلاک ہوسکتے ہیں، کسی بے راہرو گولی کا شکار ہوسکتے ہیں اور اگر داعش کے ہتھے چڑھ گئے تو ذبح بھی کئے جاسکتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنے کھلونوں کے سُوٹ کیس گھسیٹتے برباد ہوتے حلب تک پہنچ جاتے ہیں، حلب کے فاقہ زدہ اور اکثر زخمی بچے اس کھلونوں والے گورے سے واقف ہیں اور وہ اس کے گرد ہجوم کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے سُوٹ کیس اور کارٹن کھول کر بچوں میں تقسیم کرتا ہے، اُن سے کچھ باتیں کرتا ہے اور پھر واپسی کا سفر اختیار کرلیتا ہے۔ وہ شام کے متعدد ایسے سفر کرچکا ہے۔ اُس سے جب پوچھا گیا کہ وہ محض شامی بچوں میں کھلونے بانٹنے کے لئے اتنا تردد کیوں کرتا ہے، اپنی جان کو داؤ پر کیوں لگاتا ہے تو اُس نے نہایت سادگی سے کہا ’’میں نے جب سے اُس شامی بچے کی تصویر دیکھی ہے جس میں وہ مردہ حالت میں ایک کھلونا لگتا سمندر کے کنارے پڑا ہے میری راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں نے اُس بچے کو ڈبویا ہے۔۔۔ میرے فریاد کرنے سے تو شام کی جنگ بند نہیں ہوگی۔۔۔تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔ کم از کم شامی بچوں میں کھلونے تو بانٹ سکتا ہوں۔۔۔ شاید اُن میں کوئی ایک بچہ وہی ہو جو سمندر کنارے ایک کھلونے کی مانند مردہ پڑا تھا۔
ایک عرب بادشاہ نے لندن کے مہنگے ترین سٹور ’’ہیرڈز‘‘ کے بچوں کے کھلونوں والی پوری منزل میں نمائش شدہ کھلونے خرید کر پورا جہاز بھر کراپنے بچوں کے لئے بھجوا دیا تھا۔ کیا اُن میں سے کوئی ایک کھلونا بھی ڈوب چکے شامی بچے کے نصیب میں نہ تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker