اختصارئےادبشاعریلکھارینوازش علی ندیم

جون بھائی :اپناجانی دشمن ۔۔ نوازش علی ندیم

جون بھائی کی شاعرانہ عظمت کے بارے میں تو دو آراء نہیں ہو سکتیں ، وہ بلاشبہ ایک عالم اور ایک بڑے شاعر تھے جنہوں نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا ۔ وہ عربی ،فارسی ،سنسکرت اورعبرانی زبانوں سے واقفیت رکھتے تھے ۔ان کے پہلے شعری مجموعے ”شاید“کادیپاچہ ان کی علمی حیثیت کامنہ بولتاثبوت ہے ۔ان کے انشائیے بھی انسان کومسحورکر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔خوبصورت نثر اور فلسفے میں گندھی ہوئی تحریر قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
بطور شاعر جون بھائی ایک منفرد آدمی تھے ۔انہوں نے مختصر بحر کی غزلوں میں اتنی بے پناہ اوردلاآویز شاعری کی ہے جو انہیں زندہ رکھنے کے لئے بہت کافی ہے۔
زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں

حاصلِ کُن ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

عشق ،عشق اورعشق یہ ان کی شاعری کاتعارفی لفظ ہے ،جون بھائی نے زندگی میں بہت عشق کئے ،بھرپورعشق اور ہر عشق میں ان کارویہ ابتدائی عشق کا سا ہے۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟

لیکن ایک عجیب رویہ جو جون بھائی کے ہاں نظر آتا ہے وہ ان کی خود اذیتی اور زندگی سے گریز کا رویہ ہے۔ان کی تکیہ کلام ”جانی “تھا اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہی جانی دشمن تھے ۔انہوں نے دھیرے دھیرے خودکشی کی ۔بے پناہ شراب نوشی انہیں لے ڈوبی ۔مشاعروں میں ان کی شرکت مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت تھی۔ان کا شعر سنانے کا انداز اور پھر اتنی جاندار شاعری ،سامعین انہیں فرمائش کر کے ان کی شاعری سنتے تھے ۔ان کی شاعری نہ صرف محبت کی لازوال شاعری ہے بلکہ اپنے عہد کا آئینہ بھی ہے ۔

نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
اُس نے توکارِِجہل بھی بے علماء نہیں کیا

یہ اور اس جیسے کئی اشعاران کے ہاں عصری شعورکا
بھرپوراظہاریہ ہیں ۔جون ایلیاء اور احمدفراز دو ایسے شاعر ہیں جو نوجوان نسل مین بہت محبوب رہے ۔فراز صاحب تو خیر زندگی بھرمحبوبوں کے محبوب رہے اور اگر پذیرائی کے حوالے سے دیکھا جائے تو فراز کو عمر بھر جو محبتیں حاصل رہیں وہ خوش قسمت لوگوں کو ہی ملتی ہیں مگر جون بھائی بھی ان سے کم نہیں تھے ۔دونوں نے بھرپورمحبت اور بھرپور بغاوت کی ۔فراز صاحب کی نظم محاصرہ کون بھلا سکتا ہے ،اسی طرح جون بھائی کاباغیانہ لحجہ بھی کتنادلکش ہے ۔

اے خدا(جوکہیں نہیں موجود)
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں
یا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟
اور ایک باغیانہ شعر کچھ یوں ہے

اب مجھے کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یونہی ہوتاہے خاندان میں کیا؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker