اہم خبریں

پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ : نون لیگ کے چھ ارکان کے داخلے پر پابندی

لاہور : پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2018-19 کے 8 ماہ کا بجٹ پیش کردیا گیا ،مجموعی حجم 20کھرب 26ارب 57کروڑ روپے ہے ۔اس موقع پر شدید ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ دیکھنے میں آئی ۔ اپوزیشن کے ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔ سالانہ ترقیاتی اخراجات کے لیے 238 ارب ،تعلیم کے لیے 373 ارب اورشعبہ صحت کے لیے 284 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔صوبائی وزیر خزانہ ہاشم بخت نے 8ماہ کا بجٹ ایوان میں پیش کیا ،ان کے مطابق بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے ،دوسری طرف بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شورشرابہ اور نعرے بازی کی ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ انصاف صحت کارڈ بھی متعارف کروایا جاریا ہے ، لیپ ٹاپ اسکیم ختم جبکہ میٹرو اور اورنج ٹرین کے منصوبے جاری رہیں گے۔اجلاس ختم ہونے کےبعد اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی احتجاج کیا اورنعرےبازی جاری رکھی ۔دوسری جانب اسپیکر پرویز الٰہی نے صوبائی بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے 6 ارکان کےپنجاب اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی ہے ۔ترجمان اسپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق ن لیگ کے ایم پی اے اشرف رسول ،محمد وحید ،یاسین عامر ،مرزا جاوید ،زیب النساء اور طارق مسیح گل کےصوبائی اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی ہے ۔ترجمان کے مطابق ن لیگ کے ان 6 ارکان پر پورے سیشن کےلئے پابندی لگائی گئی ہے ۔ترجمان کے مطابق ان ارکان نے اسمبلی میں گالم گلوچ اور توڑ پھوڑ کی جس سے ایوان کا تقدس مجروح ہوا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker