لاہور : آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں اپنی بیوی کی سلامتی سے متعلق گہری تشویش ہے۔ عاشق مسیح کے بقول انہیں خوف ہے کہ آسیہ بی بی پر ان کی رہائی سے قبل جیل میں ہی حملہ کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی مسیحی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو اپنے خلاف توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا۔ انہیں 2010ء میں سزائے موت سنا دی گئی تھی لیکن اکتیس اکتوبر بدھ کے روز پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ان کی سزائے موت کے دو ذیلی عدالتوں کے گزشتہ احکامات منسوخ کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے دو روز بعد یہ افواہیں بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ آسیہ کو جیل سے رہا کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر بیرون ملک بھجوایا جا چکا ہے۔ تاہم پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل شاہد سلیم بیگ نے ہفتہ تین نومبر کو ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے یہ تصدیق کر دی تھی کہ آسیہ ابھی تک پنجاب ہی کی ایک جیل میں ہیں اور جیل حکام ان کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ کے تحریری احکامات اپنے تک پہنچنے کے انتظار میں ہیں۔اس پس منظر میں آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے ہفتہ تین نومبر کو ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انہیں اپنی اہلیہ کی سلامتی کے بارے میں گہری تشویش لاحق ہے اور آسیہ بی بی پر ممکنہ طور پر جیل کے اندر ہی کوئی حملہ بھی کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ قریب دس برسوں سے جیل میں قید آسیہ نورین عرف آسیہ بی بی کے شوہر نے ڈوئچے ویلے کو بتایاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے آسیہ کی رہائی کے حکم کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو رکوانے کے لیے جس طرح حکومت اور مظاہروں پر اتر آنے والے مذہب پسند مسلم گروپ تحریک لبیک کے مابین معاہدہ ہوا ہے، اس نے ’’ہمیں مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔‘‘عاشق مسیح نے کہا، ’’میں، میرا خاندان، میرے دوست، ہم سب خوفزدہ ہیں۔ ایسا کوئی بھی معاہدہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جب سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس مقدمے میں ہر طرح کے حالات و واقعات اور تمام ممکنہ تفصیلات کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سنایا ہے، تو پھر حکومت کو متشدد مظاہرین کے ساتھ ایسا کوئی سمجھوتہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میری رائے میں سپریم کورٹ کو اس معاملے کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔‘‘
Previous Articleچولستان کے مسئلے کب حل ہونگے؟…( 1 )۔۔ظہور دھریجہ
Next Article محمود شام : رحمٰن کے مہمان ۔۔ شاکر حسین شاکر

