اہم خبریں

آسیہ کیس میں ہنگامہ آرائی پر 1800 افراد گرفتار

اسلام آباد : وزارت داخلہ کے مطابق مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق جو افراد املاک کو نقصان پہچنانے، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔گذشتہ ہفتے آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف موت کی سزا کے فیصلے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لیبک پاکستان کے کارکنوں کی طرف سے ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا تھا۔بی بی سی کے مطابق جن شہروں میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، شیخوپور اور کراچی قابل ذکر ہیں۔وزارت داخلہ کے ایک اور اہلکار کے مطابق گرفتار ہونے والے وہ افراد جو صرف مظاہروں میں شریک تھے اور کسی بھی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے میں ملوث نہیں پائے گئے تو ان کے خلاف محض دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔معاہدے کے بعد جب لوگ منتشر ہوگئے اور تمام شاہراہیں کھول دی گئیں تو اس کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی دارالحکومت میں گرفتار ہونے والے 120 مظاہرین میں سے 10 افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے اُنھیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فوار چوہدری نے بھی لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ واپس نہیں لیے جائیں گے۔پولیس افسر ایس پی لیاقت نیازی کے مطابق اب تک پچاس سے زائد ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے اور ان افراد کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔اطلاعات کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے انھیں متعقلہ عدالتوں میں پیش کر کے کچھ کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ کچھ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker