نوشہرہ: مولانا سمیع الحق کے خاندان نے پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کی جانب سے قبر کشائی کی درخواست مسترد کر دی۔ راولپنڈی پولیس نے مولانا سمیع الحق کی قبرکشائی کے لیے باضابطہ درخواست دائر کی تھی ۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی ضروری ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشہرہ کو ارسال کر دی جب کہ قبر کشائی کے لیے سول جج محمد ولی مہمند کو جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے مولانا سمیع الحق کے ورثاء کو قبر کشائی کے لیے 20 نومبر کے سمن جاری کر دیئے ہیں۔دوسری جانب مولانا عرفان الحق کا کہنا ہے کہ جے یو ائی (س) مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی کی استدعا کو یکسر مسترد کری ہے۔مولانا عرفان الحق کے مطابق قبرکشائی غیر شرعی فعل ہے اور ہم مولانا سمیع الحق کی لاش کی بے حرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ان کا کہنا ہے کہ قانون میں پوسٹ مارٹم کرانے یا نہ کرانے کا اختیار ورثا کے پاس ہے۔خیال رہے کہ جے یو آئی (س) کے سربراہ اور سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کو دو نومبر کو راولپنڈی میں ان کی رہائشگاہ پر قتل کر دیا گیا تھا۔سوشل میڈیا پر ان کے قتل کی بعض تصاویر بھی سامنے آئیں جن کے بارے میں ان کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ جعلی تصاویر ہیں ۔ ان تصاویر میں ان کے بیڈ روم میں شراب کی بوتلیں بھی نظر آ رہی تھیں ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

