شاکر حسین شاکرکالملکھاری

ملتان، ادب اور تصوف: ڈاکٹر مختار ظفر کی گراں قدر تصنیف ۔۔شاکر حسین شاکر

ملتان کا ذکر آتے ہی ”ملتانِ ما بہ جنتِ اعلیٰ برابر است“ یا ”ملتانِ ما بہ روضہ رضواں برابر است“ جیسے مصرعے ذہن میں آتے ہیں۔ کہ یہ اولیاءکی نگری ہے، امن کی سرزمین ہے۔ اس کو ملتان شریف بھی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ملتان کا شہرہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ یہ شہر کبھی حکمرانی کرتا ہے، کبھی اس کے باسی احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن زندگی یہاں کی سڑکوں، گلیوں اور کوچوں میں دَم بدم رہتی ہے۔ یہ شہر کبھی اپنی عبودیت پر فخر کرتا ہے تو کبھی یہ شہر اپنی قدامت پر ناز۔ یہ شہر سمندر کی طرح گہرا اور آسمان کی طرح پُرکشش۔ بارش کی پھوار کی طرح پُرنم اور سائے کی طرح ٹھنڈا۔ یہاں کے لوگ روشن چہروں کے ساتھ اس کی توقیر میں اضافے کے لیے مصروفِ عمل۔ یہ شہر علم و ادب کا گہوارہ اور محبتوں کا پیامبر۔ کبھی اس کی صبح روشن اور کبھی اس کی شام خون سے رنگین۔ یہ اس شہر کے مختلف رنگ جو یہاں کے بسنے والوں کو ہمیشہ آباد و شاد رکھتا ہے۔ یہاں کے صوفیا کا کلام امن کا پیام ہے۔ یہاں کے تہوار زندگی کا پیغام ہیں۔ تہذیبی اور سماجی رویے اس شہر کا طرہ امتیاز۔ یہ شہر ہر اعتبار سے مکمل شہر ہے۔ ادب کا دبستان، علم کا گلستان اور ملتان سب کا مان۔ یہاں کی موسیقی، شاعری، مصوری غرض کس کا ذکر کریں اور کس کا چھوڑ دیں۔ ہر شعبے میں دھنک رنگ دکھائی دیتے ہیں اور ان رنگوں کو اپنے قلم سے جولانیاں بخشتے ہیں یہاں کے لکھنے والے۔ اور ان لکھنے والوں میں ایک اہم اور منفرد نام ڈاکٹر مختار ظفر جو سراپا ملتانی ہیں۔ کبھی علامہ عبدالرشید طالوت کی علمی و ادبی روایت پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی فکرِ اقبال کے نمائندہ شاعر اسد ملتانی پر قلم اٹھاتے ہیں۔ وہ خطہ ملتان کی قومی شعری روایت میں محمد عبداﷲ نیاز کے بارے میں کام کرتے ہیں تو پھر اپنے دامن میں علامہ عبدالرشید طالوت کے اسلامی اور نظریاتی افسانے بھر کر لاتے ہیں۔ جب انہوں نے ڈاکٹریٹ کرنا چاہی تو ملتان کی اُردو شعری روایت کو موضوع بنایا۔ کبھی وہ خواجہ غلام فرید کی آفاقی اور سرمدی شاعری کو اپنے قلم کی جولانیاں بخشتے ہیں تو کبھی تازہ کتب کو سامنے رکھ کے تبصروں کے انبار لگائے جاتے ہیں۔ محب وطن ہونے کے ناتے وہ ”شاعرانِ خوش نوا“ اور ”پاکستانیات“ کے نام سے کتابیں منظر عام پر لاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ڈاکٹر مختار احمد ظفر کے قبضہ قدرت میں اور کتنے موضوعات ہیں۔ آج کل ہم اُن کا سفرنامہ پڑھ رہے ہیں۔ جو یقینا جلد ہی پڑھنے والوں کے ہاتھ میں ہو گا لیکن اس سب کے باوجود وہ ملتان کی ہر تقریب میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہیں۔ وہ فی البدیہہ بات کرنے کا ہنر جاننے کے باوجود علمی ادبی تقریبات میں لکھ کر عزت افزائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے مسلسل لکھنے کی وجہ سے وہ اس وقت ملتان میں سب سے زیادہ نثری کتابیں لکھنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
حال ہی میں اُن کی تازہ تصنیف ”ملتان، ادب اور تصوف“ کے نام سے منظرِ عام پر آئی ہے۔ اس کتاب کے تین ابواب ہیں۔ پہلے باب کا نام ”ملتانیت“، جبکہ دوسرے کا نام ”تصوف“ اور تیسرے کا نام ”ادب“ ہے۔ اس کتاب میں مختلف موضوعات پر اکتیس مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کتاب کا سب سے اہم حصہ دوسرا باب تصوف ہے جس میں ڈاکٹر مختار ظفر نے ملتان کے اولیائے کرام کی تعلیمات کو عصری تقاضوں کے تحت قلم بند کیا ہے۔ خاص طور پر حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سے عالمِ خواب کا جو مکالمہ ہے وہ بالکل نیا اسلوب رکھتا ہے۔ اور کسی بھی بزرگ کے متعلق یہ تحریر منفرد روحانی تاثر رکھتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ماضی بعید کی کچھ یادوں کو تازہ کیا اور کہیں پر انہوں نے اپنے ہم عصر ادیبوں شاعروں پر کھلے دل سے قلم اٹھایا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں میری تصانیف میں ملتان ہی بولتا ہے۔ مَیں ملتان سے باتیں کرتا ہوں۔ اس زمانے کی باتیں جو میرا زمانہ ہے اور اس زمانے کی کہانیاں بتاتا ہوں جو مجھے کتابوں نے بتایا اور تاریخ کی کتابوں نے پڑھایا۔ ڈاکٹر مختار ظفر یہ بھی کہتے ہیں کہ میری یہ کتاب تاریخ نہیں ہے بلکہ تاریخی تناظر ہے۔ تہذیبی بازیافت کے کچھ اشاروں پر مشتمل وہ مقالے جو میرے مشاہدے کا حاصل اور میری سوچ کا ثمر ہے۔ ان مقالات میں ڈاکٹر مختار ظفر ملتان کی اُن شاموں کا تذکرہ کرتے ہیں جہاں کبھی اندھیرا نہیں ہوتا۔ وہ روشن چہروں کے ساتھ اُجلی رہتی ہیں۔ ملتان کا یہ چہرہ ڈاکٹر مختار ظفر نے بڑی محنت سے بنایا ہے۔ اس میں تصوف بھی ہے اور ادب بھی۔ یہ تاریخ کے اُن گوشوں کو ہمارے سامنے لاتا ہے جو ہزاروں کتابوں کے نیچے گم ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر مختار ظفر پیرانہ سالی کے باوجود ملتان کی تاریخ کو ایک مرتبہ پھر ہمارے مطالعے کی میز پر لے کر بیٹھے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ
ملتانِ ما بہ جنتِ اعلیٰ برابر است
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker