اہم خبریں

آرم سٹرانگ کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی سائنس دان کی کبیروالا میں گم نام موت

ملتان 🙁 شاکر حسین شاکر سے ) پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے ماہر عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر سید سرور نقوی25 مئی کو کبیروالا میں انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 77 برس تھی ۔ انہیں کبیروالا کے نواح میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر سرور نقوی یونیورسٹی انسٹی آف ایئر سپیس سمیت پاکستان میں خلائی تعلیم کے مختلف اداروں سے بھی منسلک رہے اور ان اداروں کے قیام میں بھی ان کی شبانہ روز کاوشوں کا بہت دخل رہا وہ یونیورسٹی آف ایئرسپیس کے بانی کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا بیشتر وقت بیرون ملک گزارا ، ڈاکٹر نقوی نے 1958ء میں لارنس سکول کراچی سے میٹرک اور ڈی جے سائنس کالج کراچی سے 1960 میں انٹر میڈیٹ کیا ۔ 1961 ء میں وہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی سے بی ایس سی آنرز کے بعد لندن چلے گئے اور باقی تعلیم بیرون ملک حاصل کی ۔امریکہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کے بعد وہ ناسا اور دیگر اداروں سے منسلک ہو گئے ۔ناسا میں انہوں نے نیل آرم سٹرانگ کے ساتھ کام کیا ۔ وہ اس ٹیم کے رکن تھے جس کی کوششوں سے انسان نے چاند پر پہلا قدم رکھا ۔ وہ خلائی شٹل تیار کرنے والی ٹیم کے بھی رکن رہے ۔ اسلام آباد میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہنے کے بعد وہ کبیر والہ آ گئے اور چند برسوں سےکبیروالا کے نواح میں مقیم تھے ۔ سرور نقوی کا 25 مئی 2018 کو انتقال ہو گیا ان کو کبیروالا کے نواح میں سپردخاک کر د یا گیا ۔ ہمارا با خبر میڈیا پاکستانی سپوت کی گم نامی میں موت سے بے خبر رہا ۔ ڈاکٹر سرور نقوی کے چار بیٹے تھے ۔ایک بیٹے کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہو گیا تھا اور باقی تین بیٹے بیرون ملک مقیم ہیں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker