2018 انتخاباتاہم خبریںخیبر پختونخواہ

قومی اسمبلی اور پختونخوا میں جنون کی جیت :ن لیگ نے نتائج مسترد کر دیئے

اسلام آباد : پاکستان کے 11 ویں انتخابات عوام کی بھرپور اُمنگوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے جس کے بعد بتدریج پولنگ اسٹیشنز سے نتائج موصول ہونا شروع ہورہے ہیں، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے تقریباً 20 فیصد پولنگ اسٹیشنز سے حتمی سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔اب تک موصول ہونے والے حتمی سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 270 نشستوں میں سے تحریک انصاف نے 105، مسلم لیگ (ن) نے 71 جبکہ پیپلز پارٹی نے 39 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے جبکہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں جشن منانا شروع کردیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مفاد کی خاطر ہم نے اس سے قبل مختلف معاملات پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ آج جو کیا گیا وہ 30 سالوں میں کبھی نہیں ہوا، دھاندلی پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے انتخابی نتائج پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کے بعد وضاحت کی ہے کہ شکایات پر تحقیقات کی جائے گی۔ای سی پی کے سیکریٹری محمد یعقوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر انتخابات کے حوالے سے شکایات ہیں،وہاں نتائج کو چیک کیا جائے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، متحدہ مجلس عمل اور تحریک لبیک پاکستان نے بھی انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔اب تک موصول ہونے والے قومی اسمبلی کی 270 نشستوں کے 20 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے حتمی سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے 105، مسلم لیگ (ن) نے 71 جبکہ پیپلز پارٹی نے 39 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔متحدہ مجلس عمل نے 9، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 7 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی قومی اسمبلی کی 7 نشستیں جیت لی ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker