2018 انتخاباتاہم خبریں

معاہدے کے دو روز بعد ہی ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں اختلافات

کراچی :ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں تحریری معاہدے کے دو روز بعد ہی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشان بنایا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر فردوس شمیم نقوی نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ایم کیو ایم کے حوالے سے جو باتیں کی تھیں اس پر آج بھی قائم ہیں اور یہ اتحاد مجبوری سے ہی کیا گیا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ’ہم مجبوری میں ایم کیو ایم پاکستان کے پاس گئے تھے اور اتحاد بھی مجبوری میں ہی کیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پر ہم نے جو الزامات لگائے تھے آج بھی ان پر قائم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نےعمران خان کو وزیراعظم کے لیے ووٹ پورے کرنے تھے اس لیے ہمیں ایم کیو ایم کی حمایت کی ضرورت تھی، اور مجبوری کے تحت ہمیں ان کے پاس جانا پڑا۔پی ٹی آئی کراچی کے صدر نے کہا کہ ایم کیو ایم کو الیکشن 2018 میں شکست میئر کراچی وسیم اختر کی خراب کارکردگی کے باعث ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج سے ہم نے کراچی کو پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کو قومی دھارے کی سیاست کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کراچی شہر کے لیے 10 سال میں ایک بوند پانی کا اضافہ نہ کرسکے آپ ان پر کیسے بھروسہ کریں گے، کراچی میں جن لوگوں نے 35 سال پہلے جو وعدے کیے تھے انہوں نے آج تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی صفوں میں کسی بھی مجرم کو داخل ہونے نہیں دے گی۔پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ’اگر شروع میں ہی ایسا رویہ رکھا گیا تو آگے مشکلات بڑھ جائیں گی‘۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کے سامنے ہم یہ معاملہ رکھیں گے کہ قوم کے سامنے آکر بتایا جائے کہ کیا مجبوری تھی۔واضح رہے کہ اس سے قبل میئرکراچی اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا تھا کہ ان کی جماعت کے پاس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ عوام مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو آزما چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخابات میں کراچی میں پی ٹی آئی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ ایم کیو ایم کو 4 نشستیں ملی تھیں بعد ازاں پی ٹی آئی نے مرکز میں حکومت سازی کے لیے ایم کیو ایم پاکستان سے رابطہ کیا تھا۔ایم کیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے دو روز اسلام آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں حکومت سازی کے اتحاد کے ساتھ ساتھ کراچی میں دھاندلی کے حولے سے ایم کیو ایم کے تحفظات کا جائزہ لینے اور دیگرمعاملات پر ساتھ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker