اے بحیرہ عرب کے کنارے بسنے والے بحرالکاہل
کیسے ہو ؟
افسوس کہ میرا ایک خط گم ہونے کے باعث تمہیں روزانہ میرے خط کاانتظارکرناپڑا اورپھر بغیر ناشتہ کیے خط لینے کے لیے جاناپڑامگر میرا قصور ہرگز نہیں تھا۔ میری تو کوشش ہوتی ہے کہ تمہیں جلد جواب دیاکروں تاکہ تم بوریت کاشکارنہ ہو۔ لیکن کبھی کبھار ڈاک گڑبڑ کردیتی ہے بلکہ میں تو ”تمہاری طرح“خط آنے کا انتظار بھی نہیں کرتا اور پھرظلم یہ کہ تم نے مجھے ڈھیلا درویش قراردے دیا۔ٹھیک ہے بھائی ،تم سعودی عرب میں بیٹھے ہو، ہم تو اب تمہیں ڈھیلے ہی نظرآئیں گے۔
تمہارے29جنوری اور 2فروری کے خطوط مجھے کل ملے ملتان سے واپسی پر۔۔ یہ خط تو یہاں ایک دن کے وقفے سے ہی پہنچے تھے ۔دونوں لفافوں سے تمہاری تخلیقات برآمد ہوئیں تو گویا سونے پہ سہاگہ۔ میں نے دفتر سے واپسی پر پیدل چلتے ہوئے تمہارے خط پڑھناشروع کیے ۔تقریباً دوفرلانگ کافاصلہ خط پڑھنے میں گزرگیا۔ تمہارا انشائیہ میں نے بس اسٹاپ پرکھڑے ہو کرپڑھا اورتاثراتی مضمون پڑھنے کے لیے بس میں سوارہوا۔ کھڑکی کے پاس بیٹھا مضمون پڑھ رہاتھا کہ چلتی بس سے تمہارا ایک خط لفافے سمیت جدہ کی بجائے سڑک کی جانب پرواز کرگیا۔ اگلے بس اسٹاپ پر بس رکی تو بھاگم بھاگ وہاں پہنچا جہاں خط اڑا تھامگر خط ندارد۔ پھرکوئی دس منٹ ادھر ادھر بھاگ دوڑ کے بعد معلوم ہوا کہ خط کافی دور جاچکا تھا۔آتی جاتی ٹریفک اس خط کو اپنے ساتھ لیے پھرتی رہی۔ خیر خط اٹھا کر ڈائری میں رکھا یوں یہ بھاگ دوڑ ختم ہوئی۔
ملتان سے کل صبح واپس آیاتھا۔ رات ریل کار بہت لیٹ ہوگئی تو میں واپس گھرچلاگیا۔ پونے سات بجے بھی ٹرین روانہ نہ ہوئی پھرکراچی ایکسپریس پر رات کوسوار ہوا اورصبح ساڑھے آٹھ بجے لاہور پہنچا ۔سیدھا دفترآیا ۔یہاں سے ہم نے بشری رحمان والے کنونشن میں جاناتھا(مسلم لیگ کے )۔ فوراً ہی وہاں چلاگیا۔ دفتر سے گھر گیا تو کال کوٹھری کی حالت وہی تھی گھپ اندھیرا ۔ اس لیے دفتر میں بیٹھ کر خط لکھ رہاہوں۔ اکبر علی خان کے نام سے امروز میں ایک خط اسلام تبسم نے لکھاتھا۔ پہلے ہم یہ سمجھے کہ قمررضا کی شرارت ہے ۔ پھر اسلام نے بتایا کہ یہ اس کاکارنامہ تھا۔ ادھرطاہر تونسوی نے خادم عاصی کے نام سے خط لکھ کر کچھ لوگوں کی کلاس لے لی۔ پھر ہم نے بھی کچھ خط لکھے ہیں دیکھو اگلے ہفتے کہانی کا کیا رخ بنتا ہے۔
ایک افسوس ناک خبر یہ ہے کہ فخر الدین بلے کے بیٹے آنس معین بلے نے خودکشی کرلی۔ بہت افسوس ہوا ۔نوجوان لڑکاتھا ،اچھی شاعری کرتاتھا۔ہم ایک اچھے شاعر سے محروم ہوگئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خودکشی کرنا بزدلوں کاکام ہے۔ میں اسے بہادری سمجھتا ہوں۔ اپنی موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قبول کرنا ہرایک کے بس کی بات نہیں۔ مرنے والے کو پتا ہوتا ہے کہ میرے بہن بھائی ،عزیز واقارب مجھ سے بچھڑ جائیں گے۔ زندگی جو بہت خوبصورت ہے ختم ہوجائے گی۔ سامنے سے ٹرین آرہی ہو توویسے بھی بہت دہشت ناک منظرہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ خودکشی کرتاہے تو اسے بہادری نہ کہوں تو کیا کہوں۔ اورپھرزندگی اتنی قیمتی چیز بھی تونہیں کہ دو دو ٹکے کے لوگوں کے لیے اس کی اتنی حفاظت کی جائے۔ پھریہ کہنا کہ خودکشی حرام موت ہے میں اسے بھی درست نہیں سمجھتا۔۔اگر زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے اوراس نے جتنی لکھ دی اتنی ہی ہمیں میسر ہے توپھرسیدھی سی بات ہے کہ خودکشی میں بھی خدا کی رضا شامل ہوتی ہے۔ اوراس کی مرضی کے بغیرتوتمہیں بھی معلوم ہے کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔خیر چھوڑو اس بات کو تمہیں یہ باتیں بری لگیں گی۔اسلام تبسم تمہیں خط لکھ چکاہوگا۔کہہ رہا تھا کہ شاکریادآرہاہے۔سالانہ جائزے میں سحر صاحب کی فوٹو نہیں لگ سکی ۔ان کی تصویر میں سنگ میل میں بھول آیاتھا۔ نظامی کودی تھی سکیچ بنانے کے لیے مگر پھردفتر چھوڑ آیا اور ساتھ ہی تصویریں بھی۔ نوائے ملتان میں بھی اسی لیے ان کی تصویر نہ چھاپ سکا۔ اگر وہ اور اقبال ارشد اسے میری ”حرکت “ قراردے رہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے دانستہ ایسا کیاتو ان کی مرضی ۔خیر ہمارے بزرگ ہیں جو بھی کہہ لیں ۔سنا ہے انجمن ثقافت کے وفد نے گورنرمخدوم سے ملاقات کی ہے۔ لیکن تفصیل معلوم نہیں کہ اس میں کون کون تھا۔
اب تمہارے دوسرے خط کاجواب حاضر ہے۔ تمہارے مندے کاسن کر افسوس ہوا اور خوشی بھی ۔خوشی اس لیے کہ اس مندے میں تمہیں لکھنے پڑھنے کاموقع مل رہاہے۔ مندے کا یہ وقفہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد آتا رہے تو یہ برا بھی نہیں۔ بشری رحمان کوابھی تک وزارت نہیں ملی۔ انتظارکررہی ہیں۔ کل انور سدید صاحب کے ساتھ کافی دیر ملاقات رہی۔ آج بھی ان کافون آیاتھا۔شاید اب سے کچھ دیربعد میں وزیر آغا صاحب کے گھر جاﺅں گا ۔وہ آج کل آئے ہوئے ہیں اورانور سدید صاحب کا ابھی فون آیاتھا کہ میں آفس سے فارغ ہو کر وہیں آجاﺅں۔ اظہر مجوکہ کو ملتان میں ایک بینک کی یونیورسٹی برانچ میں نوکری مل گئی ہے ۔پہلے کچھ عرصہ کراچی رہاتھا۔ اس مرتبہ اس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ جدہ میں اپنے چنیوٹ والے صاحب کو میرا سلام کہنا ۔جماعت اسلامی والے صاحب میرے خلاف کیوں ہوگئے؟ میں جماعت اسلامی کے خلاف ضرور ہوں لیکن ان صاحب کے خلاف نہیں ہوں۔ جماعت اسلامی اگر خراب ہے تو اس کامطلب یہ نہیں کہ جماعت اسلامی والے بھی سبھی خراب ہوں۔ یہ تشدد پسند جماعت چند شریف لوگوں کی وجہ سے بچی ہوئی ہے۔ انہیں میرا سلام کہنا اور بتادینا کہ میں بے خبری ان کی جماعت کے خلاف لکھ جاتاتھا اب احتیاط کروں گا۔ یار تم بہت شرارتی ہوپردیس میں بھی لوگوں کو میرے خلاف کررہے ہو۔۔استاد جی کو بھی میرا سلام کہنا ،ان کاتو مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ یہاں آگئے ہیں۔ انہیں کہنا کہ جب سے وہ ملتان سے گئے ہیں اداکارہ بندیا نے ملتان آرٹس کونسل میں آنا چھوڑ دیا ہے اوروہ رو رو کر کہتی ہے کہ اب کس کے لیے جاﺅں ،اب وہاں مجھے کون دیکھے گا۔انور جمال صاحب کا ایڈریس لکھ رہاہوں ، 77پیپلزکالونی ، ممتازآباد ملتان۔ انہیں خط لکھ دینا کیونکہ انہوں نے امروز کے خط میں تمہارا ذکر کیا جوذاکر تمہیں بھیج دے گا۔
امروز میں تمہارا مضمون شائع ہوگیا ،تصویر اچھی نہیں چھپے گی تم نے بہت دور کی تصویر بھیجی ۔کلوزاپ ہو تو اچھی بات ہے ویسے بھی امروزاخبار تو نازیہ حسن کی تصویر کی جڑ ماردیتا ہے تم کیاچیز ہو۔
والسلام
تمہارا رضی
9فروری1986

