Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جون 29, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش ، تین ملزمان گرفتار
  • محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل
  • صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری
  • کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں ؟ معصومہ شیرازی اور ’’ صدائے ابابیل ‘‘ : رضی الدین رضی کا کتاب کالم
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاویدکا تجزیہ:تاریخ کو "درست کرنا”، محض شاعری ہے
تجزیے

نصرت جاویدکا تجزیہ:تاریخ کو "درست کرنا”، محض شاعری ہے

ایڈیٹرمارچ 8, 20245 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

محترمہ بے نظیر بھٹو سے بطور صحافی جو رشتہ استوار ہوا اس کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری میرا احترام کرتے ہیں۔ عمر کے فرق کی وجہ سے ہم دونوں کے مابین بے تکلفی ممکن نہیں۔ موصوف کے ساتھ تنہائی میں ہوئی چند ملاقاتوں کے بعد مگر میں اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ موصوف کئی حوالوں سے وطن عزیز کی موجودہ سیاست کے لئے ان فٹ ہیں۔بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ نیک طینت انسان ہیں اور دل ان کا بے رحم نہیں۔شاید اسی باعث جب بدھ کے روز چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے آج سے چوالیس سال قبل ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے الزام میں چلائے مقدمے کو ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا تو بلاول بھٹو زرداری کی آنکھوں سے بھری عدالت میں بے ساختہ آنسو چھلک پڑے۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بدھ کے روز آئے فیصلے کو پاکستان کی تاریخ درست کرنے کی جانب اہم پیش قدمی بھی قرار دیا۔
میرا جھکی اور بے اطمینان دل مگر بدھ کے روز آئے فیصلے سے ہرگز خوش نہیں ہوا۔ دماغ بلکہ ہذیانی کیفیت سے مغلوب ہوکر بے تحاشہ سوالات اٹھانا شروع ہوگیا۔ جی کو بہلانے کے لئے خیال آیاکہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ بدھ کے روز آئے فیصلے سے مطمئن ہے تو میں کس حیثیت میں اس کی بابت مضطرب محسوس کئے چلاجارہا ہوں۔ ’’توں کون؟ میں چاچا خواہ مخواہ‘‘ والا رویہ۔
چند لمحے سوچنے کے بعد مگر بضد ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو سے کوئی خونی رشتہ نہ ہونے کے باوجود میں پاکستان کا شہری بھی تو ہوں۔کسی مہذب ریاست کے شہری کے لئے بے تحاشہ فرائض کی پابندی کے بدلے چند حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ انصاف کا حصول ان حقوق میں سرفہرست شمار ہوتا ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے وارثوں کو 1988ء 1997ء اور 2008ء میں تین بار وفاقی حکومتوں کی قیادت کے باوجود چوالیس برس بعد ’’انصاف‘‘ملتا ہے تو میرے اور آپ جیسے بے وسیلہ شہری کی وطن عزیز میں کیا حیثیت ہے۔
آئین اور قانون کی باریکیوں کو فی الوقت بھول جاتے ہیں۔فقط ایک عام اور تقریباََ جاہل پاکستانی کی حیثیت سے بدھ کے روز آئے فیصلے کا جائزہ لیتے ہیں۔مذکورہ فیصلہ اعتراف کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو Fair Trialنصیب نہیں ہوا۔فیئر ٹرائل کا میسر نہ ہونا میری ناقص رائے میں ہرگز یہ طے نہیں کررہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ’’انصاف‘‘ نہیں ملا تھا۔ اس امر پر بھی یہ فیصلہ سینہ پھلاکر اصرار نہیں کررہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس قتل کے ذمہ دار نہیں تھے جس کی وجہ سے بالآخر انہیں 4اپریل 1979ء کے روز پھانسی پر لٹکادیا گیا تھا۔اعتراف بنیادی طورپر یہ ہوا ہے کہ کسی جرم کی تفتیش اور بعدازاں انصاف کی فراہمی کیلئے ہمارے قوانین نے جو قواعد وضواط طے کررکھے ہیں انہیں ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔درحقیقت ناک کو سیدھا پکڑیں یاہاتھ گھما کر۔ چوالیس برس گزرجانے کے بعد پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ طے کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لگے قتل کے الزام کی قواعد وضوابط کے مطابق تفتیش نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی کے مسلمہ اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بھٹو کو سزا بھی سنادی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو جیسی قدآور شخصیت ہو یا میرے اور آپ جیسا بے وسیلہ آدمی۔ پاکستان کے کسی بھی شہری کا ’’ان فیئر ٹرائل‘‘ کے انجام پر پھانسی پر لٹکائے جانا بھی تو ریاست وعدالت کے ہاتھوں قتل کے برابر ہے۔سوال لہٰذا یہ اٹھتا ہے کہ 4اپریل 1979ء کی صبح ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا ذمہ دار کون تھا۔ ذمہ داروں کا تعین کئے بغیر ’’ان فیئرٹرائل‘‘ کے اعتراف کے بعد ’’تاریخ کو درست کرنا‘‘ میری دانست میں محض شاعری ہے۔ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے لئے انصاف کا حصول ہرگز یقینی نہیں بنائے گی۔
سادہ ترین الفاظ میں مجھے یہ کہنے دیں کہ ان دنوں ہماری قسمتوں کے مالک بنے زمینی خدائوں کو 6مارچ 2024ء بروز بدھ سپریم کورٹ کی جانب سے آیا فیصلہ کسی خوف میں ہرگز مبتلا نہیں کرے گا۔ یہ حقیقت تو تسلیم کرنا ہوگی کہ 1977ء میں حکومت پر قابض ہونے والوں میں سے چند اہم افراد نے باہم مل کر یہ طے کیا ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عاجلانہ عدالتی بندوبست کے ذریعے پھانسی پر لٹکاتے ہوئے ’’عبرت کا نشان‘‘ بنایا جائے۔ وہ تمام کردار جنہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اسے بالآخر عملی صورت فراہم کرنا بھی یقینی بنایا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ ہمارے ہاتھوں سزا یا جزا کے قابل نہیں۔معاملہ اللہ کے سپرد ہوچکا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے وارثوں نے اس کے باوجود سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ان کی بنیادی منشاء یہ تھی کہ تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کو ’’قاتل‘‘ شمار نہ کیا جا ئے۔ تاریخ کو ’’درست‘‘ کرنے کی خواہش تو پوری ہوگئی مگر ’’حال‘‘ کا کیا ہوگا۔ خدارا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے بتائیں کہ بدھ کے روز آیا فیصلہ آج کے زمینی خدائوں کو اس امر پر مجبور کرے گا کہ وہ کسی بے گناہ شخص کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرنے کے بعد عدالتوں سے سنگین سزائیں سنوانے کے ذریعے’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے سے گریز کریں۔مجھے کامل اعتماد ہے کہ ایک پاکستانی بھی بدھ کے روز آئے فیصلے کے بعد ایسا نہیں سوچ رہا۔
بدھ کے روز آئے فیصلے کو میں ’’تاریخی‘‘ فقط اس صورت گردانتا اگر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت تھوڑی لگن کے بعد کم از کم ان افراد کی نشاندہی بھی کردیتی جنہوں نے جولائی 1977ء￿ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کی ’’سازش‘‘ (میں جان بوجھ کر منصوبہ نہیں لکھ رہا) تیار کی اور اسے عاجلانہ ضد سے ا نجام تک پہنچایا۔ بدھ کے روز آئے فیصلے کے بعد بلاول بھٹو زرداری یقینا سراٹھاکر دنیا کو یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کے نانا کو ’’ان فیئرٹرائل‘‘ کے ذریعے’’قاتل‘‘ ٹھہرادیا گیا تھا۔وہ ایسے سنگین جرم کے ذمہ دار نہیں تھے۔ ’’ان فیئر ٹرائل‘‘ کی وجہ سے بھٹو کی پھانسی بھی تاہم ایک اور نوعیت کا قتل تھی۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس کے ذمہ دار کون تھے۔ ان کے نام لیتے ہوئے ان کے وارثوں کو شرمندہ کیوں نہیں کیا جارہا اور آج کے زمینی خدائوں کو یہ پیغام بھی کیوں نہیں ملا کہ وہ کسی بے گناہ شہری کو محض ریاستی دبدبہ کی وحشت دکھانے کی خاطر ’’قاتل‘‘ ٹھہراکر پھانسی پر نہیں لٹکاسکتے تاکہ میرے اور آپ جیسے بے وسیلہ شہری خوف کے مارے سرجھکائے حقوق وفرائض سے محروم غلاموں کی طرح طاقت ور اشرافیہ کی من مانیاں برداشت کرتے رہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Article‎ ڈاکٹر ناصر حسین بخاری کا کالم:سقراط, گلیلیو اور ذوالفقار علی بھٹو۔۔تاریخ کبھی سچائی کو نہیں چھپاتی
Next Article ڈاکٹر پرویز حیدر ، اپنی طرز کے پہلے اور آخری آدمی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

جون 29, 2026

سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش ، تین ملزمان گرفتار

جون 28, 2026

محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل

جون 28, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 29, 2026
  • سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش ، تین ملزمان گرفتار جون 28, 2026
  • محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل جون 28, 2026
  • صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 28, 2026
  • کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری جون 28, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.