Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, اپریل 20, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ
  • تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ
  • ایران کا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہتھیار : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
  • ناروے سے مفرور ، اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کا استقبال کرنے پہنچ گیا : سید مجاہد علی تجزیہ
  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش : بھارتی آئل ٹینکر پر فائرنگ کےبعد واپس چلا گیا
  • نوجوان صحافی اظہار عباسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے
  • ساحر بگا کے ترانے اور بے خبری کا جشن ( مختار صدیقی کی باتیں ) : وجاہت مسعود کا کالم
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»اسد عمر ۔ ٹیکنو کریٹ یا سیاستدان؟۔۔نصرت جاوید
کالم

اسد عمر ۔ ٹیکنو کریٹ یا سیاستدان؟۔۔نصرت جاوید

ایڈیٹراپریل 26, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
asad umar
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اسد عمر کا مستقبل زیر بحث لانے سے خوف آتا ہے۔ چند ہی روز قبل جب ان کی کابینہ سے فراغت کی قیاس آرائیاں عروج پر تھیں تو میں نے دو جمع دو کرتے ہوئے احمقانہ ڈھٹائی سے دعویٰ کردیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حتمی مراحل میں ان کا جانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ یہ کالم چھپنے کے دو ہی دن بعد ان کی فراغت ہوگئی۔ سبق اس فراغت سے یہ سیکھا ہے کہ اپنے منطقی ذہن کو رخصت پر بھیج دیا جائے۔ فقط ان لوگوں کو غور سے سنا جائے جن کے پاس ان دنوں ’’اندر کی خبر‘‘ ہوتی ہے۔ وہ جو کہیں سرجھکا کر تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ بآلاخر وہی ہوتا ہے جو ’’منظورِذرائع‘‘ ہوتا ہے۔میرا کم بخت دماغ مگر رخصت پہ جانے کو تیار نہیں ہورہا۔ بدھ کی صبح قومی اسمبلی کا اجلاس دیکھنے گیا تو اسد عمر ایوان میں اسی نشست پر براجمان تھے جو بطورِ وزیر خزانہ ان کے لئے مخصوص ہوا کرتی تھی۔ قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے تحریک انصاف کے ’’غیر وزارتی‘‘ بنچوں پر ان کے لئے نشست مختص نہیں کی تھی۔ اسد عمر کو وزارتی نشست پر بیٹھا دیکھتے ہی یاد آیا کہ انہیں کابینہ میں واپس لانے کی کہانیاں چل رہی ہیں۔شاید کسی روز وہ کوئی اور وزارت لینے کو آمادہ ہوجائیں۔ان کی کابینہ میں لوٹنے کی امید اس لئے بھی باندھی کیونکہ ایوان میں موجود تحریک انصاف کے کئی اراکین اپنی نشستیں چھوڑکر ان سے پُرجوش ملاقات کے لئے ان کے پاس آئے اور بہت احترام سے ان کی گفتگو سننے میں مصروف رہے۔پیر کی شام بلاول بھٹو زرداری نے اسد عمر کی عدم موجودگی میں ’’ذاتی وضاحت‘‘ کا جواز لے کر ان کے خلاف ایک دھواں دھار تقریر کی تھی۔ سابق وزیر خزانہ نے اس تقریر کا بہت مختصر اور دھیمے انداز میں جواب دیا۔ صرف اعدادوشمار پر انحصار کرتے ہوئے 2008سے 2013تک موجود رہی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کچاچٹھہ بیان کردیا۔ان کی موجودہ اسمبلی میں مختصر ترین تقریر کا آخری حصہ مگر کافی غور طلب تھا۔ یہاں انہوں نے ’’مافیاز‘‘ کا ذکر کیا۔ فقط سیاست دان ہی ان ’’مافیاز‘‘کے رکن نہیں۔کئی کاروباری گروہ بھی ان میں شامل محسوس ہوئے۔ اسد عمر کا خیال تھا کہ ماضی کے ’’کرپٹ حکمرانوں‘‘ کے ساتھ مل کر یہ ’’مافیاز‘‘ عمران حکومت کو ناکام دکھانا چاہ رہے ہیں۔ ٹیکس دینے کو وہ تیار نہیں اور نہ ہی ملک اور غیر ممالک میں موجود بینک اکائونٹس اور قیمتی جائیدادوں کو سرکار کے روبرو آشکار کرنے کو آمادہ۔ ان کی تقریر کے اس حصے نے مجھے یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ شاید اسد عمر اشارتاََ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی کابینہ سے رخصت ’’مافیاز‘‘ کے دبائو کی وجہ سے ہوئی۔ اگر آئندہ چند روز میں ان کی جگہ لینے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کوئی بہت بڑی ’’ٹیکس ایمنسٹی‘‘ کا اعلان کردیا تو اس حصے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔اپنی تقریر کا اختتام انہوں نے ’’22کروڑ کے ایٹمی ملک‘‘ پاکستان کو زندہ باد کہتے ہوئے کیا۔ اس نے میرے خبطی ذہن کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ غالباََ اسد عمر یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ IMFپاکستان کو بیل آئوٹ پیکیج دینے سے پہلے چند ایسی شرائط منوانے پر تلا رہے گا جو ایک خودمختار ملک کے لئے قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سوچتے ہی خیال آیا کہ شاید چند ماہ بعد اسدعمر کھل کر وہ سب باتیں ہمارے سامنے لے آئیں جو ان کی نظر میں کابینہ سے ان کی فراغت کا اصل باعث تھیں۔اپنے ذہن میں آئے خیالات کو اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں موجود چند متحرک رپورٹروں کے سامنے رکھا تو ان کی اکثریت نے کافی احترام سے میرا مذاق اُڑایا۔ایک نے جرأت سے کام لیتے ہوئے بالآخر کہہ ہی دیا کہ مجھے اسد عمر میں ایک ’’ممکنہ باغی‘‘ ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وہ بالآخر ’’اسی تنخواہ‘‘ پر عمران حکومت میں جلد ہی کوئی وزارت قبول کرلیں گے۔میں اس نوجوان سے اختلاف نہ کرپایا۔گھر پہنچنے کے لئے گاڑی چلاتے ہوئے ڈاکٹر محبوب الحق یاد آگئے۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے مرحوم سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔جنرل ضیاء الحق کے بہت لاڈلے شمار ہوتے تھے۔ ان کے نامزدکردہ وزیر اعظم جونیجو نے ڈاکٹر صاحب کو وزارتِ خزانہ سوپنی۔ ان کی حکومت کا پہلا بجٹ ڈاکٹر صاحب نے ہی پیش کیا تھا۔ اس بجٹ میں ’’بلیک منی‘‘ کو ’’وائٹ‘‘ کرنے والے بانڈز متعارف ہوئے تھے۔ معاشیات پر لکھنے والے میرے کئی سینئرز نے اس اسکیم کا بہت مذاق اُڑایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ان سے بہت خفا ہوگئے اور اسمبلی کے فلور پر انہیں نام لے کر برابھلاکہتے ہوئے ہم صحافیوں کو احتجاجاََ واک آؤٹ پر مجبور کرتے رہے۔جونیجو مرحوم نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے مارشل لاء اُٹھانے کا بندوبست کرلیا تو مجھے خبر ملی کہ وزیر اعظم اپنی کابینہ میں ایسی تبدیلیاں ضرور کریں گے جس سے یہ پیغام جائے کہ کابینہ اب جنرل ضیاء کے ماتحت نہیں بلکہ وزیر اعظم سے احکامات لیتی ہے۔ ہم رپورٹروں میں ممکنہ تبدیلیوں کی سن گن لینے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ اس دوڑ میں مجھے ایک قابلِ اعتماد شخص نے بتایا کہ ڈاکٹر محبوب الحق کو وزارتِ خزانہ سے ہٹادیا جائے گا۔ مجھے اعتبار نہ آیا۔ تین دن اس کی تصدیق میں خرچ کردئیے۔ تصدیق ہوگئی تو دھڑلے سے خبر لکھ دی۔وہ خبر چھپی تو میرے ایک سینئر ساتھی نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کرکے ان کا ردعمل جاننا چاہا۔ ڈاکٹر صاحب نے فقط یہ کہتے ہوئے فون بند کردیا کہ وہ "Non Sense”خبروں پر ردعمل نہیں دیا کرتے۔ ان کا ’’ردعمل‘‘ صبح کے اخبار میں As it isچھپا تو میں بہت شرمندہ ہوا۔دو ہی روز بعد مگر ربّ نے میری لاج رکھ لی۔ ڈاکٹر صاحب کی جگہ مرحوم یاسین وٹو وزیر خزانہ بنادئیے گئے۔ جونیجو مرحوم نے ڈاکٹرمحبوب الحق کو وزارتِ تجارت آفر کی۔ اسے قبول کرنے سے ڈاکٹر صاحب نے انکار کردیا۔چند ہفتوں بعد مگر افواہ پھیلی کہ ڈاکٹر صاحب کابینہ میں واپسی کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ مجھے اعتبار نہیں آیا۔ پیر پگاڑا سے ایک نجی ملاقات میں پوچھ لیا تو انہوں نے بجائے سیدھا جواب دینے کے مجھ سے میرا خیال پوچھا۔ میں نے بہت احترام سے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر محبوب الحق دنیا بھر میں جانے ہوئے ماہر معیشت ہیں۔ ورلڈ بینک اور IMFجیسے ادارے انہیں بھاری بھر کم مشاہرہ پر کوئی بھی عہدہ دینے کو تیار ہوں گے۔ وہ جونیجو صاحب سے ’’بے عزتی‘‘ کروانے کے بعد ان ہی کی کابینہ میں واپس کیوں آئیں گے۔میرا جواب سن کر پیر صاحب نے اُکتاہٹ سے لمبی جمائی لی۔سگار کا کش لگایا اور محض یہ کہا کہ ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ کو نوکری درکار ہوتی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ ’’تمہارا ڈاکٹر پرسوں کابینہ میں واپس آجائے گا‘‘۔ ان کی کہی بات سچ ثابت ہوئی۔ میں کوئی حتمی رائے دینے کے بجائے لہذا انتظار کروں گا کہ بالآخر اسد عمر خود کو ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ ثابت کرتے ہیں یا ’’سیاستدان‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleڈونلڈ ٹرمپ ، میرا بھی تو ہے۔۔خاور نعیم ہاشمی
Next Article کیا عمران خان جانتے ہیں کہ وہ منتخب لیڈر ہیں؟۔۔سید مجاہد علی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ

اپریل 20, 2026

تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ

اپریل 19, 2026

ایران کا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہتھیار : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ

اپریل 19, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ اپریل 20, 2026
  • تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ اپریل 19, 2026
  • ایران کا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہتھیار : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ اپریل 19, 2026
  • ناروے سے مفرور ، اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کا استقبال کرنے پہنچ گیا : سید مجاہد علی تجزیہ اپریل 19, 2026
  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 19, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.