Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, جولائی 17, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ملتان کے حاجی صاحب اور اداکارہ کے بولڈ لباس کا تنازع : وجاہت مسعود کا کالم
  • ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور
  • فیفا ورلڈ کپ، آخری 5 منٹ میں بازی پلٹ گئی، ارجنٹائن نے انگلینڈ کا 60 سالہ خواب چکنا چور کر دیا
  • مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • ضمیر کو بہلانے کے لیے ماتھا رگڑنے والوں کی کہانی : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( دوسرا حصہ )
  • مزارِ قائد تین سال سے عوام کے لیے بند : لینڈ مافیا کی نظریں : مظہر عباس کا کالم
  • آبنائے ہرمز اور محصول کی وصولی کا سوال ، ٹرمپ کا متضاد طرز عمل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»اہم خبریں»مودی سرکار بوکھلا گئی : 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی
اہم خبریں

مودی سرکار بوکھلا گئی : 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی

ایڈیٹراپریل 29, 202516 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
you tube channels banned
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

نئی دہلی : انڈین حکومت نے یوٹیوب سے سفارش کر کے تقریباً 16 پاکستانی یو ٹیوبرز اور نجی ٹیلی ویژن چینلز کے یوٹیوب چینلز کو ’نیشنل سکیورٹی کے خطرے‘ کو وجہ بتا کر اپنے ملک میں بلاک کر دیا ہے۔پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سے انڈین حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور ان چینلز پر پابندی اس سلسلے کی ہی کڑی دکھائی دیتی ہے۔یہ پابندی انڈیا کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر یوٹیوب کی جانب سے عائد کی گئی ہے اور یوٹیوب نے مذکورہ چینلز کے مالکان کو اس پابندی سے متعلق ایک ای میل کے ذریعے مطلع کیا ہے۔
اس ای میل میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ ’ہمیں حکومت کی جانب سے آپ کے چینل کے مواد سے قومی سلامتی اور پبلک آرڈر‘ سے متعلق احکامات ملے جس کے بعد آپ کے چینل کے مواد پر انڈیا میں پابندی عائد کی جا رہی ہے اور آئندہ شائع ہونے والے کسی بھی مواد کو انڈیا میں بلاک کیا جائے گا۔‘ یوٹیوب نے مذکورہ چینلز کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق دیا ہے۔
‎جن ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں نیوز چینلز ڈان نیوز، سما ٹی وی، اے آر وائی نیوز، بول نیوز، جیو نیوز، جی این این ٹی وی شامل ہیں۔
اسی طرح جن انفرادی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے چینلز شامل ہیں۔ ان چینلز میں میں عاصمہ شیرازی، عمر چیمہ، ارشاد بھٹی، منیب فاروق اور رضی دادا کے چینلز شامل ہیں۔سپورٹس چینلز میں سما سپورٹس اور عزیر کرکٹ شامل ہیں، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم رفتار اور پوڈکاسٹر شہزاد غیاث کا ’دی پاکستان ایکسپیریئنس‘ بھی بلاک کیے گئے ہیں۔
جن صحافیوں کے چینل پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سے چند سے میں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے وہ کیا سمجھتے ہیں کہ ان پر یہ پابندی کیوں عائد کی گئی ہے اور کہیں انھوں نے پالیسی کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔
’بیانیے کی بجائے صحافت کی کوشش کی تو پابندی لگ گئی‘
جن صحافیوں کے چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سے چند سے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ ان پر یہ پابندی کیوں عائد کی گئی ہے اور کہیں انھوں نے یوٹیوب کی پالیسی کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔سینیئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انڈیا مخالف بالکل بھی نہیں ہیں۔
ان کے مطابق ان پر دو برس پہلے تک انڈین نواز اور را کی ایجنٹ جیسے الزامات لگتے رہے ہیں کیونکہ وہ ایسے واقعات کے بعد حکومت اور فیصلہ سازوں سے چند سوالات ضرور کرتی ہیں کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے انھوں نے کیا اقدامات کیے تھے۔
عاصمہ کے مطابق ’پہلگام واقعے پر بھی انھوں نے چند سوالات اٹھائے کہ کیسے یہ مودی حکومت کی سکیورٹی کی خامی تھی اور یہ کہ کہیں یہ سب بہار الیکشن کی وجہ سے تو نہیں کیا جا رہا ہے۔‘ان کے مطابق ’میں اسے فالس فلیگ آپریشن نہیں کہتی مگر یہ ضرور پوچھ رہی ہوں کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟‘
عاصمہ کے مطابق ’میں اپنے دھیمے مزاج کے عین مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر یہ سوالات اٹھا رہی تھی مگر شاید انڈیا کی سرکار ہوش اور عقل والی آوازوں کو دبانا چاہتی ہے اور وہ عوام تک حقائق پہنچانا ہی نہیں چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بلوچستان میں ہونے والے جعفر ایکسپریس کے واقعے پر بھی سوالات اٹھائے تھے اور اپنی حکومت سے وجوہات پوچھی تھیں۔‘
عاصمہ کے مطابق ان پر پابندی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاید ’مودی سرکار صرف ایک ہی طرف کا بیانیہ سننا چاہتی ہے اور وہ غیرجانبدارانہ اطلاعات تک رسائی کو ناممکن بنا رہی ہے۔‘
دی پاکستان ایکسپیریئنس چینل کے شہزاد غیاث سے جب بی بی سی نے یہی سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ شاید انڈین حکومت یہ سیاسی رائے بنانا چاہتی ہے کہ پاکستان میں سب جہادی ہیں اور وہ بس سب کو مارنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق ’جب ہم توازن سے بات کرتے ہیں تو اس سے انڈیا میں یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستانی صحافی تو بہت سلجھے ہوئے ہیں اور وہ جنگ کے حامی نہیں ہیں۔‘ان کے مطابق ’اب مودی سرکار کلچرل رابطے توڑنا چاہتی ہے اور اس وجہ سے انھوں نے کھیلوں کی ویب سائٹ تک کو بھی نہیں معاف کیا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہاں میں نے پہلگام پر ویڈیو ضرور بنائی مگر اس میں کہیں بھی میں نے جنگ کی اور مار دینے کی بات نہیں کی۔‘ان کے مطابق ’انڈیا کے چینلز پر زید حامد جیسے لوگوں کو تو جگہ مل جاتی ہے مگر جو لوگ حقائق پر بات کرتے ہیں ان کی گنجائش نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا ایسے پاکستانی لوگوں کو سامنے لا کر اپنے بیانیے کو مضبوط بنا رہا ہے جو دھمکیاں دیتے ہیں اور جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔‘شہزاد نے کہا کہ ’انھیں جو یوٹیوب کی طرف سے نوٹس موصول ہوا ہے اس میں اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اپیل تو ضرور کریں گے مگر انھیں انڈین حکومت کے خلاف مقدمہ جیتنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔‘ صحافی عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب سے پاکستان انڈیا تنازع چل رہا ہے تو میں اس موضوع پر روزانہ پروگرام کر رہا ہوں۔‘
ان کے مطابق وہ ایسے الفاظ بھی ان ویڈیوز میں استعمال کرتے ہیں ’جیسے ’انڈیا ایکسپوزڈ‘ تو شاید غصے اور پابندی کی یہ وجہ ہو سکتی ہے۔ ‘
تاہم ان کے مطابق انھوں نے ’جو آخری پروگرام کیا اس میں ایک یونیورسٹی پروفیسر کا انٹرویو تھا جنھوں نے سنہ 2019 میں مودی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد یہ تجزیہ دیا تھا کہ اب انڈیا کا اگلا ہدف سندھ طاس معاہدہ سے باہر نکلنا ہو گا۔‘
اس پابندی کے تناظر اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہم نے چند ماہرین سے بات کی ہے اس طرح کے تنازع کے دوران میڈیا پر ایسی پابندیوں کا مقصد کیا ہوتا ہے اور کیا یہ ’انفارمیشن وارفیئر‘ کا حصہ ہے۔ڈیجٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘ڈیجٹیل رائٹس فاونڈیشن’ کی ایگزيکٹِو ڈائریکٹر نگہت داد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’غلط معلومات سے نمٹنے کے بہانے یوٹیوب سے پاکستانی صحافیوں اور میڈیا آؤٹ لیٹس پر پابندی لگانے کا انڈیا کا فیصلہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر ایک سنگین اور پریشان کن حملہ ہے۔‘
نگہت داد کے مطابق ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے وقت سینسرشپ کے بجائے شفاف اور حقائق پر مبنی صحافت ضروری ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ایسے اقدام سے تنازع کے حل کے بجائے ’پولرائزیشن‘ کی صورت میں مزید بحرانی کیفیت کو ہوا دینے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ان کے مطابق ’یہ اقدام یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے کردار کے بارے میں بھی سنگین خدشات پیدا کرتا ہے، جو مناسب شفافیت کے بغیر ریاست کے مبہم مطالبات کی تعمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’اگر انڈیا ایک جمہوریت کے طور پر اس طرح سے بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک خطرناک پیغام دیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق ’سرحدوں کے پار آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے پلیٹ فارمز کو جوابدہی کے اعلیٰ معیارات پر رکھنا چاہیے۔‘
گورنسس اینڈ پبلک پالیسی کے پروفیسر عامر ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انسانی تاریخ میں انسان کی سب سے بڑی تخلیق ’انفارمیشن‘ کی ہی مختلف قسمیں ہیں۔‘ ان کے مطابق ’جس دور میں اب ہم پہنچ گئے ہیں۔ اب انسانوں کو اطلاعات کی رسائی کے متعدد ذرائع میسر آ گئے ہیں۔ اب تیز ترین ذرائع موجود ہیں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

پاک بھارت سوشل میڈیا صحافت یو ٹیوب
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبھارتی حملےکے خدشے پر سرحد پر پاکستان کی فوجی قوت مزید بڑھا دی ہے: وزیردفاع
Next Article مشترکہ مفادات کونسل نے کینال منصوبہ مسترد کردیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اینکر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ : مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

جولائی 9, 2026

روہی ٹی وی ملتان کے 36 ملازمین بے روزگار : صحافیوں کا شدید احتجاج

جولائی 7, 2026

خاموشی کا منطقہ : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم

جولائی 5, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 16, 2026
  • ملتان کے حاجی صاحب اور اداکارہ کے بولڈ لباس کا تنازع : وجاہت مسعود کا کالم جولائی 16, 2026
  • ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور جولائی 16, 2026
  • فیفا ورلڈ کپ، آخری 5 منٹ میں بازی پلٹ گئی، ارجنٹائن نے انگلینڈ کا 60 سالہ خواب چکنا چور کر دیا جولائی 16, 2026
  • مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم جولائی 16, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.