آج 14 اگست ہے۔ گلی کوچے سبز ہلالی پرچموں سے سجے ہیں، سوشل میڈیا پر آزادی کے نغمے گونج رہے ہیں۔ آج میں نے کچھ دوستوں کی جانب سے "پاکستان زندہ باد” کی پوسٹس دیکھ کر خوشگوار حیرت محسوس کی۔ مجھے لگا تھا کہ "دل دل پاکستان” کہنے والی نسل قصۂ پارینہ بن چکی ہے، لیکن اس جشنِ آزادی پر یہ جذبہ زندہ دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا۔
البتہ آج کی نوجوان نسل، جین زی اور جین الفا صرف نعرہ نہیں لگاتی، بلکہ سوچتی اور سوال کرتی ہے: کون سا پاکستان زندہ باد؟
پہلا پاکستان، آسودگی اور امارت کا جزیرہ
یہ وہ پاکستان ہے جو اشتہارات، ٹی وی اسکرینوں اور سرکاری تقریبات میں جھلملاتا ہے۔ فوجی و سول اشرافیہ، سرمایہ دار اور جاگیردار اس کے وارث ہیں۔
یہاں کشادہ شاہراہیں ہیں جن پر عالیشان گاڑیاں دوڑتی ہیں، فلک بوس عمارتوں والے بڑے مالز ہیں، فائیو اسٹار ہوٹلز اور گالف کلب ہیں، یورپی معیار کی ہاؤسنگ اسکیمیں اور مہنگے انگلش میڈیم اسکول و کالجز ہیں۔ یہاں کے مکین گرمیوں میں بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، ہر سہولت ان کے قدموں میں ہے، اور مزدور طبقہ ان کے لیے سستی افرادی قوت مہیا کرتا ہے۔ یہ پاکستان واقعی زمین پر جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔ مگر یہ جنت صرف چند فیصد لوگوں کی میراث ہے۔
دوسرا پاکستان، محرومیوں اور مجبوریوں کا سمندر
اس کے برعکس ایک اور پاکستان ہے، جو ملک کی بھاری اکثریت کا وطن ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لیے دن رات پسینہ بہاتے ہیں۔ جنہیں کپڑا اور چھت بھی بمشکل ملتی ہے۔ جن کے بچے اور بوڑھے قابلِ علاج بیماریوں سے سرکاری ہسپتالوں میں دم توڑ دیتے ہیں۔
یہ لوگ جدید تعلیم اور فکری شعور سے محروم رکھے جاتے ہیں، اور بچپن سے ان کے ذہن و دل میں مذہب کی افیم اتار دی جاتی ہے تاکہ وہ مفلسی کو اللہ کی تقسیم سمجھ کر قبول کر لیں۔
یہاں مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی، نجی تعلیم و صحت اور خیرات کے مافیا مضبوط ہیں، اور ان کے پیچھے پہلے پاکستان کے طاقتور طبقات کا ہاتھ ہے۔ یہ نظام عوام کو ہمیشہ کمزور، منتشر اور محکوم رکھنے کے لیے قائم رکھا گیا ہے۔
نئی نسل کا بیدار شعور
آج کی نوجوان نسل، ماضی کے 78 سال کا جائزہ لے کر یہ جان چکی ہے کہ یہ ملک مذہب کے نام پر ایک بڑے ملک سے الگ ہوا، لیکن پھر رنگ، نسل اور عقیدے کے نام پر مسلسل تقسیم در تقسیم کا شکار رہا۔
یہ نسل دو پاکستانوں کے وجود کو مسترد کرتی ہے۔ یہ عہد کرتی ہے کہ امیر و غریب، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر ہونے والی ہر تفریق ختم کرے گی۔ یہ جدید، سائنسی اور انقلابی نظریات پر یقین رکھتی ہے، اور سمجھتی ہے کہ طبقاتی خلیج ختم کیے بغیر نہ پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے نہ دنیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان ہمیشہ ہر انقلاب کے ہراول دستے ہوتے ہیں۔ آج کی نسل بیدار ہو چکی ہے، اور اسے معلوم ہے کہ امیروں کے پاکستان کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ اس 14 اگست کو یہ نوجوان نسل محض آزادی کا جشن نہیں منا رہی، بلکہ ایک نئے اور منصفانہ پاکستان کے قیام کا عہد کر رہی ہے۔
فیس بک کمینٹ

