اردو کا ایک محاورہ ہے کہ کتے کی پونچھ کبھی سیدھی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان تحریک انصاف اس وقت شدید ریاستی جبر کا شکار ہے۔ ان سے ان کا انتخابی نشان بلا چھین لیا گیا ہے۔ان کے رہنماؤں کو سیاست چھوڑنے اور انتخابات میں حصہ نہ لینے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بہت سے انتخابی امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ ان کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جبری طور پر لاپتا بھی کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے بہت سے رہنما اس وقت جیل میں ہیں۔جماعت کے چیرمین کو جماعت کے اندر اپنے عہدے سے محروم ہونا پڑا ہے۔ سابق چیرمین تحریک انصاف عمران خان کو الیکشن سے پہلے چار مختلف متنازعہ مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ ان کی زوجہ بشریٰ بی بی کو بھی سزا سنا کر نظربند کر دیا گیا ہے۔ اب تک کی آخری سزا عدت میں نکاح پر سنائی گئی ہے جو بہت مضحکہ خیز ہے۔ یہ عمران خان کا بہت ذاتی نوعیت کا معاملہ تھا جس کو عدالت میں اچھالا گیا۔ غرض یہ کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اپنے مخالفین کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے وہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جو وہ پچھتر سالوں سے کرتی آئی ہے۔ اب تک آنے والا آخری عدالتی فیصلہ تو اسٹیبلشمنٹ کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ آگے پتا نہیں یہ لوگ اور کتنا گریں گے۔ بلاول نے جوڑے کو ملنے والی آخری سزا پر اپنا ردعمل دے دیا ہے اور کہا کہ وہ اس فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتے بلکہ مذمت ہی کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن عمران کو ملنے والی سزاؤں پر بغلیں بجاتی نظر آ رہی ہے۔مسلم لیگ ایک موقع پرست جماعت ہے. یہ لوگ اپنے ماضی سے کبھی کچھ نہیں سیکھتے۔
جیسا کہ میں اپنے پچھلے کالم میں بھی لکھ چکا ہوں کہ عمران خان اور ان کی جماعت عوام کی طاقت پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتے اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں. اس کا ثبوت حال ہی میں جیو نیوز کے پروگرام "گریٹ ڈیبیٹ” میں پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے پیش کر دیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ اب تک جو کچھ بھی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ کیا ہے، کیا اب وہ نہیں سمجھتے کہ سیاسی جماعتوں کو متحد ہو جانا چاہیے اور میثاق جمہوریت کی طرز پر کوئی مشترکہ معاہدہ کرنا چاہیے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں مداخلت سے روکا جا سکے؟ اس کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاستدانوں کے اتحاد سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی مداخلت سے روکنے کا فیصلہ خود اسٹیبلشمنٹ کو ہی کرنا ہو گا۔ان کے بیان سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تحریک انصاف بدترین جبر کا سامنے کرنے کے بعد بھی اپنی امیدیں اسٹیبلشمنٹ ہی سے لگائے بیٹھی ہے، یہ تو وہی عطار کے لونڈے سے دوا لینے والی بات ہو گئی جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف قطعی طور پر ایک عوامی، جمہوری اور سیاسی جماعت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ تحریک انصاف کو یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے اب بھی کچھ اشارے مل رہے ہیں جو اسے ڈٹے رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اس وقت واضح طور پر دو دھڑے موجود ہیں، ایک عمران کا شدید مخالف ہے اور اس وقت طاقت میں ہے جب کہ دوسرا عمران کا فین ہے جو اس وقت مصلحتاً خاموش ہے اور حالات کی تبدیلی کا منتظر ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ انتخابی سیاست میں واحد بامقصد سیاسی آواز نوجوان رہنما بلاول بھٹو زرداری کی ہے۔ انہوں نے عوامی معاشی معاہدے کی شکل میں اپنا دس نکاتی منشور عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان سے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنا ہو گا۔بلاول تمام سیاسی رہنماؤں میں سب سے زیادہ موثر انداز میں اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور چاروں صوبوں میں نچلی سطح تک پہنچ کر عوام سے رابطے بحال کر رہے ہیں۔ ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے شانہ بشانہ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔ بلاول نے واضح طور پر کہا ہے کہ ن لیگ اپنے نعرے "ووٹ کو عزت دو” سے ہٹ چکی ہے اور اس کی موجودہ سیاست وہی پرانی آئی جے آئی کی سیاست ہے۔ انہوں نے انتخابات کے بعد ن لیگ یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی طرح کے اتحاد کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔
میں پاکستان کی انتخابی سیاست سے مایوس ہوں کیونکہ وہ پچھلے سولہ سال میں پاکستانی عوام کو کوئی سکھ مہیا نہیں کر سکی ہے۔لیکن بلاول کی شکل میں اس وقت امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔ شاید وہ اس ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور عوام کے حالات کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا کر پائیں۔
فیس بک کمینٹ

