اختصارئےلکھاریمظہر حسین باٹی

ریسکیو اور پٹرولنگ پولیس کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟ ۔۔ مظہر حسین باٹی

کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کے اچھے یا غلط منصوبوں پر ہوتا ہے اگر اچھے پروجیکٹ ہوں گے تو عوام کو فائدہ پہنچے گا اور عوام کا اعتماد حکومت پر بڑھے گا اگر پروجیکٹ غلط ہوں گے اور عوام اس سے مستفید نہ ہوسکے تو عوام حکومت کو پسند نہیں کرے گی ۔ سابق منتخب نمائندوں کے نامکمل کاموں کو نئے منتخب نمائندے مکمل کرواتے ہیں اور اپنے نام کی تختی لگواتے ہیں تاکہ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رہ سکے لیکن کچھ ایسے منصوبے بھی ہوتے ہیں جوکہ سابقہ حکومتوں کے ہوتے ہیں جن کو نو منتخب حکومتیں مسلسل نظر انداز کرتی ہیں تاکہ ان کو عوامی پذیرائی نہ مل سکے لیکن عوام اب باشعور ہے ان کو اچھے اور برے کی تمیز ہوتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ کون سی حکومت میں کون کون سے اچھے کام ہوئے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں سابقہ وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے دور کی جن کے دور حکومت میں بہت سے اچھے منصوبوں پر کام ہوئے اور کچھ غلط کام بھی ہوئے سابقہ حکومت کے دور میں پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس،ریسکیو 1122اور کارڈیالوجی جیسے منصوبوں کا قیام بہت اچھا اقدام تھا ان منصوبوں سے عوام نے سابقہ حکومت کو بہت سراہا ابتدا میں ان منصوبوں کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے لیکن جیسے ہی حکومت تبدیل ہوئی تو ان کے فنڈز بھی کم دیے گئے اور ان کو حکومت کی طرف سے دی جانے والی سہولیات بھی بندکردی گئیں حتی کہ گاڑیوں کی مرمت اور ڈیزل وغیرہ کے لیے افسران نے ملازمین کو کہا کہ مخیر حضرات سے بھی کچھ رقم وغیرہ لے لیا کرو تاکہ نظام بہتر انداز میں چل سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی فنڈز جاری نہیں ہوتے اگر ہوتے ہیں تو کہاں جاتے ؟
پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس ایک بہت اچھا منصوبہ ہے اس کے قیام سے شاہراہوں پر ڈکیتی وغیرہ کی شرح کافی حد تک کم ہوئی ہیں اوورلوڈ گاڑیوں کے خلاف مقدمات بھی پٹرولنگ پولیس نے درج کیے ہیں اپلائیڈ فار گاڑیاں جرائم میں اکثر استعمال ہوتی ہیں خاص طور پر موٹر سائیکل جن پر دیہی علاقوں میں وارداتیں ہوتی ہیں دن دیہاڑے یا سر شام سنسان جگہوں پر ناکہ لگا کر ڈاکو شہریوں کو لوٹتے تھے اپلائیڈ فار موٹر سائیکل کے خلاف کریک ڈاؤن سے کافی حد تک چوریوں اور ڈکتیوں میں کمی آئی ہے اسی طرح ٹمبر مافیا کا بھی خاتمہ ہوا ہے پٹرولنگ پولیس کے گشت سے شہری بلاخوف سفر کرتے ہیں۔
پٹرولنگ پولیس کے قیام کے بعد ہر حکومت نے اس کو مسلسل نظر انداز کردیا ان کی گاڑیاں کھٹارہ ہوگئیں اور بعض و اوقات تو گاڑی خراب ہونے کی صورت میں کئی ماہ تک گشت کا نظام متاثر ہوتا ہے ملازمین اپنی ذاتی گاڑیوں پر گشت کرتے ہیں ملازمین کی تنخواہیں بھی نہ بڑھائی گئیں حکومت ہر محکمے کی تنخواہیں بڑھاتی ہیں لیکن پٹرولنگ پولیس کے جوان کم تنخوا ہ پر گزارہ کررہے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کو چالان اور مقدمہ درج کرنے کا بھی اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اختیار نہیں دیا گیا ملازمین کو کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں دی جارہی گاڑیا ں کھٹارہ و پرانی ہونے کی وجہ سے اکثر گاڑیاں ورکشاپ میں ہی کھڑی رہتی ہیں اور پٹرولنگ پولیس کے جوان موٹر سائیکلوں پر گشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ حکومت اگر ایک شہر کی حفاظت کے لیے ڈولفن فورس کا قیام عمل میں لاتی ہے اور ان کے کانسٹیبل کی تنخواہ لاکھوں روپے مقرر کرتی ہے تو اس کے برعکس پٹرولنگ پولیس کے جوانوں کو مکمل سہولیات مہیا کیوں نہیں کی جاتی حالانکہ پٹرولنگ پولیس تو پورے پنجاب کی فورس ہے بہر حال پٹرولنگ پولیس کے جوانوں کو موجودہ نومنتخب حکومت سے پر زور امید ہے کہ موجودہ حکومت بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ تنخواہیں بھی بڑھائے گی تاکہ زندگی کا گزر بسر بہتر انداز میں ہوسکے اب آتے ہیں ریسکیو1122کی طرف ریسکیو1122کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ان کے ملازمین کو کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی حتی کہ سابقہ حکومت ن لیگ نے تو اخبارات میں اشتہار دیا کہ مخیر حضرات ریسکیو1122کو امداد دیں تاکہ سسٹم چل سکے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اتنے اچھے نظام،دکھی و زخمی لوگوں کو موقع پر امداد دینے والے منصوبے کے لیے حکومت نے یہ سب کیوں کیا حالانکہ ایسے منصوبوں کے لیے تو اضافی فنڈز بھی جاری کیے جاتے ہیں جو عوامی خدمت میں پیش پیش ہوں حکومت کو چاہیے کہ پٹرولنگ پولیس اور ریسکیو1122کے لیے خصوصی طور پر فنڈز جاری کرے اور ان کے ملازمین کی تنخواہوں بھی بڑھائی جائیں اور ان کو مکمل بنیادی سہولیات دی جائیں تاکہ یہ ملازمین بھی آسانی سے زندگی گزر بسر کرسکیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker