حکومت نے مزید دو ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کیا ہے تعمیراتی شعبے کو یکسر کھول دیا گیا ہے اور کچھ مزید شعبوں کیلئے ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“والی صورت رکھ دی ہے۔بہرحال صورت حال جو بھی ہو ہمیں کرونا کے عفریت سے نجات کیلئے اجتماعی اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا ہے۔ حکومت کے ساتھ بھی تعاون کرنا ے اور غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے بھی پرہیز کرنا ہے اگرچہ یہ خاصا مشکل کام ہے لیکن انہی احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی ہم کرونا جیسی وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
کرونا کی اس جنگ میں جو ادارے اور لوگ اپنے اپنے طور اصلاحی اور فلاحی کام کر رہے ہیں پوری قوم انہیں سیلیوٹ کرتی ہے اچھی بات ہے کہ ملکی سطح پر وینٹی لیٹر بنانے کی خبریں بھی منظر عام پر آئی ہیں جبکہ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اس مہلک وبا کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔
حکومت کی طرف سے ملکی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے اور مزدور طبقے کو بھوک سے بچانے کیلئے جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے جن شعبوں کو کھولا گیا ہے وہاں پر احتیاطی تدابیر کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کرونا نے جہاں پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں وہاں انسانی رویوں میں بھی خاصی تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں انسان ہجوم سے تنہائی میں آ گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات سے عاجز ہو کر ایک بار پھر قدرتی ماحول اور فطرت کے نزدیک ہو گیا ہے۔ حکومت نے کاروبار کے لیے جو اوقات کار مقرر کئے ہیں اگر مستقبل میں بھی انہی اوقات پر عملدرآمد ہو تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے کے کاروباری اوقات کار میں سب سے زیادہ فائدہ بھی تاجر طبقے کو ہو گا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی وقت دے پائیں گے۔
دوسری طرف ملکی وسائل کا بے جا ضیاع بھی نہیں ہو گا۔ بجلی کی بچت ہو گی، جنوبی افریقہ، سنگا پور، چین، روس اور کئی دیگر ممالک میں ہم نے دکانوں کو علی الصبح اور شاپنگ مالز کو جلدی کھلتے اور رات جلد بند ہوتے دیکھا ہے۔ سماجی فاصلے کے اصول پر بھی ترقی یافتہ ممالک پہلے سے عمل کر رہے ہیں حفظان صحت اور انسانی میل جول کے طور طریقے اسلام نے ہمیں بہت پہلے بتا رکھے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد مغربی اقوام کر رہی ہیں۔ اگر ہم فطری اور قدرتی اصولوں سے چشم پوشی نہ کریں اور زندگی میں سادگی کا عنصر اپنائیں تو ہمارے بہت سے خودساختہ مسائل خود بخود حل ہوتے نظر آئیں گے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ لاک ڈاؤن کے بعد دفاتر، بینکوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار کا اسی طرح تعین کرے تاکہ حکومتی امور کے ساتھ ساتھ عوامی امور بھی بااحسن خوبی ادا ہو سکیں۔
من حیث القوم ہمیں بھی حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی مخلص ہونا چاہیے ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہئیں۔ زندگی میں سادگی اپنانے سے بھی کئی مرحلے آسان ہو سکتے ہیں۔ برانڈڈ اور مصنوعی زندگی کی بجائے فطرتی اور قدرتی زندگی بسر کرنا چاہیے۔ ایئرکنڈیشنز اور فریج سے پہلے لوگ شیشم،ٹاہلی اور کیر کی چھاؤں تلے بھی گہری نیند سوتے تھے، مٹی کے مٹکے سے میٹھا پانی پینے کا اپنا مزہ تھا۔ اے سی والے کمروں کی نسبت کھلی چھت پر سونے میں راحت تھی۔ ماحول بدلا، لوگ بدلے، طور اطوار بدلے اور پھر لوگوں کے معیار بدلے تو زندگی کے سارے دھنک رنگ کہیں پر کھو گئے اب چاند ستاروں کی باتیں صرف کتابوں میں ہوتی ہیں آسمان پر اختر شماریاں بھی شاعر حضرات اپنی غزلوں میں کرتے دکھائی دیتے ہیں رنگوں، جگنوؤں، تتلیوں اور پھولوں کی باتیں بھی اب کتابی ہو کر رہ گئی ہیں کاش ہم لوگ پھر سے فطرت کی طرف لوٹیں،قدرتی مناظر سے محفوظ ہوں تو زندگی کے رنگ ڈھنگ پھر سے آنکھوں کو بھلے لگنے لگیں گے اور دلوں کو تراوٹ بھی بخشیں گے۔ اس کے لیے ہمیں مناظر کے بدلنے کا انتظار نہیں کرنا بلکہ اپنے آپ کو بدلنا ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
حکومت اپنے طور درست سمت میں جا رہی ہے۔عوام کو بھی اپنی ترجیحات متعین کرنا ہوں گی ہمارے دانشور، لکھاری اور کالم نگار بھی اپنی تحریروں میں امید کی جگنو اور آس کی تتلیاں سجائیں لوگوں کو ڈرانا اور مایوس کرنا نہ تو عقلمندی ہے اور نہ ہی دانشوری۔خدا کرے کہ یہ جزوی لاک ڈاؤن مزید بہتری کی نوید ثابت ہو اور ماحول میں پھر وہی پہلے جیسی تازگی اور تراوٹ نظر آنے لگے۔
فیس بک کمینٹ

