ادبایم ایم ادیبسرائیکی وسیبلکھاری

سرائیکی کے محسن : پروفیسر شوکت مغل کی یاد میں ۔۔ ایم ایم ادیب

وہ تیز بولتے تھے لیکن لہجے میں مٹھاس کوٹ کو ٹ کربھری تھی ،پیکرِ شفقت و محبت ،سرائیکی کے نامور ادیب ،محقق،ماہرتعلیم ،بامروت ،روادار مرنجاں مرنج اور مرقعہ ء نفاست ،اپنائیت اتنی کہ برسوں بعد ملاقات ہوتی ،مگر یوں لگتا جیسے کل ہی ملے تھے ۔ڈاکٹر مہر عبدالحق کے بعد شاید سرائیکی وسیب کے وہ دوسرے آدمی تھے جنہوں نے سرائیکی زبان پر تحقیق ہی میں عمر گزار دی ،ان سے ملنے والے کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک پورے خطے کے عظیم المرتبت محقق ہیں جنہوں نے الفاظ کے دروبست پر بے تحاشہ پڑھا اور لکھا ،پچاس سے زیادہ کتب مرتب کیں ۔
اردو کے استاد تھے مگرسرائیکی زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کا دقیق و عمیق مطالعہ کیا اور کئی نت نئی جہتیں اجاگر کیں ۔حضرت خواجہ فریدؒ پر گفتگو کرتے تو انتھک بولتے چلے جاتے ۔وہ اگر مغلیہ دور میں ہوتے تو یقیناََ اکبر اعظم کے نو رتنوں میں ان کا شمار ہوتا اور وہ دربارِ شاہ میں عزت ووقار کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ۔
ان کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ اپنے ملنے والوں پر اپنے علمی ادبی مرتبے کی دھاک بٹھانے کی کوشش نہیں کرتے تھے ،گفتگو میں مسجع ومقفہ الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرتے خلطِ مبحث میں الجھنے کی سعی نہیں کرتے تھے،سادہ پیرائے میں بات کرتے تھے۔بات دلیل سے کرتے اور کسی بھی سوال کا وقیع جواب دیتے ۔جب انہیں پرائیڈ آف پنجاب دیا گیا تو انہوں نے اسے مسترد کرکے سستی شہرت کے حصول کی کوشش نہیں کی بلکہ پنجابی کو خطے کی اہم زبان سمجھتے ہوئے انعام یا اکرام کو پذیرائی عطا کی ۔
سرائیکی پارٹی کے فورم پر جب بھی ان کی رائے مانگی گئی انہوں نے بھر پور انداز میں سرائیکی کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ،وہ اپنی ماں بولی کی محبت میں کسی اور زبان کو کمتر نہیں گردانتے تھے ناں ہی کسی لسانی تعصب کو کبھی حرزِ جاں بنایا تھا ۔اختلاف رائے کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے سنتے اور دلیل کی روشنی میں پر اعتماد جواب دیتے ۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی
کہ انہوں نے میٹرک تک کی تعلیم ملتان کے ایک ایسے نجی تعلیمی ادارے میں پائی جس کا ایک ایک استاد گوہر نایاب کی حیثیت رکھتا تھا ۔ مرزا مسرت بیگؒ جو خود ایک نابغہ ء روزگا ر ماہر تعلیم تھے قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے ملتان میں ملت ہائی سکول کی بنیاد رکھی اورسید اقبال شاہ صاحب،تاج محمد تاج،سید اسماعیل رشدی صاحب ،مولانا معین الدین صاحب، عبدالحکیم سرمد صاحب ،مرید احمد راہی صاحب ،سید احسن ترمذی صاحب اور چوہدری عبدالقادرصاحب جیسے نادر
اساتذہ کی ٹیم جمع کی جنہوں نے ایسے ایسے ہیرے تراش کر وطن عزیز کو دیئے جنہوں نے ملک و ملت میں نہایت اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیں اور اب تک دے رہے ہیں کہ جن پر بجا طور پر فخرکیا جا سکتا ہے ۔
اظہاریئے میں چند اہم نام دینا میرے لئے باعث فخر ہوگا (کہ میری بھی مدرسہ قاسم العلوم کے بعدپہلی مادر علمی ملت ہائی اسکول ہی ہے)
زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں کہ جس کی عزت اور وقار میں مرزامسرت بیگ کے ادارے کے پڑھے طلبا نے اس کی سر بلندی میں اہم کردار ادا نہ کیا ہو مثلاََ شعبہ جراحت میں ڈاکٹر عمر فاروق،ڈاکٹر ادریس صدیقی ،ڈاکٹر میجر جنرل جواد خالق انصاری،ڈاکٹر اعجاز احمد دیگر کئی ماہر ڈاکٹرز کے علاوہ دو نابغہ روزگار ڈاکٹر ز ،ڈکٹر خالد خان اور ڈاکٹر شاہد مبشر جو جوانی ہی میں داغ مفارقت دے گئے (ڈاکٹر شاہد مبشر اردو نظم کے بڑے شاعر تھے جن کی شاعری میں زندگی کی نادر فلسفیانہ تہیں تھیں ،وہ اگر زندہ ہوتے تو شاید عہد حاضر کے ن م راشد ہوتے)اسی طرح پاکستان ایئر فورس میں کموڈور نوید خالق انصاری جنہوں نے ایک ایسی چوٹی پر چوکی قائم کی جہاں آج تک کسی کا پہنچنا محال ہے ،سیاستدانوں میں مولانا فضل الرحمٰن اور پی پی پی کے سابق ایم پی اے جاوید صدیقی ،صحافت میں اردو ڈائجسٹ والے اعجاز حسن قریشی،شعبہ حکمت میں حکیم خلیل اللہ،شعبہ صنعت و تجارت میں خواجہ شعیب ،خواجہ اویس اور کئی معروف ہستیاں اور شعبہ تعلیم میں اصغرندیم سید ،پروفیسر بشیر شاہ،بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر کرامت حسین ،پروفیسر محمد علی ،پروفیسر ریاض الرحمن ساغر، پروفیسر خالد پرویز ، پروفیسر انیس انصاری اور پروفیسر جمیل اکبر عاصی ایسے بیسیوں نامور ماہرین تعلیم جن کے نام لوح ذہن پر محفوظ نہیں رہے تاہم شعبہ تحقیق کے حوالے سے پرانوں میں پروفیسر شوکت مغل ملت ہائی اسکول کی شاید آخری نشانی تھے جنہوں نے انیس سو تریسٹھ میں ملت اسکول سے میٹرک کیا ، 1965 میں گورنمنٹ ایمر سن کالج سے ایف اے اور1967 میں اسی کالج سے بی اے کیا1969 علوم اسلامیہ میں ماسٹرکیا،1971میں اردو ادب میں ایم اے کیا اور شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے ،ان کا شمارقابل ترین اساتذہ میں ہوتا تھا ۔ لغت نگاری میں کیاجانے والا ان کاکام ہمیشہ یادگار رہے گا ۔
2001ءاور 1414ہجری میں انہیں ان کی سرائیکی کتب پر اکیڈمی ادبیات کی طرف سے انہیں خصوصی انعامات دیئے گئے ۔سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے سرائیکی وسیب کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔اللہ مرحوم کی قبر پر گل افشانی فرمائے ۔آمین

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker