ادبرضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

سرائیکی کو سندھی جیسے مخلص لوگ نہ مل سکے : معروف دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر شوکت مغل کا سترہ برس پرانا انٹرویو ۔۔ رضی الدین رضی

پروفیسر شوکت مغل کا شمار سرائیکی کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے ۔ سرائیکی تحقیق اور لسانیات کے حوالے سے ان کی کم و بیش 25 کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جن میں سے دو کتابوں کو اکادمی ادبیات کی جانب سے خواجہ فرید ایوارڈ بھی مل چکاہے ۔ پروفیسر شوکت مغل نے ادبی سفر کا آغاز 1980 ءمیں اردو انشائیے سے کیا 1983 ءمیں انہوں نے سرائیکی میں کام شروع کیا اور پھر خودکو سرائیکی تحقیق و تنقید کے لیے وقف کر دیا ۔ 1983 ءمیں ان کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی ۔ شوکت مغل کی اہم کتابوں میں سرائیکی قاعدہ ، قدیم اردو کی لغت اور سرائیکی زبان ، اردو میں سرائیکی زبان کے انمٹ نقوش ، سرائیکی اکھان، سرائیکی مصادر ، سرائیکی محاورے ، سرائیکی املا دے مسئلے ، سرائیکی دیاں خاص وا ران دی کہانی ، ملتان دیاں واراں (خواجہ فرید ایوارڈ 1994 ء) شامل ہیں ۔ حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے تحقیق و ثقافتی مضامین پر مشتمل ان کی کتاب ” کوئے کنوا” کو خواجہ فرید ایوارڈ 2001 ءدیا ۔ اس موقع پر جنگ نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا جس میں شوکت مغل نے سرائیکی رسم الخط کے مسائل اور سرائیکی زبان کو درپیش مسائل پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ۔
جنگ : آپ نے ادبی کیرئیر کا آغاز کب اور کیسے کیا ؟
پروفیسر شوکت مغل : میں نے شروع میں اردو لکھنا شروع کیا اردو کے مضامین اور انشائیے لکھتا رہا اس کے بعد میں سرائیکی کی طرف یوں آیا کہ جابر علی سید صاحب نے ایک روز مجھ سے پوچھا کہ آپ نے ایم اے اردو تو کر لیا ہے لیکن اب آپ کیا کر رہے ہیں ۔ میں نے انہیں بتایا کہ جب میں نے باغ و بہار کا مطالعہ کیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس میں ایسے بہت سے الفاظ نظر آتے ہیں جو سرائیکی زبان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جابر علی سید نے مجھے کہا اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو آپ اس حوالے سے کوئی مضمون لکھیں ۔ لہذا میں نے اس حوالے سے ایک مضمون لکھا ”باغ و بہار کا مطالعہ لسانی حوالے سے “ ۔ جب یہ مضمون شائع ہوا تو اس کی بہت تعریف کی گئی کیونکہ اس مضمون میں اردو کا مطالعہ سرائیکی کے حوالے سے ایک نئے زاویے سے شروع کیاگیا تھا ۔ ان کی ترغیب جاری رہی اور میں نے دوسرا مضمون لکھا جو امروز میں شائع ہوا ” نظیر اکبر آبادی کی غزل میں ایک سرائیکی شعر “ یہ مضمون دو قسطوں میں شائع ہوا ۔ اسے بھی لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا ۔ یوں مجھے رغبت حاصل ہوئی کہ میں دو زبانوں پر کام کروں اور اردو اور سرائیکی کے لسانی روابط کے بارے میں کچھ لکھوں اس طرح میرے سرائیکی کام کا آغاز ہوا ۔
جنگ : پھر آپ نے اردو میں لکھنا چھوڑ دیا ؟
پروفیسر شوکت مغل : نہیں اس کے بعد بھی اردو زبان میں میرے انشائیے شائع ہوتے رہے ۔ لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ میں نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی لغت میں سے سرائیکی الفاظ ڈھونڈے ۔ یہ میرا ذو لسانی کام آگے بڑھانے کی طرف ایک قدم تھا ۔ میں نے سوچا اگر اس طرح کام ہوتا رہا تو سرائیکی پر کام کرنے سے مجھے آگے بڑھنے کا موقع ملے گا ۔
جنگ : آپ نے انشائیہ اور مضمون نگاری سے ادب کا آغاز کیا جو ایک تخلیقی کام ہے ۔ کیا سرائیکی نے آپ کے تخلیق کار کو ختم نہیں کر دیا ؟
پروفیسر شوکت مغل : ہاں جب میں نے دو زبانوں پر کام شروع کیا تو میں تحقیق کی طرف زیادہ راغب ہوتا گیا اور تخلیق سے دور ہوتا گیا ۔ جب آپ دو زبانوں کو ملانے ، انہیں جوڑنے یا ا ن کے روابط پر کام کریں گے تو تحقیق کا پہلو غالب آئے گا اور تخلیق اس میں سے نکل جائے گی ۔
جنگ : سرائیکی میں بھی تو انشائیہ لکھا جا سکتا ہے ۔
پروفیسر شوکت مغل : ہاں سرائیکی میں انشائیہ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ۔ میں نے سرائیکی میں مضمون تو لکھے ہیں لیکن انشائیہ اور دوسری چیزیں نہیں لکھیں ۔
جنگ : آپ نے بتایا کہ آپ اردو اور سرائیکی کے روابط کی تلاش میں اردو سے الگ ہوئے ۔ اردو ایک بڑی زبان ہے جسے لوگ سرائیکی کے مقابلے میں زیادہ سمجھتے ہیں آپ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ نے خود کو محدود کر لیا ؟
پروفیسر شوکت مغل : میرا خیال ہے کہ میرا اردو سے رابطہ منقطع نہیں ہوا ۔ میرا کام دو زبانوں کے حوالے سے اردو میں بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے مثلاً میں نے تین عدد ”نور نامے“ مرتب کیے ہیں ۔ ان کا تعارف اور دیباچہ اردو میں لکھا گیا ہے ۔ اردو زبان میں میرے لکھے ہوئے مضامین آج بھی آ رہے ہیں ۔ ” سرائیکی اکھان“ جو میری اپنی کتاب ہے اس میں تین کام اردو کے اور ایک سرائیکی کا ہے ۔ سرائیکی کہاوتوں کا ترجمہ سارااردو کا کام ہے ۔ دیگر کتابوں میں بھی میرا اردو کا کام موجود ہے ۔ میرا لغت کے حوالے سے جتنا بھی کام ہے وہ اردو میں ہے ۔ لغت میں سرائیکی کے جتنے بھی الفاظ ہیں ان کا ترجمہ اردو میں کیا گیا ہے ۔ میرا اردو سے رابطہ کبھی بھی منقطع نہیں ہوا لیکن انفرادی حوالے سے جتنا بھی کام اردو میں ہونا چاہیے وہ میں نے نہیں کیا ۔
جنگ : آپ نے اب تک مختلف موضوعات پر کام کیا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ نے سب سے بہتر کام کس موضوع پر کیا ہے ؟
پروفیسر شوکت مغل : میں سمجھتا ہوں میری کتاب ”سرائیکی اکھان“ جو 1992 ءمیں شائع ہوئی تھی وہ اس قدر جامع تھی اور ہے کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اس قدر جامع کام نہیں ہوا ہو گا ۔ 10 برس بعد بھی آج اگر یہ کتاب کسی کتاب کے مقابلے میں رکھ دی جائے تو اسے اس پر برتری حاصل ہو گی ۔ اس لیے کہ اس کتاب میں تحقیق بھی ہے ، ترجمہ بھی ہے اور تخلیقی نوعیت کا مفہوم بھی ہے اور اس کے ساتھ مقابل اردو کہاوتیں بھی موجود ہیں ۔ پاکستان کی کسی بھی زبان میں آج تک اتنا جامع کام نہیں ہوا ۔
جنگ : کیا آپ کو سرائیکی کی جامع لغت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ؟
پروفیسر شوکت مغل : مجھے بالکل ضرورت محسوس ہوئی ہے اور میں اس پر بھی کام کر رہا ہوں ۔ میں نے اپنے کام کا آغاز ہی لغت کے لیے کیا تھا ۔ میں محسوس کرتا تھا کہ سرائیکی زبان کو جامع لغت کی ضرورت ہے اور اس زبان میں اتنی گنجائش ہے کہ اس کی ایک جامع لغت بن سکتی ہے اور وہ جامع لغت بھی کئی لاکھ الفاظ پر مشتمل ہو گی ۔ لیکن سرائیکی لکھنے والوں کے پاس وسائل کم ہیں اور انہیں چھپنے کے بھی اتنے مواقع نہیں ملتے اس لیے میرے نزدیک اس کا کام مؤ خر ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر وسائل ہوں تو سرائیکی کی لغت آنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی ۔
جنگ : سرائیکی رسم الخط کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے۔ کیا اس کا ابھی تک کوئی تعین ہوا ہے ؟
پروفیسر شوکت مغل : میرا پہلا کام سرائیکی زبان کا قاعدہ ہے ۔ یہ میں سمجھتا ہوں ”بسم اللہ“ ہے ۔ سرائیکی زبان کی لغت مرتب کرنا میرا نصب العین ہے ۔ میرے نزدیک سرائیکی رسم الخط کا تعین ہو چکا ہے ۔ 1975 ءاور 1979 ءمیں جو کانفرنسیں ہوئی تھیں انہوں نے سرائیکی کی آواز کو متعین کر دیا تھا اور وہ آوازیں بالکل ٹھیک ہیں ۔ پچھلے برس میری ایک کتاب آئی ہے ”دوسو سال کی سرائیکی کی خاص آوازوں کی کہانی “ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سرائیکی آوازوں پر جس قدر لوگوں نے کام کیا وہ ایک تاریخی ترتیب سے میں نے ایک جگہ اکٹھا کر دیا ہے ۔ اس کے متعلق میرا نقطہءنظر یہ تھا کہ سرائیکی کا رسم الخط طے ہو چکا ہے ۔ اس کی پانچ آوازیں متعین ہو چکی ہیں اس لیے جو طے شدہ ہے اس کے مطابق تحریر ہونا چاہیے ۔
جنگ : سرائیکی ادب کے مقابلے میں سندھی ادب بہت مقبول ہے ۔ کیا سرائیکی کو اس لیے مقبولیت نہیں ملی کہ اس کا رسم الخط طے نہیں ہو سکا ؟
پروفیسر شوکت مغل : جب ایک چیز کو اکثریت قبول کر لے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ طے شدہ ہے ۔ اگر ایک محدود اقلیت اس سے اختلاف کرتی رہے تو اس کی بات کو زیادہ وزن نہیں دیا جا سکتالکھاریوں کی اکثریت 1979 ءمیں رسم الخط طے ہونے کے بعد سے اس کے مطابق لکھ رہی ہے۔ جہاں تک اس زبان کے آگے بڑھنے کا تعلق ہے اس میں رکاوٹ یہ رہی ہے کہ یہاں لکھاریوں کو فنانس کا مسئلہ درپیش رہا ۔ جس لکھاری نے جو کچھ لکھا ہے اپنے ذاتی خرچ پر لکھا ہے ۔ میری تمام کتب انفرادی کوشش کی بدولت ہی چھپ رہی ہیں ۔ ادارے ان کو چھاپنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔
جنگ : آپ کے نزدیک سرائیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر کیا اقدمات ہونے چاہئیں؟
پروفیسر شوکت مغل : ہمارا جو ادبی بورڈ ہے وہ ملتان میں ہے اور سرائیکی ادبی بورڈ بہاولپور میں ہے ۔ اسے حکومت فنڈز دیتی ہے جس سے یہ ادبی بورڈ چلتا ہے اور کتابیں شائع ہوتی ہیں ۔ جو ادارے انفرادی طور پر چل رہے ہیں وہ فنڈز سے ہی کچھ نہ کچھ کر لیتے ہیں ۔ جب تک حکومت کی طرف سے کوئی اتھارٹی سرائیکی زبان پر قائم نہیں ہو جاتی اس وقت تک سرائیکی زبان کے حوالے سے زیادہ کام نہیں ہو سکتا ۔ جب تک وسائل نہ ہوں اور حکومتی سرپرستی بھی حاصل نہ ہو اس وقت تک زبان ترقی نہیں کر سکتی ۔
جنگ : آپ کے خیال میں حکومتیں زبانوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔
پروفیسر شوکت مغل : جی ہاں ہر دور میں حکومتی سرپرستی کی بدولت ہی زبان کو فروغ حاصل ہوا ہے ۔
جنگ : سندھی زبان پنجابی کی نسبت زیادہ مقبول ہے اور پڑھی بھی جاتی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اس کی مقبولیت میں حکومت کا کردار ہے یا افراد کا ؟
پروفیسر شوکت مغل : سندھی زبان کی مقبولیت میں افراد نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔بہت بڑے نام بھی ہیں مثلاً مخدوم طالب المولیٰ نے کروڑوں روپے کی جائیداد سندھی کے لیے وقف کی تھی ان کے پاس وسائل تھے ۔ آج بھی سندھی زبان وسائل کی بدولت ترقی کر رہی ہے ۔
جنگ : سرائیکی کو مخلص لوگ کیوں نہ مل سکے ؟
پروفیسر شوکت مغل : میرے خیال میں سرائیکی والوں کو احساس کچھ کم رہا ہے لوگوں کو انفرادی طور پر کچھ احساس ضرور ہوا لیکن اجتماعی سطح پر جتنا احساس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو سکا ۔ اس زبان کو اس طرح سے مخلص لوگ نہیں مل سکے جس طرح سندھی زبان کو ملے تھے ۔
جنگ : کیا سرائیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے اپنا کام صحیح طور پر انجام دے رہے ہیں ۔
پروفیسر شوکت مغل : جو ادارے موجود ہیں وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ ادارے بہت کم ہیں ۔ بہت تھوڑے ادارے کام کر رہے ہیں ۔ لیکن جہاں تک ان کے کام کا تعلق ہے میں ان سے پورا مطمئن ہوں ۔
جنگ : کیا زکریا یونیورسٹی کا ” سرائیکی ریسرچ سنٹر“ سرائیکی کے فروغ میں کوئی کردار ادا کر سکے گا ؟
پروفیسر شوکت مغل : زکریا یونیورسٹی کا سرائیکی ریسرچ سنٹر حال ہی میں قائم ہوا ہے اس نے کام بھی شروع کر دیا ہے اس ادارے کے تحت ایک دو کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔ یہ بھی سنا ہے کہ لغت پر بھی کام ہورہا ہے ۔ جب یہ کام سامنے آئے گا تو یقینا یہ کام بھی سود مند ثابت ہو گا ۔
جنگ : دور جدید میں آپ سرائیکی کا نمائندہ شاعر کسے سمجھتے ہیں؟
پروفیسر شوکت مغل : شاعر تو بہت ہیں ۔ قدیم دور میں خواجہ غلام فرید ؒ سرائیکی کے نمائندہ شاعر رہے ہیں ۔ جدید دور میں رفعت عباس ہیں ، خالد اقبال ہیں ، اشو لال ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی جدید انداز میں کام کرنے والے ہیں ۔
جنگ : سندھ میں شاہ لطیف اور سچل سر مست کے بعد ایک دور جدید کی طرف آتے ہیں تو ایک نام شیخ ایاز کا نظر آتا ہے سرائیکی میں ایسا نام کونسا ہے ؟
پروفیسر شوکت مغل : میرے نزدیک سرائیکی زبان میں کوئی ایسا نام موجود نہیں ہے ۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو عصر حاضر میں سرائیکی کا نمائندہ شاعر کوئی نہیں ہے ۔
جنگ : آپ رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری جنرل ہیں بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے گلڈ کو فعال بنانے میں کیا کردار ادا کیا ؟آپ کے دور میں اس کی کیا کیفیت رہی ؟
پروفیسر شوکت مغل : میرے دور میں بھی اس کی وہی کیفیت رہی جو اس سے پہلے تھی ۔ یعنی جو جمود پہلے سے قائم تھا وہ میرے دور میں بھی قائم رہا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رائٹرز گلڈ کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں اور لوگوں کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ کوئی آدمی اپنے وسائل اور وقت دونوں بیک وقت خرچ نہیں کر سکتا ۔
جنگ : آپ وسائل کی بہت زیادہ بات کر رہے ہیں ۔ آرٹس فورم یا اردو اکیڈمی کے پاس کون سے وسائل تھے وہ بھی تو مسلسل کام کر رہے ہیں ۔
پروفیسر شوکت مغل : وہ ادارے چل تو رہے ہیں لیکن لوگوں کا ذوق و شوق پہلے جیسا نہیں ہے اور نہ ہی سامعین کی تعداد پہلے جیسی ہے ۔ جب سامعین کی تعداد گھٹتی ہے تو اس کا مطلب ان اداروں میں زیادہ کام نہیں ہو رہا ۔ رائٹرز گلڈ حکومتی سرپرستی میں بنایا گیا تھا اس لیے اس میں ادیبوں کی شرکت رہی لیکن اردو اکیڈ می اور دیگر ادارے ادیبوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں اس لیے اس میں ادیبوں کی شرکت بھرپور رہی ہے ۔
جنگ : مستقبل میں آپ کے کیا ارادے ہیں اور آپ کی کونسی تصانیف منظر عام پر آ رہی ہیں؟
پروفیسر شوکت مغل : میں مستقبل میں سرائیکی زبان میں کام کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے اب تک سرائیکی زبان میں 25 کتابیں دی ۔ اس میں زیادہ کام لسانیات کا ہے اس وقت جو کام جاری ہے وہ سرائیکی زبان کی لغات اور اصطلاحات پیشہ وران بہت بڑا کام ہے ۔ اردو زبان میں 40 کی دہائی میں 8 کتابیں اصطلاحات پیشہ وران پر ہیں ۔ اس کے بعد اردو زبان میں بھی کام نہیں ہوا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ علاقائی زبان میں بھی اصطلاحات پیشہ وران پر کام نہیں ہوا ۔ میں سرائیکی میں یہ کام کر رہا ہوں ۔ جب جامع لغت تیار ہو کر آئے گی تو اصطلاحات پیشہ واران بھی اس کا حصہ ہو گی ۔

( مطبوعہ روزنامہ جنگ چار اگست 2003 ء )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker