پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنا انتخابی منشور پیش کردیا ہے۔ خود کو ملک کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی قرار دینے والی پی ٹی آئی نے انتخابات کے انعقاد سے محض 11 روز پہلے اپنا منشور عام کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ایک روز پہلے اپنے منشور کا اعلان کرچکی ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جو منشور پیش کیا ہے اسے منشور سے زیادہ نعروں کے مجموعے کا نام دینا چاہئے۔
تحریک انصاف کے اس نام نہاد منشور میں وزیر اعظم براہ راست منتخب کرنے ، قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال سے کم کرکے چار سال کرنے اور سینیٹ کی مدت پانچ سال کے وعدے کے سوا کوئی ٹھوس اقدام تجویز نہیں کیے گئے۔ البتہ نعروں کی حد تک یہ اعلان ضرور کیا گیا ہے کہ قانون کی بالادستی ہونی چاہئے اور کسی کے ساتھ عدم مساوات کا برتاؤ نہ ہو۔ اسی طرح خارجہ پالیسی میں سب ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو تھیوری کی حد تک یہ دونوں عنصر اس وقت بھی ملکی نظام کا حصہ ہیں۔ ملک کا آئین سب شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور نظام عدل دعویٰ کرتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔ اسی طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ کسی بھی ملک سے عدم مساوات کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں گے۔ لیکن دنیا بھر کے ممالک کی طرح بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ گرمجوشی پائی جاتی ہے۔
ملک کے سب سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں اعتراف کرتی ہیں کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ ملکی معیشت کی بحالی ہے۔ حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف کا انتخابی منشور اس حوالے سے ایک بھی ٹھوس تجویز سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔ اگرچہ باقی دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے اپنے منشور میں صرف عوام کو سہولتیں دینے کے وعدے ہی کیے ہیں اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے، آمدنی میں اضافے، مصارف میں کمی اور وسائل کی بہتر تقسیم کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا۔ البتہ تحریک انصاف تو ان دونوں پارٹیوں کو ناکام جماعتیں قرار دے کر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ تحریک انصاف ہی ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکال سکتی ہے۔ لیکن پارٹی کے انتخابی منشور میں ایسی کسی حکمت عملی کی طرف اشارہ موجود نہیں ہے،جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ تحریک انصاف اقتدار میں آکر ملک کا موجودہ معاشی ڈھانچہ تبدیل کرے گی، عالمی اداروں سے قرض لینے کی حکمت عملی بدلے گی یا کن طریقوں سے متبادل وسائل فراہم کرکے ملک کو معاشی طور سے خود کفیل بنایا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر علی کی طویل پریس کانفرنس میں ایسے کسی معاشی اصلاحاتی منصوبہ کا حوالہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، لیول پلئینگ فیلڈ فراہم کرنے کی بجائے فیلڈ ہی واپس لے لینے کے شکوے، ریلیاں نکالنے میں مشکلات کا ذکر کرنے کے علاوہ عمران خان کے خلاف سائفر کیس میں سرکاری وکیل دفاع مقرر کرنے سے متعلق واویلا زیادہ تھا۔ گویا تحریک انصاف کا انتخابی منشور بنیادی طور پر لوگوں کو یہ نعرہ بیچنا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت پر بہت ظلم ہورہا ہے، اس لیے عوام کو اسے ووٹ دینا چاہئے۔
ہوسکتا ہے بیرسٹر گوہر علی کی قیادت میں تحریک انصاف اس نعرے کو بیچنے میں کامیاب ہوجائے۔ فرض کرلیا جائے کہ ملک کے عوام کی اکثریت نے تحریک انصاف کے ساتھ ریاستی جبر و زیادتی کو مستردکرتے ہوئے ، اسے ہمدردی کا ووٹ اتنی بڑی تعداد میں دے دیا کہ پارٹی ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کی قیادت میں پارٹی کا ہر لیڈر یہی اعلان کرتا ہے بلکہ اس اعلان کو سرکاری اہلکاروں اور دوسری پارٹیوں کو ڈرانے دھمکانے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے کہ 8 فروری کو ملک میں ایک نئی تاریخ لکھی جائے گی۔ تحریک انصاف کے ووٹر اتنی بڑی تعداد میں پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں گے کہ دوست دشمن سب حیران رہ جائیں گے۔ تحریک انصاف کو اگر واقعی اپنی انتخابی کامیابی کا اتنا یقین ہے ، پھر تو اس کے پاس امور حکومت چلانے کا ایسا ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ بھی ہونا چاہئے کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کی تقدیر تبدیل کرنے والے اقدامات کا آغاز کرسکے۔ لیکن بیرسٹر گوہر علی کی پریس کانفرنس سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی کے پاس اب بھی ’ریاست مدینہ‘ کے ماڈل پر نظام استوار کرنے کا جذباتی نعرہ بلند کرنے کے سوا کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے لیڈر نے پارٹی کے انتخابی منشور کا ایک اہم ترین نکتہ یہ بتایا ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے ’سچائی و مصالحتی کمیشن‘ قائم کیا جائے گا۔ چونکہ اس کی تفصیلات بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اس لیے قیاس کرنا چاہئے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں اور لیڈروں کو چونکہ قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو مسلسل قید رکھا گیا ہے اور انہیں تشدد اور ریاست کے خلاف بغاوت جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ لہذا تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد اپنے ستم رسیدہ کارکنوں کی دکھ بھری کہانیاں عام کرنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان پر روا رکھے گئے ’مظالم‘ کی تشہیر ہوسکے۔ اس طرح پارٹی کو اقتدار کی جو مدت بھی نصیب ہو، اس میں اس پلیٹ فارم پر بیان کی گئی کہانیوں کی آڑ میں کارکردگی کے بارے میں سوالات سے بچا جاسکے۔ اس سے کم از کم یہ اندازہ تو کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کو خود بھی یقین ہے 2018 کی طرح اگر وہ ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے پاس پہلے ہی کی طرح معاشی، سماجی، سفارتی اور حکومتی ڈھانچہ کی اصلاح کا کوئی واضح نقشہ موجود نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں البتہ دوررس آئینی اصلاحات کا وعدہ کیا گیاہے۔ ان میں وزیر اعظم کے علاوہ سینیٹ کے پچاس فیصد ارکان کو براہ راست منتخب کرنے کے علاوہ قومی اسمبلی و سینیٹ کی مدت میں ایک ایک سال کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس انوکھی تجویز کا البتہ ملکی مسائل حل کرنے سے تعلق قائم کرنا مشکل ہے۔ لیکن اسمبلیوں اور سینیٹ کی مدت میں کمی کے باعث کم وقت میں انتخابات منعقد کرنے ہوں گے، یوں قومی مصارف میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سینیٹ کے نصف ارکان براہ راست جبکہ نصف بالواسطہ منتخب ہوں گے۔ ایک ہی ایوان میں دو مختلف طریقے سے منتخب ہونے والے ارکان کے درمیان البتہ ان کی حیثیت میں توازن کا کوئی طریقہ تجویز نہیں کیا گیا۔ نہ ہی نصف سینیٹ کے براہ راست انتخاب کی حکمت بیان کی گئی ہے۔
اس کے برعکس وزیر اعظم کے براہ راست انتخاب کی تجویز سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی، سربراہ حکومت کو قومی اسمبلی کے سامنے جوابدہ بنانے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ سابقہ حکومت کے دورانیہ میں عمران خان بطور وزیر اعظم شاذ و نادر ہی اسمبلی میں آتے تھے۔ اور اپوزیشن کے ساتھ مکالمہ کا راستہ یہ کہتے ہوئے بند کردیاگیا تھا کہ ’یہ سب بدعنوان ہیں‘۔ براہ راست منتخب ہونے والا وزیر اعظم نہ کسی کو جوابدہ ہوگا اور نہ ہی اس کے کسی اقدام کی گرفت ہوسکے گی۔ بتدریج اس طریقہ کو ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا خواب پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ ملک پر بالواسطہ طور سے شخصی آمریت نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسے قبول کرلیا گیا تو ملک میں موجودہ لولی لنگڑی جمہوریت سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
تحریک انصاف اس وقت ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور اسے سیاست میں فوج کی مداخلت پر اعتراض ہے۔ عمران خان نے گزشتہ سال 9 مئی کے بعد سے خود کو اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاسی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے ۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کی بات کرنے والے اب فوج کے لاڈلے بن چکے ہیں، اسی لیے مسلم لیگ (ن) کو جتوانے کے لیے پورا نظام کام کررہا ہے لیکن عمران خان اس نظام کو للکارنے کے الزام میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہا ہے۔ البتہ بیرسٹر گوہر علی نے پارٹی کا جو انتخابی منشور پیش کیا ہے ، اس میں سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت کا قلع قمع کرنے کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی ایسی کوئی آئینی اصلاحات متعارف کروانے کا وعدہ کیا گیاہے۔ اس کے برعکس وزیر اعظم کے براہ راست انتخاب کی تجویز دے کر ایک منتخب لیڈر کو بھی ہر قسم کے احتساب و جواب دہی سے مبرا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ منشور کسی ایسی پارٹی کا منشور نہیں ہے جو ملک میں اقتدار کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرکے اختیارات عوام تک منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہو۔ یا ریاستی ڈھانچے میں تبدیلی سے عوام کے لیے مالی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہو۔
تحریک انصاف نے اپنے منشور کو ’ شاندار پاکستان، شاندار مستقبل اور خراب ماضی سے چھٹکارا‘ کا عنوان دیا ہے۔ البتہ بیرسٹر گوہر علی یہ وضاحت نہیں کرسکے کہ پارٹی جس خراب ماضی سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے کیا اس میں تحریک انصاف کی حکومت کے ساڑھے تین سال بھی شامل ہیں؟ یا اس عہدکو درخشاں قرار دینے کے لیے کوئی ضمنی آئینی ترمیم لائی جائے گی تاکہ باقی ماندہ ماضی خراب قرار پائے اور روشن مستقبل کا آغاز تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے سے ہو۔ اس نعرے نما عنوان کو البتہ باقی تمام سیاسی پارٹیوں و لیڈروں سے نجات حاصل کرنے کا اعلان بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
یوں یہ منشور اس لحاظ سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس میں تحریک انصاف کے سوا باقی سب سیاسی پارٹیوں کو خراب ماضی کا حصہ قرار دے کر ، ان سے نجات حاصل کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ جمہوریت کے نام پر آمریت لانے کا اس سے بہتر عنوان اور کیا ہوسکتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

