اہم خبریںخیبر پختونخواہ

پی ٹی ایم کے عارف وزیر قاتلانہ حملے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئے

اسلام آباد : پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما عارف وزیر قاتلانہ حملے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔پولیس کے مطابق عارف وزیر کو جمعے کی رات کے وقت ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔
ایس ایچ او تھانہ وانا نعمان وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ افطار سے چند منٹ پہلے پیش آیا اور اس کے نتیجے میں عارف وزیر کو تین گولیاں لگیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ اسلام آباد کے رہنما نایاب خان کے مطابق جو کہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں موجود تھے عارف وزیر کا پانچ گھنٹے کا طویل آپریشن ہوا تھا۔ آپریشن کے بعد وہ زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔
عارف وزیر کے قریبی ذرائع کے مطابق عارف وزیر کی تدفیق وانا میں کی جائے گئی۔ جس کی مکمل تیاریاں کی جارہی ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر پیغام میں عارف وزیر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عارف وزیر کو ’گڈ‘ دہشت گردوں نے قتل کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری اِن کے ماسٹرز کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی‘محسن داوڑ نے اس سے قبل کی گئی ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’حملہ آوروں کو ریاستی پشت پناہی حاصل تھی۔‘انھوں نے کہا کہ ’حملہ آوروں کے سرپرستوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ گولیاں، زخم اور جیلیں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی، آپ کو شکست ہو کر رہے گی۔‘
صوبہ خیبر پختوںخواہ پولیس ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں اس وقت سخت ترین حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پولیس اس وقت عارف وزیر کے قاتلوں کی تلاش کے لیے جگہ جگہ چھاپے ماررہی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع جنوبی وزیرستان کی پولیس کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما عارف وزیر کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی جس کے بعد انھیں زخمی حالت میں ڈیرہ اسماعیل خان ہسپتال منتقل کیا گیا۔
عارف وزیر پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم رکن اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔پولیس کے مطابق عارف وزیر افطار سے پہلے اپنے گھر کے قریب ایک دکان پر بیٹھے تھے اور جب وہ وہاں سے روانہ ہونے لگے تو نامعلوم کار سواروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جب عارف وزیر کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تو اس وقت موقع پر موجود لوگوں نے بھی حملہ آور کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ کئی گولیاں حملہ آوروں گاڑی کو بھی لگی ہیں مگر وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس چاروں طرف پھیل چکی ہے وانا اور پورے وزیرستان میں ہر گاڑی کی تلاشی لی جا رہی ہے اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کی گاڑی پر جوابی فائرنگ ہوئی ہے جس وجہ سے ممکن نظر آتا ہے کہ پولیس اس گاڑی کو جلد ہی تلاش کر لینے میں کامیاب ہو جائے گئی۔تاہم پولیس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جوابی فائرنگ سے گاڑی میں موجود کوئی شخص ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔
عارف وزیر کون ہیں؟
عارف وزیر کا شمار جنوبی وزیرستان کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کو اہم مشر سمجھا جاتا تھا۔عارف وزیر جنوبی وزیرستان کی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا شمار پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم اور بانی رہنماوں میں کیا جاتا ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ دو سالوں کے دوران ان پر مختلف مقدمات قائم ہوئے تھے۔ جن میں انھوں نے گذشتہ دو سالوں کے دوران کم از کم پندرہ ماہ جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل میں گزارے تھے۔ان پر دائر مقدمات تاحال مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔عارف وزیر زمانہ طالب علمی ہی سے قوم پرست سیاست میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں وہ پختوںخواہ ملی سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما تھے۔تینوں بھائی میں سے صرف عارف وزیر ہی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا دعویٰ ہے کہ عارف وزیر پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار بتا رہے ہیں کہ اس وقت دہشت گرد وانا اور وزیرستان میں دندناتے پھر رہے ہیں جہاں انھوں نے اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں اور وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔’محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ عارف وزیر بھی اسی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘یہ حملہ ہمیں مشتعل کرنے کی سازش ہے تاکہ پرامن لوگ مشتعل ہوں۔ امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو اور حالات سنگین ہو مگر پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان مشتعل نہیں ہوں گے اور پرامن طور پر اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے۔’
محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر پشتون تحفظ موومنٹ بھرپور احتجاج کرے گی۔عارف وزیر پر فائرنگ کا واقعہ کے بعد پاکستان اور بیرونی ملک سے بڑی تعداد میں پشتون تحفظ موومنٹ کے حامیوں نے واقعے کی مذمت کی ہے۔پی ٹی ایم کی خاتون رہنما ثنا اعجاز کا کہنا تھا کہ یہ بدترین دہشت گردی کا واقعہ ہے جس پر خاموش نہیں رہیں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker