قدیم مصری تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ایک نمایاں تہذیب ہے۔ماہرینِ مصریات کے مطابق مصر،عراق اور دریائےسندھ کی وادی کی تہذیبیں پانچ ہزار اور چار ہزار قبل مسیح کی تہذیبیں ہیں۔قدیم مصری تہذیب و تمدن میں اہراموں اور مقبروں کو نمایاں حیثیت ہے۔جو کہ مصر کا عظیم عجوبہ اور دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہیں۔اہرام مصر جو کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ویسے کے ویسے موجودہ ہیں اور دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔کہ یہ کیسے بنائے گئے ہیں؟اور کیوں بنائے گئے؟؟
اہرام مصر انسان کے ہاتھ سے بنائے ہوئے سر بفلک پہاڑ ہیں جن کی بنیادیں مربع اور پھر ہر ضلع اوپر جاتے ہوئے جھکتےجھکے کم ہو کر ایک نوک پر ختم ہو جاتے ہیں۔اہرام دیکھنے والوں کو مخروطی میناروں کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔یہ اہرام دریائے نیل کے مغرب میں گورنریٹ گیزاہی میں واقعی ہیں۔قاہرہ سے تقریبا 22 کلومیٹر کے فاصلے پر صحرا میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔
اہرام، ہرم کی جمع ہےجو کہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔اس کے معانی "پرانی چیز”کے ہیں۔اہرام کو انگریزی میں pyramid کہا جاتا ہے جو کہ یونانی لفظ (piro) بہ معنی” آگ”اور مڈ (mid) بہ معنی”بیچ کے” ہیں۔یوں اس کے معانی "بیچ میں آگ” کے ہیں۔اس حوالے سے دیکھیں تو پرامڈ وہ جگہ کہلاتی ہے جس کے بیچ میں آگ ہو۔مشہور و معروف تاریخ دان پی این اوک P.N.OAK کے مطابق پرامڈ کا تلفظ ram idam ہےجس کا مطلب ” مکمل طاقتور ہستی”ہے۔
عربوں نے جب سر زمین مصرکو فتح کیا تو انہیں یہ اہرام دیکھ کر سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیا چیزیں ہیں؟البتہ انہیں کوئی مناسب نام دینے سے قاصر رہے۔یوں انہوں نے ان عجائبات کو اہرام یعنی "پرانی چیزیں ” کہنا شروع کر دیا۔ان اہراموں کی ابتداء چبوتروں سے ہوئی پھر آہستہ آہستہ یہی چبوترے اہراموں کی شکل اختیار کر گئے۔قدیم مصر میں ان اہراموں کے بنائے جانے کا مقصد فرعونوں، امراء اور رعایا کے مردوں کی لاشوں اور دولت کو محفوظ بنانا تھا۔البتہ اہراموں کی تعمیر کے مقصد میں ماہرین مصریات کی مختلف رائے ہیں۔
الف: یونانی مورخین
(گاب،گوبر،ٹاپلراور پروفیسر اسمتھ)کے مطابق یہ اہرام انسانوں کے جسم کی قوت، وزن اٹھانے کی صلاحیت اور قدوقامت کو محفوظ بنانے والی اشیاء کو محفوظ کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔
ب: دوسری رائے میں کچھ ماہرین مصریات انہیں ستاروں کی رفتار معلوم کرنے کا ذریعہ گردانتے ہیں۔
ج: تیسری رائے میں کچھ ماہرین اسے علم فلکیات سے جوڑتےہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
د: کچھ فرانسیسی ماہرین مصریات کے مطابق یہ اہرام دریائے نیل کو ریت کےطوفانوں سے بچانے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔
البتہ زیادہ مستند اور درست رائے یہی ہے کہ مصریوں نے اپنے مردوں کی لاشوں اور انکی دولت کو محفوظ کرنے کے لیے جو مقبرے تعمیر کیے انہیں اہراموں کا نام دیا گیا ۔ان اہراموں کی تعمیر کے متعلق مصری ادب کےمحقق مرزا ابن حنیف نے اپنی کتاب "مصر کا قدیم ادب "جلد اول میں لکھا ہے:-
"یہ وہ زمانہ تھا جب موجودہ قاہرہ کے نزدیک اس کے والد فرعون خوفونے اپنا ہرم تعمیر کیا اوراس کے فورا ہی بعد دو اور بڑےہرم تعمیر کیے۔ان اہراموں کو اس قدر مضبوط اور عالی شان بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کو زیادہ سے زیادہ یقینی اور محفوظ بنایا جا سکے۔”
(مصر کا قدیم ادب )جلد اول صفحہ 285
اہرام قدیم مصریوں کے فن تعمیر کی اعلی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔انہی اہراموں میں قاہرہ کے قریب وادئ غزہ میں پائے جانے والے تین بڑے اہرام ہیں۔
1:خوفو یا چیوپس کا ہرم
2:خاف را یا "اور”کا ہرم
3:منقورا کا ہرم
ان تین اہراموں میں سب سے بڑا خوفو فرعون کا ہرم ہے۔جو کہ سات سو یا نو سو قبل مسیح میں تعمیر ہوا۔یہ تیرا ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔اور اس کی اونچائی 485فٹ ہے۔ایک مصری پروفیسر کے بقول اس ہرم کی تعمیر میں پتھر کی پچیس لاکھ سِلیں استعمال کی گئیں ہیں اور ہر سِل کا وزن تین سے نوے ٹن تک ہے۔جب نپولین مصر میں تھا تو اس نے صرف اس ایک اہرام میں استعمال کیے گئے پتھروں کا تخمینہ لگایا کہ ان سے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ موٹی دیوار بنائی جا سکتی ہے۔
خوفو فرعون کے ہرم کے متعلق ماہرین مصریات ہیروڈوٹس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ خوفو کا یہ ہرم ایک لاکھ کاریگروں اور مزدوروں کی 20 سال کی مشقت کے بعد تیار کیاگیا۔
دوسرا بڑا ہرم فرعون "خف را” یا "اور” کا ہے۔یہ خوفو فرعون کے ہرم کے ساتھ ہی ہے۔اس کی اونچائی 472 فٹ ہے۔اور ہر پہلو کی چوڑائی 706 فٹ ہے ۔خف را کے ہرم کو یونانیوں نے "چیفرن” کا نام دیاہے۔بعض ماہرین مصریات کے مطابق اس ہرم کی اونچائی پہلے سے کم ہو گئی ہے۔
تیسرے نمبر پر بڑا ہرم منقورا فرعون کا ہے۔یہ بھی خوفو کے ہرم کے ساتھ واقع ہے ۔یونانیوں نے اسے "منکرس” کا نام دیا۔اس ہرم کو ” جومن کوزہ”اور "حر” بھی کہا جاتا ہے۔اس کی اونچائی 215سے 218 فٹ ہے۔اور پہلو 344 سے 346 فٹ پر مشتمل ہے۔
فیس بک کمینٹ

