قیصر عباس صابرکالملکھاری

ایڈیٹروں، میگزین ایڈیٹروں کے مفادات اور ہومیو پیتھک کالم : صدائےعدل / قیصر عباس صابر

اخباری مالکان کے مفادات جسے وہ پالیسی کا نام دے کر نظریہ پاکستان کا پرچار کرتے ہیں اور کبھی لبرل ازم کے پردے میں خود کو روشن خیالوں کے امام گردانتے ہیں ۔ ہر نئی حکومت کےلئے خصوصی ضمیمے شائع کرنا بھی ان کا صحافتی فریضہ ہے ۔ کچھ چیف ایڈیٹرز نئے وزیر اعظم کے ساتھ اپنے گزرے ماضی کی تصویری جھلکیوں کو نئے کیپشن دیتے ہیں اور ایسی کوششوں پر پانی تب پھرتا ہے جب کوئی افلاطون قسم کا کالم نگار سچ کا ٹیکہ لگاتا ہے۔ اشتہاری کمپنیاں اب لاکھوں کے اشتہار شائع کروا کے کروڑوں کا فائدہ لیتی ہیں جب بات کسی اشتہاری پارٹی کے ناراض ہونے کی ہو تو پھر سب نظریات، لبرل ازم اور صحافتی اقدار کھوہ کھاتے لگ جاتے ہیں ۔ اس لئے کالم نگار کو یہ مجبوریاں سمجھتے ہوئے ہومیوپیتھی قسم کا کالم لکھنا چاہیے ۔ جہاں مالکان کے مفادات کبھی زد میں نہیں آئیں گے وہاں ادارتی صفحہ پر اچھی جگہ بھی مل پائے گی ۔ افلاطون بننے سے کالم میں کانٹ چھانٹ اور جملوں کو آگے پیچھے کرکے آپ کا وہ مفہوم ہی بدل دیا جائے گا جو آپ قارئین تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ کالم نگار کو میگزین ایڈیٹر سے ہرگز زیادہ عالم فاضل نہیں بننا چاہیے کیونکہ میگزین ایڈیٹر ایک ہی وقت میں شاعر ، افسانہ نگار اور ادیب بھی ہوتے ہیں اور پھر اپنے مرتبے پر زد آنے سے وہ آپ کے کالم کو رد کرسکتے ہیں اس لئے ہومیوپیتھی قسم کا کالم ہی کالم نگار کی عزت اور بقاءکےلئے کافی ہے۔ چند سال پہلے ایک ”نظریاتی “اخبار میں کالم شروع کیا اور اس میں غالب کے چند اشعار موضوعاتی نسبت سے لکھ بھیجے تو میگزین ایڈیٹر جو بچوں کے میگزین ایڈیٹر المعروف بھائی جان ہیں انہوں نے ان اشعار کو میری تخلیق سمجھتے ہوئے ان کا وزن ایسے درست کیا کہ وہ واقعی میرے لگنے لگے۔پہلے خبر بھی ہومیو پیتھی بنا کر شائع کی جاتی تھی ۔ اگر کسی کرپٹ بیورو کریٹ پر کمیشن کھانے یا بھتہ لینے کا الزام ہوتا تو اس کے نام کی بجائے صرف یہ سرخی دی جاتی ”حاسدین کا ایماندار افسر پر کرپشن کا الزام“ ایسی خبر سے خبرکے فریقین رپورٹر اور ایڈیٹر پر خفا نہ ہوتے بلکہ خاص تہواروں پر خصوصی اشاعت کے نام پر مال پانی بھی بھجوادیتے ۔
میں نے 1998میں ایک ” دو قومی نظریے“ کے محافظ روزنامے سے صحافت کا آغاز کیا تو وہاں پنجاب پولیس کے تفتیشی کی طرح خبر دینے والے کو پوچھ گچھ کے عمل سے یوں گزارا جاتا جیسے وہ کسی سرکاری اہلکار کے خلاف نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے کارکن کے خلاف خبر شائع کروانے آیا ہو۔ زیادتی کاشکار لڑکی کے نام کا پہلا حرف شائع کرنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر غریبوں پر زمین تنگ کردینے والے وڈیروں کے خلاف خبر میں بھی ان کو صرف ایک بااثر زمیندار لکھا جاتا۔ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے اخبارات نہ صرف پورا نام شائع کرتے ہیں بلکہ عہدہ اور اس کی” میڈیکل ہسٹری“بھی نمایاں کی جاتی ہے ۔ خبروں میں تو تیزی آگئی مگر کالم جس سے ایڈیٹر کا متفق ہونا ضروری بھی نہیں ہوتا وہ تاحال ہومیو پیتھی قسم سے نہیں نکل سکا۔ اگر زہریلا کالم ”منظوری“ کے عمل سے گزر کر آئے تو اسے روکنا چیف ایڈیٹر کے بس میں بھی نہیں ہوتا اور منظوری کہاں سے ملتی ہے یہ تو اب سب جانتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس خطے کے کالم نگار ”یاد رفتگاں“ پر بھی لکھیں تو کسی نہ کسی سطر میں ایک الگ صوبے کا مطالبہ شامل ہوتا ہے ۔
جشن بہاراں ، عیدین ، خواتین ایڈیشن ، ثقافتی میلے ، موسیقی کے پروگرام ، روہی رنگ اور ادبی ایڈیشن کے نام پر آپ جو مرضی شائع کرلیں کوئی پابندی نہیں مگر سنسر کی تلوار وہاں لٹکتی ہے جہاں آپ سیاست اور بیورو کریسی کو موضوع گفتگو بنائیں ۔ ہاں اگر کالم نگار لکھنے کا فن جانتا ہے تو پھر وہ ” خواتین ایڈیشن “ کو سیاسی آپریشن میں بدل سکتا ہے ۔ماضی کے مقابلے میں جدت کے نام پر جو ” قحط لفظی“ صحافت پر وارد ہوئی ہے اس میں اشاعتی اداروں نے بھی خود کو محفوظ نہیں رکھا بلکہ ” جانبداری “ کے ترازو میں جھکا وہی نظر آیا ۔خبر کو اگر صرف خبر سمجھ کر دیا جائے تو کہیں خرابی پیدا نہ ہو مگر”یاریاں“ نبھانے کےلئے صحافتی میرٹ کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں ۔ مرضی کی ہیڈ لائن ، پسند کی تصویریں اور اخباری صفحات کا پیٹ بھرنے کےلئے کالم نہ صرف لکھوائے جاتے ہیں بلکہ کالم نگار کی مرضی کے برعکس تبدیل بھی کردیے جاتے ہیں ۔ واقعات اور بیانات یوں چھاپے جاتے ہیں جیسے محسن نقوی نے کہا تھا:۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مشغول رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker