تیئیس سال پہلے ، ریلوے اسٹیشن کے ویران پلیٹ فارم نمبر تین کے ایک اجاڑ ڈھابے پر رضی الدین رضی کی نظم “ ستارے مل نہیں سکتے “ ان کی زبانی پہلی بار سنی تھی ۔اس نظم میں محبت کا اظہاریہ تلخ مفاہیم کا پردہ چاک کرتا تھا تو معنی بدل جاتے تھے بالکل ایسے کہ تلواروں میں پھول پروئے ہوں ۔
نیوز روم کی آخری کاپی پریس میں بھجوا کر وہ نہ جانے کیوں ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے آتے ۔ بہت دیر تک آسمان کو گھورتے تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ۔ریلوے اسٹیشن ، ٹرین کی سیٹی ، بھٹو صاحب ، ویرانی اور عقیدوں کے پردوں میں چھپی منافقت ان کا موضوع ہوتا۔
یوں لگتا جیسے وہ دیکھ سکتے ہیں ، جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ، وہ مجسم ہو کر انہیں نظر آ جاتا ہے یا شائد وہ جان چکے تھے کہ کوئی بھی کسی دوسرے کے بارے اچھا نہیں سوچتا ۔اس لئے وہ کچھ کہے ، کچھ سنے بغیر اپنے تعلقات کی سلیٹ پر دوستوں کو رولنمبر الاٹ کر دیتے۔
ان کے لئے خلوص ، محبت اور دوستی کے عقیدے کے سامنے سب مذاہب نیچ ہیں ۔ان کی لڑائی بھی تو یہی ہے کہ “ تم لوگ ملتے نہیں ہو” ۔وبا کے دنوں میں جب مل بیٹھنے کے تمام ٹھکانے بند ہو گئے تھے تو بھی وہ دستیاب رہے ۔ وبا نے زندگی کے جتنے رنگ گدلے کئے تھے انہوں نے تروتازہ رکھے۔وہ فون کرتے ہیں کہ “تم سب ایک جیسے ہو ، ملتے کم ہو،ایک ہی شہر میں رہ کر بھلا بندہ ملے بھی نہ؟” ہم گنگ ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے کہ وہ باتیں ان تک پہنچ گئی ہیں جو ہم زیر لب کرتے رہے ہیں ۔یوں لگتا کہ ہم جو روز ان سے چھپ کر کہیں نہ کہیں بیٹھتے ہیں وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔مخبری کے ڈر سے ہم نے ٹھکانے بھی بدل کر دیکھے مگر وہ سن لیتے تھے ، دیکھ بھی لیتے تھے ۔

انہوں نے عقیدوں کے عقدے جب سے کھولے ہیں ہم نے کسی کو بھی عقیدت سے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔
ان کو دیکھ کر یقین آتا ہے کہ آپ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں نہ بھی پڑھاتے ہوں تو پھر بھی مقبول شاعر اور اچھے ادیب ہو سکتے ہیں ۔
آپ کے سیکڑوں شاگرد نہ بھی ہوں تو آپ کی تخلیق اپنا قاری تلاش کر لیتی ہے ۔
نثر نگاری، شاعری اور صحافت میں اپنا انفرادی اور خالص مقام بنانے کے بعد وہ “سخنور فورم کی ادبی بیٹھک” کو ناقابل یقین تسلسل دینے والے ادبی درگاہ کے واحد گدی نشین مانے جاتے ہیں جہاں ہر جمعرات کو تبرک تقسیم کیا جاتاہے۔
وبا کے دوران جب لاتعلقی کی رسم چل نکلی تھی تب انہوں نے اپنی تخلیقات کو جمع کیا اور کتاب پر کتاب شائع ہونے لگی ۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں ان کی وہ کتاب بھی منظر عام پر آ گئی جس میں شامل مضامین اس سے پہلے بھید تھے ۔ “ کالم ہوتل بابا کے “ ملتان کی چھتیس سالہ ایک ایسی ادبی دستاویز جو دراصل کتابی صورت میں شائع ہونے کے بعد اپنے اس تخلیق کار کو بھی سامنے لے آئی جو لاہور میں بیٹھ کر ملک بھر کے اخبارات کے ذریعے ملتان کے ادبی تنازعات ، تقریبات اور تخلیقات کو ہوتل بابا کی زبان دیتے رہے ۔ جن دنوں کا ادبی منظرنامہ رضی الدین رضی نے لکھا ، اگر یہ کتاب میرے سامنے نہ ہوتی تو میں ناواقف رہتا ، کہ انہی دنوں جب ہوتل بابا قرطاس ادب کا حصہ بن رہا تھا مجھے پرائمری سکول میں داخل کروایا گیا تھا ۔ اس کتاب کا میری لائبریری میں ہونا ملتان سے محبت کے لئے ضروری تھا ۔
رفتگان ملتان ، وابستگان ملتان کے بعد کالم ہوتل بابا کے ، محبت کی وہ تسبیح ہیں جو رضی الدین رضی کے لئے عشق کا اسم اعظم ہے ۔ شہر اور شہر والوں کی محبت کا قرض یوں بھی چکایا جا سکتا ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ جہان پاکستان)
فیس بک کمینٹ

