جناب رضی الدین رضی سے پہلی ملاقات تب ہوئی جب شہر میں دھند کا راج تھا اور وہ پریس کلب ملتان کے صدارتی امیدوار کے طور پر سرشام اخبارات کے دفاتر میں دوستوں سے ملنے آیا کرتے تھے،ہر قومی اخبار کے نیوز روم میں ان کے دوستوں ،دشمنوں اور شاگردوں کی موجودگی ان کے صحافتی قد کاٹھ کی گواہی ہوتی تھی ۔۔ ان کے دشمن بھی صرف نظریاتی اختلاف کی بنا پر دشمن تھے اور ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے مخالفین کے تو کوئی نظریات ہی نہیں تھے۔۔
ملاقات سے پہلے ان کا کالم”ڈرتے ڈرتے”اور محبت کی نظم “ستارے مل نہیں سکتے” تعلیمی اداروں میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ چکی تھی اسلئے پہلی ملاقات بھی مانوسیت سے بھرپور تھی۔
اس سے بہت پہلے ہم ملتان لا کالج میں انہیں مستنصر حسین تارڑ کی صدارت میں ہونے والی “کیلاش کتھا” کی تقریب رونمائی میں دیکھ چکے تھے،سن بھی چکے تھے۔۔۔
پھر نوائے وقت اور جنگ کے دفاتر میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا وہ اپنے نظریات میں ایک دو ٹوک اور غیر متزلزل ہیں۔نوائے وقت کے بزرگوں نے ہمیں بچہ سمجھ کر پہلا ہدایت نامہ یہی جاری کیا کہ “رضی پکا کافر ہے اس سے بچ کر رہنا”پھر ہم بھی “پکے کافر “ہوگئے۔۔۔۔
پیشہ ور صحافی کے طور پر وہ خبر کی سرخی اور متن کو یوں سنوارتے کہ مجید نظامی جیسے پکے مسلمان بھی داد دئیے بغیر نہ رہ پاتے ۔۔
پھر اس وقت کے مقبول ٹی وی پروگرام”نیلام گھر” میں انہیں اور شاکر بھائی کو بطور مہمان بلایا گیا تو ہم نے پہلی بار اس شو کی ریکارڈنگ میں شرکت کی۔
رضی الدین رضی کو جب ان کے “غیرمقبول”پرچار کے باوجود تسلیم کیا گیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ انہیں صرف اور صرف ان کے “ الگ نظریے “ کی بنیاد پر تسلیم کیا جارہا ہے ورنہ بطور شخص تو وہ اب بھی “سخت کافر”ہیں۔
پھر ہمارے شام و سحر ایک ساتھ گزرنے لگے تو یہ بھید کھلا کہ ان کی دوستوں سے ایک ہی لڑائی ہے کہ “تم ملتے کم ہو،ایک ہی شہر میں رہ کر بھلا بندہ ملے بھی نہ؟”
آپ ان کی زمانہ شناسی دیکھئے کہ جن رشتوں ، فلسفوں اور عقیدوں پر اب میرا ایمان نہیں رہا ۔۔رضی کا پچیس سال پہلے اٹھ چکا تھا ۔۔وہ عدالتوں کو بادبانی کشتی کہتے تھے ، سو اب بادبانوں اور کشتیوں کی حقیقت سب پر آشکار ہے ۔۔۔وہ سعودیہ اور ایران کی لڑائی کو “ کاروباری “ جنگ کہتے تھے سو ایسا ہی نکلا ۔۔
پھر میری پہلی چار کتابوں کے پیش لفظ بھی رضی نے لکھے ۔۔
پھر رضی رشتوں ، نظریوں ، فلسفوں کے ساتھ ساتھ دوستوں سے بھی “ دور “ ہوتے گئے ۔۔اور دھڑا دھڑ ان کی کتابیں منظرعام پر آنے لگیں ۔۔پھر رضی نے مشورے مان لئے اور “ قبول ہے قبول ہے “ کے اصول کے تحت سب کے ساتھ ہنستے ہوئے ملنے لگے ۔۔۔۔
آج سالگرہ پر رضی الدین رضی کو مبارکباد،دعائیں۔۔
فیس بک کمینٹ

