ادبقمر ساجدلکھاری

سادگی میں گندھے میرے بزرگ اور راجپوتوں کی روایات ۔۔ قمر ساجد

میں چوتھی یا پانچویں میں پڑھتا تھا جب میرے دادا جنہیں ہم بابا کہتے تھے، زندہ تھے۔یہ بات آپ کو عجیب محسوس ہوگی مگر حقیقت ہے کہ بچپن میں جب بھی میں اللہ میاں کو خواب میں دیکھتا تھا تو بابا کی شکل میں دیکھتا تھا وہی خدوخال وہی جسامت اور وہی تہمد میں ملبوس خم زدہ اور اکہرا بدن۔۔بابا کے چہرے پر چھریاں تھیں اور یہ جھریاں اس دور میں ستر اسی سال کی عمر کے لوگوں کو تقدس اور ملائمت دینے کے لئے عمومی تھیں۔میں نے اپنے بابا کو کبھی کوئی گناہ کرتے نہیں دیکھا اگرچہ وہ پنجگانہ کے بھی عادی نہ تھے اور یہ وطیرہ میرے بابا کی عمر کے سبھی لوگوں کاتھا۔اذان کے سمے ان کی گفتگو کی رفتار دھیمی پڑجاتی۔۔اذان ختم ہونے پر اونچی آواز میں پکارتے سبحان اللہ اور پھر گفتگو کا آغاز وہیں سے۔۔۔انکی باتیں ہمارے لئے دلچسپی سے بھرپور ہوتیں۔۔سادہ سی باتیں نہ حکمت، نہ روحانیت ، نہ فلسفہ نہ دقیق موضوع ۔۔۔ان کے بچپن اور جوانی کی باتیں۔۔شرارتیں اور بعض اوقات ایسی باتیں جن کے کرنے سے پہلے انہیں فورا خیال آجاتا اور وہ ہم سے مخاطب ہوتے” اوئے جا حوقا تازہ کرلے۔۔( حقہ تازہ کرنا اس وقت کے خاص کلچر کی اصطلاح ہے جو شاید اب نئی نسل کو سمجھ نہ ائے)۔۔مجال ہے جو وہ بھول کر بھی اپنی جوانی کے قصے ہم پر عیاں کرتے۔اصل میں ہمارے ہوتے وہ اس قسم کی بات کرکے خود کو کمزور کرنا نہیں چاہتے تھے اپنی بزرگی اور تقدیس کا بھرم رکھنا اپنا ہی فرض سمجھتے تھے۔۔
میں یہ باتیں اس لئے لے بیٹھا ہوں کہ مجھے اپنے سادہ اور تعلیم سے بے نیاز بزرگ اس پایہ محترم، با اصول اور مہذب نظر آئے ہیں کہ آج بڑے بڑے عہدوں پر فائز تعلیم یافتہ لوگ، دانشور ، معلمین اور بادشاہ بھی اس پایہ کے نظر نہیں آتے۔میرے بزرگوں کا سادہ رہن سہن، آپس کا میل جول ، نشست و برخاست کے انداز، بچوں کو بڑوں میں بیٹھنے کے آداب سکھانے کا طریقہ کار، اپنا کون پرایا کون، اپنے خاندان اور نسلوں سے واقفیت کرانے کا انداز، گاؤ ں میں رہنے والا کون کیا لگتا ہے یعنی رشتے کے بغیر کسی سے مخاطب کرنے کو برا سمجھنا الغرض ایک راجپوت کو یہ بتائے بغیر کہ وہ راجپوت ہے اور اسے راجپوت ہونے کی حیثیت سے معا شرے میں کیا کردار ادا کرنا ہے ( اصل میں جو خود کو راجپوت راجپوت کہے بزرگ سمجھتے تھے کہ اس میں کوئی کھوٹ ہے کیونکہ راجپوت زبان سے نہیں کردار سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔یہ رانا راؤ وغیرہ کی پکھ اب لگی ہے بزرگوں نے کبھی اس طرح کی ضرورت محسوس نہیں کی اور یہ بھی حقیقت ہے جو خود کو زیادہ راجپوت راجپوت دکھائے۔۔۔تحقیق کی جائے تو اکثر نہیں ہوتے) اور میرے نزدیک راجپوت ایک تہذیب کا نام ہے۔۔۔اکھرپن اور ضدی ہونا اصولوں سے کمٹمنٹ تھی نہ کہ بے اصولی پر گامزن رہنے کو راجپوت کہاجاتا تھا۔
پران جائے پر وچن نہ جائے ۔۔۔۔۔جیسے اقوال پر تشکیل پانے والے دماغ اور عمل۔۔۔
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عباس تاش نے یہ شعر راجپوتوں سے واسطہ پڑنے پر ہی کہا تھا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تہذیب بنا کسی تدریسی اور اداراتی نظام کے ایک تہذیب اپنی اگلی نسل کے ذہنوں میں اتارتی آئی تھی۔۔۔خاص طور پر سماجیات ۔۔۔۔انسانوں کے آپسی تعلقات، اپنے خاندان، قبیلے، گوت، اور گاؤ ں میں کیسے رہنا ہے۔۔۔دوستی اور دشمنی نبھانے کے طور طریقے،۔۔کوئی تعلق بنا رشتے کے نہیں تھا۔۔۔تا یا چاچا بابا بھائی دادی ماسی چاچی بوا بہن ۔۔۔چچیر، مسیر، پپھیر کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
اور ے بھائی ایک دیسڑا ایسا دیکھیا ۔۔۔۔جس میں
چھت کا پرنالہ نئیں۔۔۔تیڑ میں نالہ نئیں ار کوئی کسی کا سالہ نئین۔۔۔ان کیلئے یہ اچنبھے کی بات تھی کہ اگر کوئی کسی کا سالہ ہوسکتا ہے وہ بہنوئی کیسے بن سکتا ہے۔۔۔دونوں کے لئے ڈوب مرنے کی بات تھی۔۔۔جس گوت میں بیٹی دے دی ان کی بیٹیاں ان کی بن جاتی تھیں اور بیٹیاں بہو بن جائیں اس سے بڑا قبیح فعل کیا ہوگا۔۔۔اور جہاں سے بیٹی لے لی۔۔۔۔اس گاؤ ں میں بیٹی دینا انتہائی شرمناک۔۔۔ڈوب مرے بندہ اس سے بہتر۔۔۔۔مغلوں کے ساتھ لڑائی میں ہارنے اور مردوں کے ختم ہوجانے پر رانیاں اسی لئے تو کنووں میں ڈوب مرتی تھیں کہ کنیزیں اور لونڈی بننے سے مر جانا بہتر تھا۔۔۔اور واقعی کچھ زندگیاں جینے سے بہتر ہے بندہ پہلے ہی مر جائے مرنا تو ہے ہی۔
یہ سمجھایا یا بتایا نہیں جاتا تھا کہ فلاں تمھاری کیا لگتی ہے۔۔۔میں سوچتا تھا یار ہماری زبان میں چچیر مسیر پپھیر کا لفظ کیوں نہیں کیا ہماری لغت کا ذخیرہ الفاظ کم پڑگیا تھا۔۔۔؟ لیکن نہیں اس قوم کے وطیرے میں یہ رشتے تھے ہی نہیں۔۔۔بھائی یا بہن ۔۔۔سب رشتوں کے لئے یہی لفظ تھے۔۔۔یہ سب پڑھایا نہیں گیا تھا نہ کسی سکول نہ مدرسے مسجد میں۔۔۔۔بس خود بخود پیدائش کے ساتھ ہی ہمارے ذہنوں میں اترتا چلا جاتا تھا۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ ہمارے لئے گاوں کے لوہار یا دھوبی کی بیٹی بھی بہن تھی۔۔۔۔۔۔یہ تو تھی ہماری تہذیب اور ہمارا گاؤ ں۔۔۔۔کبھی کبھی میں دوستوں کو مذاقا کہتا ہوں کہ اس کا ہمیں نقصان ہی ہوا۔۔۔جب ہمارا دنیا سے واسطہ پڑا۔۔۔
جب میں انجینئرنگ کے لئے کراچی روانہ ہورہا تھا تو پورا گاوں مجھے چھوڑنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر امڈ آیا تھا۔۔۔پورے 25 کلو میٹر دور۔۔۔خانیوال ریلوے اسٹیشن پر۔۔سب کی زبان پر ایک ہی نصیحت تھی بچ کے رہنا وہاں کراچی کی شہرنے بندوں کو اغوا کرکے شادی کرلیتی پیں۔۔۔جیسے جارہے ویسے ہی واپس آنا۔۔اور یقین کیجئے ساڑھے چار سال ہم انتظار ہی کرتے رہے کسی نے ہمیں اغوا نہیں کیا اور ہم جیسے گئے تھے لوٹے تو واپس ویسے ہی تھے۔۔۔اپنی سادگی ۔۔۔۔جو بزرگوں سے سیکھی کا ایک اور واقعہ۔۔۔۔۔ایک دوست تھا بلوچ۔۔۔یونیورسٹی جاتے ہوئے ایک لڑکی سے اس کی آنکھ لگ گئی۔۔ملاقات ہوئی اور پھر اگلے ہفتے اس کا ہوسٹل میں آنے کا پروگرام بھی بن گیا۔۔وہ آئی میں سوتا رہا اور دوست اس سے باتیں کرتا رہا۔۔۔شریف آدمی تھا۔۔یہ کہ کر شریف بنا رہا کہ بغیر شادی کے کسی لڑکی کے قریب جانا ایک بلوچ کی شان کے منافی ہے۔۔لڑکی بہت مایوس ہوئی۔۔۔دوست باہر نکلا تو وہ میرے بستر پر آبیٹھی اور اٹھکیلیاں کرنے لگی۔۔۔میں اپنی غیر محسوس تربیت کے باوصف پیچھے ہو گیا اور اسے سادگی سے کہا۔۔آپ میرے دوست کی دوست ہو لہذا میرے لئے بہن ہو۔۔۔لڑکی کی مایوسی انتہا کو پہنچ گئی۔۔سٹپٹائی ۔۔۔پیر پٹخے اور یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی کہ یہاں تو سب خسرے جمع ہیں۔۔۔۔اس روز مجھے بھی ایک سبق ملا۔۔۔۔اپنی بہن کے علاوہ کسی کو بہن نہ کہو۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker