قسور سعید مرزاکالملکھاری

پارلیمنٹ اور اخلاقیات۔۔ ایک نظر ادھر بھی/قسور سعید مرزا

سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارک ہے کہ ”اگر انسان کی قدرو قیمت جاننا چاہتے ہو تو اس کو بولنے دو“ کتنی گہری بات ہے۔ کیا وزنی اور خوبصورت قول ہے بندہ جتنا زیادہ بولے گا اتنا ہی ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔ انسان کے زیادہ بولنے سے ہی اس کی سوچ، فکر، اخلاقیات، معاشرتی سماجی اور ذہنی رحجانات ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ”اگر زبان ٹھیک ہے تو معاملات ٹھیک ہیں۔ اگر زبان آپ کے قابو میں ہے تو۔“ نبی پاک نے اپنے حسن اخلاق سے ایک بدتمیز کلاس کو اوپر اٹھایا۔ وحشی، بے تمدن، رنج دینے والے اور جنگلی لوگوں کو راہ راست دکھائی۔ ایسی کلاس پہلے کسی استاد کو نہیں ملی تھی اور ایسا خوبصورت حسن مروت والا استاد بھی پہلے کسی کو نصیب نہ ہوا تھا۔ بائیس برس کی تعلیم نے بدترین لوگوں کو کائنات کے بہترین انسان بنا کر ابھارا۔ نہ چھڑی ماری، نہ گالی دی، نہ کسی کی تضحیک کی اور نہ کسی پر طنز کیا۔ نہ ان کی سرزنش کی اور نہ ان پر بوجھ ڈالا، بس محبت ہی محبت بانٹی، اور ان وحشیوں کو ایسا متمدن اور خوبصورت کر دیا کہ کہاں وہ ابوجہل اور کہاں اصحاب رسول، نیکیاں اپنی حقیقت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ رکھتی ہیں۔ نیکیوں کے بھی اپنے خاندان اور شجرے ہوتے ہیں۔ حضور پاک کی عادت مبارکہ کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی۔ آپ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتے تھے۔ حضور پاک کے شخصی محاسن کی کوئی حد نہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی فکر، جدوجہد اور تعلیمات کے نتیجے میں جو انقلاب برپا ہوا اور انسانیت کو جو ایک وجدان اور شعور ملا اس کا معلوم انسانی تاریخ میں نہ کوئی جواب ہے اور نہ بدل۔ ایسے ہی مدینہ کی ریاست قائم نہیں ہو گئی تھی، حقیقی معنوں میں تبدیلی آئی تھی۔ اسی طرح لوگ ملاؤں کے ہاتھوں پر نہیں بلکہ اولیاءاللہ کے ہاتھ پر ان کی محبتوں اور ان کے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوئے۔ لوگوں نے ان ہستیوں کو دیکھ کر اور ان کی صحبت حاصل کر کے کہا کہ ”اگر یہ اللہ کے بندے ہیں تو پھر ہم بھی اس اللہ کو مانتے ہیں“ اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہے اور برداشت کر رہا ہے۔ اور جب بھی اللہ کی جانب سے حتمی نتائج کا اعلان ہو گا تو راقم کا ایمان ہے کہ محبت ہی فاتح عالم ہو گی۔
سالوں کے تجربوں اور ریاضت نے یہ ثابت کیا ہے کہ پارلیمان جیسا ادارہ ہی عوام کی امنگوں اور خواہشات کا آئینہ دار ہوتا ہے ہمارے سیاستدان بھی اٹھتے بیٹھے یہ ہی راگ الاپتے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے‘ پارلیمنٹ مقدس ہے۔ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کیا جائے لیکن جو کچھ آج کل قومی اسمبلی میں کہا اور سنا جا رہا ہے وہ شرمناک ہے۔ عوام یہ تماشا دیکھ رہی ہے۔ عفوودرگزر تو دور کی بات قوت برداشت بھی ان سے منہ موڑ گئی ہے۔ ایک اسمبلی 1971ءکی تھی۔ یہ پہلی اسمبلی تھی جو عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی تھی۔ پہلی بار لوگ منتخب ہوئے تھے۔ لیکن اراکین اسمبلی کی تقاریر مزہ دیتی تھیں۔ بلاشبہ آج حالات خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ محکموں کا معیار پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ انداز حکمرانی بھی بہتری کی طرف نہیں جا رہا۔ اسمبلی کے اندر غیر پارلیمانی الفاظوں کے استعمال کا رحجان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایک جانب سے اگر دوسری طرف والوں کو چورا اور ڈاکو کہا جاتا ہے تو دوسرے کہتے ہیں کہ جواب میں نہ صرف تم کو چورکہا جائے گا بلکہ تمہارے باپ کو بھی چور کہوں گا۔ یعنی نسلوں کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔ ہمیشہ حکومتی بینچوں کو فائدہ پہنچتا ہے کہ اگر ہاؤس پر سکون رہے اور بغیر شور شرابے کے کارروائی چلے لیکن اب کی مرتبہ معاملہ الٹ چل رہا ہے۔ ایک فواد چودھری صاحب سنبھالے نہیں سنبھلتے۔ کسی کے اوپر ڈیزل کی پھبتی کس رہے ہیں تو کسی کو مولا جٹ کے خطاب سے نواز رہے ہیں۔ نہ جانے پرویز خٹک جیسا پرانا سیاسی کارکن اور کئی گدیوں کے سجادہ نشین شاہ محمود قریشی اس ماحول میں کیا محسوس کرتے ہوں گے اگر وزیر خزانہ نے کسی کو گمراہ کہہ دیا تو بات ختم کرنے کے لئے شاہ محمود قریشی ان کی جانب سے الفاظ واپس لیتے ہیں تو اسی لمحہ کھڑے کھڑے چودھری صاحب اپنا کام دکھا دیتے ہیں اور بی بی شیریں مزاری صاحبہ بھی معاملے کو ٹھنڈا نہیں پڑنے دیتیں۔ پتہ نہیں یہ عمرانی حکومت کے لئے کون سی نیک نامی حاصل کر رہے ہیں ۔ پرانے وقتوں میں بڑوں اور بچوں کے پاس وقت کی دولت موجود تھی۔ ان کے درمیان درس و تدریس کا ایک لاشعوری عمل جاری رہتا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی نے یہ سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ بزرگ بچوں کو ٹائم دیتے تھے اور بچے بزرگوں کے پاس بیٹھتے تھے۔ آج تعلیم ہے تربیت نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کے اندر جو انداز گفتگو سامنے آ رہا ہے یہ کوئی ایک دن کا کیا دھرا نہیں ہے۔ نہ ہی ایک دن کا المیہ ہے۔ یہ دہائیوں پر مشتمل ہے کیونکہ ہم نے اپنی روایات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ معاشرے کا ہر ذی شعور آدمی یہ محسوس کر رہا ہے۔ معاشرے کی ہر سطح پر یہ محسوس کیا جا رہا ہے چاہے عدالتیں ہوں یا کاروباری حلقے، اس صورت حال کو نہ روکا گیا تو انتشار مزید پھیلے گا۔ ایک دوسرے کو گلے لگانے کی بجائے ایک دوسرے کے گلے پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ اسمبلی کے اندر پچھلے کئی دنوں سے اراکین پارلیمنٹ کی تقاریرکی جو کوالٹی سامنے آئی ہے اور جو الفاظ ان معزز کی زبان سے برآمد ہوتے ہیں وہ نہ صرف مجموعی طور پر معاشرتی انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری قومی قیادت اخلاقیات کے پائیدان پر کہاں کھڑی ہے۔ ان کو احساس ہی نہیں کہ جنہوں نے نہ صرف ہمیں سفارتی، داخلی، خارجی اور مذہبی محاذ پر کامیابی دلانی ہے بلکہ سماجی رویوں کو بھی درست کرنا ہے اگر اس روش کو بدلا نہ گیا تو ہمارے دلوں کی خلیج اور وسیع ہو جائے گی اور رواداری کا روشن اسلامی پہلو غروب ہو جائے گا اور ہم ایک جنگل کے معاشرے کی تشکیل کی جانب بڑھ جائیں گے۔ ان کو احساس ہی نہیں کہ بین الاقوامی طور پر پاکستان کا کیا تاثر جا رہا ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ سابق حکمرانوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ ملک کو لوٹا ہے۔ چاہے ہمارے میاں صاحبان ہوں یا اپنے ”ادا اور ادی“ سرکار ہوں۔ ان کے کارنامے زبان زد عام ہیں۔ زبان خلق بہت کچھ پکار رہی ہے۔ یہ نقارہ خدا ہے۔ لیکن چور چور یا ڈاکو ڈاکو کی مالا جپنے کا کوئی فائدہ نہیں اداروں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اپنا بھرپور تعاون پیش کرو۔ عدالتوں میں ان کی چوری اور ڈاکہ زنی ثابت کرو۔ اگر خوش قسمتی سے آپ اسمبلیوں میں پہنچ ہی گئے ہو تو اپنے مقام کو دیکھو۔ اپنی قابلیت پیش کرو۔ خود کو باوقار بناؤ۔
قوم کا فخر بنو، عوام کو بھی اطمینان ہو کہ انہوں نے کمال ذہین و فطین حضرات کو اسمبلی میں بھیجا ہے نہ کہ شرمندہ ہوتی پھرے اور ایک دوسرے سے منہ چھپائے۔ اسمبلی میں تقاریر کرنے والے اکثر ممبران اوروزراءکے رویے نہ صرف افسوسناک بلکہ مایوس کن ہیں۔ اس اسمبلی کی افادیت اور ان ممبران کی عزت کے لئے ضروری ہے کہ ساری سیاسی پارٹیوں کو نمائندگی دے کر ایک فورم تشکیل دیا جائے جو ضابطہ اخلاق تیار کرے۔ یہ ضابطہ اخلاق لمبے ٹائم میں طے نہ کیا جائے اور نہ ہی لمبے عرصہ کے لئے چھوڑا جائے اور نہ ہی سردخانے میں ڈال دیا جائے اور ایسا بھی نہ کیا جائے کہ ماضی کی طرح کمیٹی تشکیل ہو جو معاملہ کو دبا دیا کرتی تھی۔ دو تین ہفتوں میں اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ ایک ٹائم فریم دیا جائے جو سفارشات مرتب کرے جن کو ایوان میں پیش کیا جائے جو ایک بل کی شکل میں منظور ہو۔ یہ ضابطہ اخلاق ان نکات کا احاطہ کر سکتا ہے کہ ایوان میں کوئی بھی مقرر غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کرے گا۔ ذو معنی گفتگو جس سے انسانی توہین و تذلیل کا پہلو نکلتا ہو اس سے اجتناب کیا جائے گا۔ شرمناک، بے غیرت، بے حیا، بے شرم یعنی اردو زبان کے وہ الفاظ جن کے ساتھ کسی بھی قسم کی حساسیت منسلک ہو ان کو اپنی تقاریر میں استعمال نہ کیا جائے۔ متفقہ قرارداد پاس کریں کہ جس نے جو کچھ جس کے خلاف کہا ہے وہ واپس لیتے ہیں اور آئندہ سے عزت ہتک کے الفاظ استعمال نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں، جرمانہ عائد کیا جائے یا ایسے کیا جائے کہ جیسے پنجاب اسمبلی میں پانچ چھ افراد کا داخلہ روک دیا گیا تھا۔ بغیر ثبوت کے الزام تراشیاں کرتے ہوئے پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔ ویسے بھی ہماری علمی درسگا ہیں، اساتذہ کرام‘ دانشور حضرات، مفکرین، وکلاءحضرات، پروفیسر صاحبان، شاعر و ادیب، علماءکرام، مشائخ عظام اور ٹیلی ویژن کے اینکر حضرات گراس روٹ پر اخلاقیات کو بہت زیادہ اہمیت دیں۔ ممبران قومی اسمبلی و سینٹ اپنے ایوانوں سے باہر بکھری ہوئی دانش اور صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کریں۔ جس کا ہر کسی کو فائدہ پہنچے گا۔ موجودہ اراکین ایوان زیریں اور ایوان بالا وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں۔ ایک نئے طرز سے اپنے پارلیمانی کردار کا آغاز کریں کیونکہ ان کے ایسے طرز عمل سے انہی کی عزت و وقار میں اضافہ ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker