ادب، تہذیب اور تاریخ کے شہر ملتان میں جب کوئی اہلِ قلم، کوئی فنکار یا کوئی روشن خیال دانشور رخصت ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ ایک عہد بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ مگر کچھ کتابیں، کچھ قلمکار اور کچھ کاوشیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ان بکھرتے لمحوں کو، ان ماند پڑتے چہروں کو، اور ان کہانیوں کو محفوظ کر لیتی ہیں جو وقت کے سمندر میں ڈوبنے کو ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک نادر و نایاب تصنیف ہے: "کہانیاں رفتگانِ ملتان کی” — دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسی دستاویز جو صرف سوانح نہیں، بلکہ ملتان کی ادبی، ثقافتی اور صحافتی تاریخ کا آئینہ ہے۔
یہ کتاب اس وقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب ہم اس پہلو کو دیکھتے ہیں کہ رضی الدین رضی نے ان چہروں کو دوبارہ زندگی بخشی ہے جنہیں وقت کے ساتھ نہ صرف زمانہ بلکہ خود ان کے اپنے بھی بھول چکے تھے۔ ایسے میں "کہانیاں رفتگانِ ملتان کی” صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ روحوں کی واپسی کا راستہ ہے — ایسا راستہ جو کاغذ پر بچھا ہے، روشنائی سے بنا ہے، اور خلوص سے مزین ہے۔
کتاب کے مصنف رضی الدین رضی خود ملتان کی صحافت اور ادب کا روشن باب ہیں۔ ان کی تحریر میں وہ قدرتی سچائی ہے جو دلوں کو چھوتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان شخصیات کو تاریخ کے کتب خانے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے جو خاموشی سے رخصت ہو گئی تھیں اور جنہیں لوگ محفلوں میں یاد کرنا بھی بھول گئے تھے۔
کتاب کا پہلا حصہ 1968 تا 2006 اور دوسرا حصہ 2006 تا 2018 کی مدت پر محیط ہے۔ یہ محض تاریخ نہیں بلکہ روحانی انسائیکلوپیڈیا ہے، جو ایک نسل کو دوسری سے جوڑتا ہے۔
کتاب کا پہلا مضمون "پہلا جنازہ” نہ صرف اس کتاب کا آغاز ہے بلکہ خود مصنف کی زندگی کی سب سے دردناک یاد ہے۔ رضی الدین رضی محض ساڑھے تین برس کے تھے جب ان کے والد ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے ۔ وہ معصوم بچہ یہ بھی نہ سمجھ پایا کہ اس پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ جنازے کے ارد گرد وہ کھیلتا رہا، رشتے دار خواتین اور محلے کی عورتیں اسے سینے سے لگاتیں، پیار کرتیں، روتی جاتیں، مگر وہ صرف حیرت سے یہ سب تکتا رہا۔ اُسے اپنی زندگی کا پہلا جنازہ یاد رہ گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے بعد ازاں انہوں نے "پہلا جنازہ” کے عنوان سے کاغذ پر اُتارا — ایک ایسا مضمون جو صرف ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ ہزاروں بچوں کی خاموش چیخ کا ترجمان بن گیا۔
کتاب میں جن شعرا، ادبا، صحافیوں اور فنکاروں کا ذکر ہے ان میں محسن گردیزی، منیر فاطمی، حزیں صدیقی، تابش صمدانی، بیدل حیدری، قمرالحق، عرش صدیقی، ارشد ملتانی، ولی محمد واجد، ممتاز العیشی، کیف انصاری، عاصی کرنالی، صادق علی شہزاد، حسین سحر، اطہر ناسک، راشد نثار جعفری اور قاسم خان شامل ہیں۔
یہ سب وہ نام ہیں جو شاعری کے بام و در، ملتان کی ادبی گلیاں اور محبتوں کےراستے سنوارا کرتے تھے، مگر وقت کے شور میں ان کے نام مدھم ہوتے گئے۔ رضی الدین رضی نے انہیں صرف یاد نہیں کیا، بلکہ ان کی زندگیوں کو کتاب کے صفحات میں دوبارہ جاودانی عطا کی۔
یہ کتاب صرف تحقیق اور یاد نگاری نہیں، بلکہ دل کی صدا بھی ہے۔ رضی الدین رضی نے ہر شخصیت کا تذکرہ نہایت ذمہ داری، تحقیق، اور محبت سے کیا ہے۔ کہیں کوئی دکھ چھپا ہے، کہیں کوئی خاموشی چیخ بنتی ہے، اور کہیں صرف ایک تصویر کے نیچے ایک نام ہی ایسے بولتا ہے کہ پڑھنے والا دیر تک ساکت رہتا ہے۔
"کہانیاں رفتگانِ ملتان کی” درحقیقت ایک خاموش کارواں ہے جو قاری کو ماضی کے ان لمحوں تک لے جاتا ہے جہاں زندگی صرف یادوں میں سانس لیتی ہے۔ یہ ان لوگوں کا مرقع ہے جو زندگی میں گمنام رہے، اور مرنے کے بعد بھی کسی نے انہیں یاد نہ رکھا — مگر رضی الدین رضی نے ان سب کے لیے ایک ایسا مزارِ محبت تعمیر کیا ہے جو کتاب کی شکل میں زندہ ہے، روشن ہے، اور تابندہ ہے۔
یہ کتاب محض تذکرہ رفتگاں نہیں بلکہ انسانی جذبات، ادبی احترام، اور تہذیبی وفاداری کا بیانیہ ہے۔ رضی الدین رضی نے ایک ایسی روشنی جلائی ہے جو وقت کی گرد سے بچا کر ان چراغوں کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔
"کہانیاں رفتگانِ ملتان کی” ہر اس شخص کے لیے خزانہ ہے جو ماضی سے محبت کرتا ہے، ناموں کی حرمت جانتا ہے، اور یادوں کو بھلانے کے عمل کو جرم سمجھتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف ملتان کی ادبی روح کو محفوظ کرتی ہے بلکہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو مر جاتے ہیں، وہ صرف بھلائے جانے سے مرتے ہیں — اور انہیں یاد رکھ کر زندہ کیا جا سکتا ہے۔

