رضا علی عابدیکالملکھاری

منکہ ایک فیس بُک فرینڈ ہوں ۔۔ رضا علی عابدی

اگر میرے بزرگ دوبارہ جی اٹھیں اور انہیں پتہ چلے کہ دو تین سو خواتین میری فرینڈ ہیں تو وہ یا تو مجھے مارڈالیں یا صدمے سے دوبارہ مر جائیں ۔اردو میں فرینڈ کو دوست اور یار کہتے ہیں۔ اب کوئی تصور کرے کہ سینکڑوں خواتین میری دوست ہیں تو عام حالات میں اس بات پر چاقو چل جائیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ لفظوں کا گورکھ دھندا سمجھ میں آنا اتنا آسان نہیں۔ لفظ خود خاموش اور بے معنی ہوتے ہیں، وہ ان کے پیچھے کارفرما احساس ہوتا ہے جو انہیں معنی عطا کرتاہے۔ کوئی ایک پیاری سی بچّی سے کہے :I love youاور بچّی خوش ہوکر گلے میں بانہیں ڈال دے تو حیرت کی بات نہیں۔ لیکن اگر کوئی کالج جانے والی لڑکی سے راہ چلتے یہی بات کہے اور لڑکی برہم ہوکر جوتے مارے تو یہ بھی حیرت کی بات نہیں۔بالکل یہی قصہ فرینڈکا ہے۔ عام زندگی میں فرینڈ ٹھہرایا جانے والا شخص اور ہوتا ہے لیکن نئے زمانے کی اس ایجاد یعنی فیس بُک پر فرینڈ قرار پانے والے کی یاری بالکل جدا ہوتی ہے۔
اس میں ملنے والوں کا کوئی ٹھکانا نہیں، کہاں کہاں سے نکل کر آتے ہیں ، جان نہ پہچان لیکن فرینڈشپ کی ایک ذرا سی درخواست کی بنیاد پر ایسے ایسے رشتے استوار ہوجاتے ہیں، یقین نہیں آتا۔ کوٹ ڈیجی کی ایک بن باپ کی بچّی مجھے ابّا کہنے لگی ہے، کراچی میں ایک غضب کی ہونہار لڑکی نے مجھے تاؤ ابّا بنا لیا ہے اور میں نہال ہوں ،خوش ہو ں اورشاد ہوں۔رشتے اس وقت اعجاز بن جاتے ہیں جب دلوں کی دوریاں پیمائش کے تکلف اٹھادیتی ہیں۔
میری پیار کی جھولی میں ایسے کتنے ہی گوہر یوں درخشاں ہیں جیسے کرتے کے دامن میں چھپایا ہوا جگنو۔ پیغام کا بھی اگر مقدر ہوتا ہے تو فیس بک پر بھیجے جانے والا پیغام کس جذبے کی شاخ سے اڑان بھرتا ہے اور کس شعور کی ٹہنی پر اترتا ہے، یہی بات اس کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے۔اب وہ قصّہ سنئے جس کی بنا پر میں نے یہ تمہید باندھی ہے۔یہ بھی یوں لکھ رہا ہوں کہ بہت عرصے بعد یہ تحریر پڑھنے والوں کو یاد نہ ہوگا کہ کیا ہوا تھا۔ شرمین عبید چنائے پاکستان کی نہایت ذہین اور سرکردہ خاتون ہیں جو ملک کی خواتین کی حالتِ زار پر کئی دستاویزی فلمیں بنا کر اعلیٰ عالمی ایوارڈ پا چکی ہیں۔ ہوا یہ کہ ان کی بہن کراچی کے ایک بڑے اسپتال میں علاج کرانے گئیں ۔ وہاں ایک ڈاکٹر نے انہیں دیکھا۔ بات ختم ہوئی۔ لیکن پھر کہتے ہیں کہ ان ہی ڈاکٹر صاحب نے شرمین کی انہی بہن کو فیس بُک پر فرینڈشپ کا پیغام بھیجا۔ اس پر شرمین عبید چنائے نے اسپتال والوں سے سخت شکایت کی۔ اتنی سخت کہ انتظامیہ نے ڈاکٹر کو برطرف کردیا۔ شرمین نے دوسرا غضب یہ کیا کہ یہ سارا قصہ فیس بک ہی جیسے ٹوئٹر پر لکھ دیا ۔ شاید وہ چاہتی ہوں گی کہ دنیا اسے پڑھے۔ دنیا نے نہ صرف پڑھا بلکہ فیس بک اور ٹوئٹر پر ، جسے اب سوشل میڈیا کہا جاتا ہے، شرمین صاحبہ کے وہ لتّے لئے کہ ذرا سی بات بڑا سا ہنگامہ بن گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اپنے ردّ عمل کے اظہار میں آپ حد سے بڑھ گئیں۔ چار بچّوں کے باپ کو بے روزگار کرکے آپ نے کون سا تیر مارلیا۔ آپ نے اپنی شہرت سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ڈاکٹر سے ایک بات سب ہی نے کہی کہ آپ کو اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے تھا اور اپنی مریضہ کے ساتھ بے تکلفی اختیار کرنے کی آپ کو کیا مار پڑی تھی۔حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ ہر قسم کے میڈیا پر خواتین نے بھی یہی بات دہرائی کہ بات کا بتنگڑ نہیں بنانا چاہئے تھا۔
یہ تھا وہ سارا قصہ۔ اب دو باتیں جاننی ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ بے روزگار ہوکر گھر بیٹھے ڈاکٹر کا کیا کہنا ہے۔ اس کا موقف سنا کسی نے؟ دوسرے یہ کہ معالجے کے دوران مریضہ کا رویّہ کیسا تھا۔ کوئی ذرا سا اشارہ، کوئی چھوٹا سا تاثّر یا کوئی معمولی ساتبسّم ایسا تو نہ تھا کہ جس پر ڈاکٹر کا دل ذرا سا دھڑکا ہو۔ملاقات ویسی ہی تھی یا نہیں جیسی مریضہ اور معالج کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر خیر۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی دھما چوکڑی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اس سے پہلے بڑے بڑے ہنگامے ہوئے۔ ہر قسم کے میڈیا کا شور شرابہ ہم نے سنا اور دیکھا مگر شرمین عبید چنائے کے ٹوئٹر کو، جیسا کہ اس لفظ سے ظاہر ہے،چڑیا کی چوں چوں سے زیادہ بلند نہ ہونا چاہئے تھا، اس کے جواب میں یوں لگا کہ شہر کے سارے ہی مرغ مل کر ایک دوسرے کی بانگ سے بانگ ملاکر آسمان سر پر اٹھانے لگے۔
فیس بک کا قصہ تو یوں ہے کہ یہ وہ چاقو ہے جو قتل بھی کرتا ہے اور میٹھے رسیلے پھل بھی تراشتا ہے۔ہم نے اس کی قاشوں کو فرینڈ شپ کی ریکویسٹ بھیجی اور کہنیوں سے ٹپکنے والے اس کے رس سے اپنے دل کے ان باکس کو سرشار کرلیا۔ اس نے میری زندگی میں ایسی راہیں کھولی ہیں جن میں قدم قدم پر نئی نئی منزلیں ملتی ہیں اور ہر پڑاؤ پر نئے احباب اپنی بانہیں کھولے نظر آتے ہیں۔ میں نے زندگی کے پندرہ برس اخبار میں گزارے۔ میں نے لکھا، دنیا نے پڑھا یا نہیں پڑھا، مجھے خبر نہیں۔پھر میں نے تیس سال سے زیادہ کا عرصہ ریڈیو پر گزارا۔ میں بولا، دنیا نے سنایا نہیں سنا، خبر تو ہوئی پر تھوڑی تھوڑی کہ کچھ لوگ خط لکھ کر خوشیاں بکھیر دیا کرتے تھے۔ وہاں سے ریٹائر ہوا تو خاموشی چھا گئی۔ عمر بھر قارئین اورسامعین سے گفتگو کر نے کے بعد سامنے میدان تو تھا مگر چپ سادھے ہوئے کہ زندگی میں فیس بُک کا دروازہ کھلا۔ ایک چھوٹی سے آواز آئی ’ آداب‘۔ میں نے سنی اور کہا ’جیتی رہئے‘۔ اس نے سنی اور پھر تو دنیا مجھ پر کھلی اور میں دنیا پر۔ یہ نہ ہو تو سارامکالمہ بیکار ہے اور ساری سر گوشیاں بے سرو پا۔
( بشکریہ : ہم سب۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker