افسانےرزاق شاہدلکھاری

ٹھنڈا چولہا اورقصاص ۔۔ رزاق شاہد

تیری یہ جرات،
تیری یہ مجال،
میری بیٹی کی پلیٹ سے بوٹی اٹھائے، ایما بیٹی پکڑنا اسے،
میں پلاس سے اس کے ناخن کھینچتی ہوں۔
جلدی سے آنٹی ریحانہ کو بلاؤ۔
اماں وہ تو نماز پڑھ رہی ہے۔
ریحانہ کی بچی نماز بعد میں پڑھ لینا ادھر آؤ جلدی سے۔

مجھے مارنے سے پہلے کچھ کھانے کو دو سارا دن کام کرتے کرتے اب جسم جواب دے رہا ہے۔

اچھا تو کھانے کو مانگتی ہے۔
دوں تجھے کھانا۔
یہ گملے کی مٹی کھاؤ۔۔ اس کا منہ کھولو یہ کیچڑ ڈال دو اس کے حرامی پیٹ میں۔۔ بھرتا ہی نہیں۔ میں بینک جا رہی ہوں اسے باندھ کر رکھنا اور آج سے گھر میں اعلان کر دو گھر کا ہر فرد آتے جاتے اس کے منہ پر تھوکے اور اسے دو تین تھپڑ مارے۔

اس گھر سے کبھی کبھی چیخنے کی آوازیں آتی ہیں کوئی گڑبڑ ہے۔
آپ ڈولفن فورس والے گشت پر ہوتے ہیں معلوم کریں کیا چکر ہے۔

ابے کون ہے تُو ۔۔ تیری کیا جرات۔۔۔ ہمیں اس طرح کے مشورے دینے کی۔۔ تجھے معلوم نہیں ہمارے وزیر داخلہ نے، جو ہماری پاک فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور آل رسول کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کیلئے کیا احکامات جاری کئے ہیں ؟ ان کا فرمان ہے کچھ بھی ہو جائے کسی کے گھر میں داخل نہیں ہونا۔ گھروں میں پاک دامن بیبیاں رہتی ہیں. اور ہم نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دینا۔ کبھی کبھی گھروں سے کمی کمین نوکروں کی آوازیں آتی رہتی ہیں کیوں کہ بھوکے ننگے نوکر چوریاں کرتے ہیں اور اگر مالک انہیں ڈانٹ دیتے ہیں تو کیا ہوا۔۔۔ مالک آقا ہوتا ہے۔۔۔ آقا کو ڈانٹ ڈپٹ کا حق حاصل ہے۔

آپ کا فرمان سر آنکھوں پر۔۔ لیکن میری بیٹی نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس گھر کی عورتوں نے ایک نوکرانی کو باندھا ہوا ہے اور روزانہ اسے مارتے ہیں اور اپنے کتوں اور پرندوں کا بچا کچا کھانا اسے دیتی ہیں اور وہ بھوک کی وجہ سے مرنے کے قریب ہے۔۔
اچھا آپ کو کس نے مخبر مقرر کیا ہے؟
یہ ایک عزت دار بینک آفیسر کا گھر ہے اب مزید ٹر ٹر بند کرو ہماری افطاری کا وقت ہو رہا ہے۔



امی!
اتنا نہ مارو اسے۔۔ مار کھاتے ۔۔ بھوک پیاس برداشت کرتے اب تو آٹھ مہینے ہو گئے ہیں۔ یہ ایک دو تین دن میں خود بخود مر جائے گی۔ جان تو چھوٹے گی۔۔ حرامی نسل نے پلیٹ سے بوٹی اٹھانے کی جرات کیسے کی۔۔۔ اسے معلوم تو ہو کہ مالک کے کھانے کو کیسے ہاتھ لگایا جاتا ہے۔

اماں اُس دن تو میں نے کھانا کھا لیا تھا اور اسے برتن دھونے کے لئے دئیے تھے ایک آدھ نوالہ کا سالن پڑا ہو گا شاید اسی سے اس نے کھانے کی کوشش کی ہو گی۔۔۔
اب تو یہ بے حس ہو گئی ہے شاید۔۔ چلو آخری وار زور سے کرو اور ختم کردو اور گٹر میں ڈال دو۔ چلو جاؤ ابا سے کہو اس حرام زادی کے باپ کو اطلاع کرے کہ تمہاری بیٹی ہماری چوری کر کے بھاگ گئی ہے۔۔

ارے یہ کیا تم لوگ اتنا جلدی جیل سے چھوٹ کر آ گئے کمال ہے کیسے ہوا یہ سب؟
یہ تو چند میڈیا والوں نے گڑ بڑ کر دی ورنہ کسی کو پتا بھی نہیں چلتا.
بس ایما کا ابا دو غنڈوں کے ساتھ اس کے والدین سے ملا اور کہا شریعت محمدی کے مطابق قصاص لے لو۔۔۔ وہ ٹال مٹول کرنے لگا۔۔۔تو ہمارے بندوں نے پستول نکال لئے۔۔۔
پھر کیا ہوا ؟
یہ کمزور بندوق کے آگے کہاں ٹھہر سکتے ہیں۔۔۔ دوسرا یہ کہ ایک طرف ٹھنڈا چولہا اور دوسری طرف پانچ لاکھ۔۔۔ پانچ لاکھ کی گرمی نے ایمان و جذ بوں کو پگھلا دیا۔۔۔ اس نے پانچ لاکھ کے نئے نوٹ اٹھا لئے۔۔ پھر اس نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے اللہ کے واسطے اپنی بیٹی کا قتل معاف کیا۔۔ اور بس ہم باہر۔۔۔ رب کے بتائے گئے قانونِ قصاص کا بول بالا ہوا اور مدعی بھی مطمئن۔۔
اری ہم تو اسی خوشی میں کل عمرے پہ جا رہے ہیں شکرانہ ادا کرنے.

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker