رضی الدین رضیکالملکھاری

امجداسلام امجد۔محبت کرنے والوں کاوارث ( سالگرہ آج منائی جا رہی ہے ) ۔۔ رضی الدین رضی

آپ اس کی کوئی نفسیاتی توجیہ بھی تلاش کرسکتے ہیں لیکن میرا ہمیشہ سے یہ مسئلہ رہاہے کہ میں مشہور لوگوں سے دوررہتا ہوں۔کسی محفل میں آگے بڑھ کرکسی سے ہاتھ ملانااوراسے اپنا تعارف کرانا مجھے کبھی بھی اچھانہیں لگتا۔کسی معروف شخصیت سے شناسائی بھی ہو تو میں اس وقت تک اس کی جانب نہیں بڑھتا جب تک مجھے یہ یقین نہ ہوجائے کہ اس کی نظروں میں میرے لیے اجنبیت کی کوئی پرچھائیں موجود نہیں۔اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ میں مغرورہوں یا احساس کمتری کاشکارہوں۔بس مجھے اپنا تعارف کرانا یا اپنی شناخت کرانا اچھا نہیں لگتا کہ شناخت کرانے کےلئے وطن عزیز میں اور بہت سے مقامات آہ وفغاں جو موجودہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ نئے لکھاریوں کی طرح مجھے اور شاکرحسین شاکر کوبھی معروف قلمکاروں سے ملنے کا بہت شوق تھا۔میں ایک مضمون میں تفصیل کے ساتھ تحریر کرچکا ہوں کہ میٹرک کے امتحان کے بعد میں احمد فراز کے ساتھ ملاقات اور ان کا ا ٓٹو گراف لینے کےلئے اسلام آ باد گیاتھا۔احمد فراز اس وقت اپنے نیشنل سنٹر والے دفتر میں ایک خاتون افسانہ نگار کے ساتھ محو کلام تھے۔انہوں نے میڑک کے طالب علم کو محبت کے ساتھ دیکھا،اس کی خیریت دریافت کی اوراسے آٹو گراف بھی دیا۔بعد کے دنو ں میں فراز صاحب کے ساتھ کئی بار مشاعروں میں شرکت اور سفر کا اعزاز حاصل ہوا۔میں نے ہربار اس امید پر آگے بڑھ کر ان کے ساتھ مصافحہ کیا کہ وہ مجھے پہچان لیں گے لیکن ہرمرتبہ مجھے مایوسی کا سامنا کرناپڑا۔ہربار ان کی آنکھوں میں اجنبیت کی پرچھائیں نظرآئی۔اور ہربار شاکر حسین شاکر کو مدد کےلئے آگے آنا پڑااور  احمد فراز صاحب کوبتانا پڑاکہ یہ وہی رضی ہے جسے کل رات مشاعرے میں آپ نے بہت سی داد دی تھی۔پہلے پہل تو میں یہی سمجھا کہ فراز صاحب کی یادداشت اچھی نہیں اور وہ چونکہ روزانہ سیکڑوں مداحین سے ملتے ہیں اس لیے ان کےلئے سب کوپہچاننا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن بعد کے دنوں میں احساس ہوا کہ فراز صاحب تومجھے اس لیے نہیں پہچانتے کہ ان کی یادداشت بہت اچھی ہے۔اتنی اچھی کہ انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کسے کب اور کس جگہ پہچاننا ہے اور کسے کب اور کس جگہ نظرانداز کردینا ہے۔سب سے زیادہ تکلیف دہ تجربہ منیر نیازی کے ساتھ ہوا جب ایک محفل میں وہ کم وبیش آدھ گھنٹہ تک میرے ساتھ مسکرا کر باتیں کرتے رہے ۔انہوں نے میری خیریت دریافت کی اور مجھے لاہورآنے کی دعوت بھی دی ۔ملاقات کے اختتام پر مجھے گلے لگا کربولے ،اچھا بھئی اظہرسلیم مجوکہ پھر ملیں گے۔اس مرتبہ تم سے مل کر بہت لطف آیا پہلی بار تم نے ڈھنگ کی گفتگو کی ۔جب مجھے آج کی تقریب کےلئے امجد اسلام امجد کے بارے میں مضمون تحریرکرنے کو کہا گیا تو میرے ذہن میں پہلا سوال یہی آیا کہ میں امجد صاحب سے پہلی بار کب اور کہاں ملا تھا۔کونسی تقریب تھی جس میں میں نے ان سے پہلی ملاقات کی تھی اور کس محفل میں ان سے آٹو گراف لیاتھا اور کیاانہوں نے بھی میرے ساتھ وہی سلوک کیاتھا جو مشہور لوگ اپنے پرستاروں کے ساتھ کرتے ہیں۔پھریاد آیا کہ امجد اسلام امجد تو ان چند ہستیوں میں سے ہیں جن کے ساتھ میں ملاقات سے بھی پہلے مل چکا تھا۔ایسی ہستیاں بہت معتبر ہوتی ہیں کہ جن سے ملنے کےلئے آپ کو ملاقات کابھی اہتمام نہ کرنا پڑے اور امجد اسلام امجد ان چند ہستیوں میں سے ایک ہیں۔شایدیہ اس زمانے کی بات ہے جب اس ملک میں تخت اور تختے کی کہانی چل رہی تھی۔یہ کہانی میں نے بھی کسی کو سنانی تھی لیکن میرے پاس اظہارکےلئے لفظ موجودنہیں تھے۔میں اس شش وپنج میں تھا کہ بات گو ذرا سی ہے لیکن بات عمربھر کی ہے اور میں عمر بھر کی یہ باتیں دوگھڑی میں کیسے کہہ سکوں گا۔یہی وہ لمحہ تھا کہ جب امجد اسلام امجد میری مدد کوآئے اور مجھے بتایا کہ تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے ۔۔پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے ۔یہی وہ نظم تھی جس نے مجھے اظہار کی قوت عطاکی۔یہی وہ لمحہ تھا جس نے میری محبت کو زبان دی۔جس نے مجھے ہمت اور حوصلہ عطا کیا۔یہ تھی امجد اسلام امجد کے ساتھ میری پہلی ملاقات اور یہی تھا امجد اسلام امجد کے ساتھ میرا پہلا مکالمہ ۔یہی وہ دن تھا کہ جب امجد اسلام امجد میرے لیے معتبر قرارپائے اور اس لیے معتبر قرارپائے کہ میری محبت معتبر تھی اور انہوں نے میری محبت کو زبان دی تھی اور صرف میرے لیے ہی نہیں وہ ہر اس شخص کےلئے معتبر ہیں جو محبت کرتا ہے جس کے دل میں کوئی یاد سلامت ہے اور جس کے دل میں کوئی دھڑکن موجودہے کہ امجد اسلام امجد نے ہزاروں لاکھوں افراد کی محبتوں کو زبان دی ۔وہ ہمارے لیے اظہارکاوسیلہ بنے اور اس وقت وسیلہ بنے جب ہم میں سے کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاﺅ ہے۔یوں امجد اسلام امجد اپنی نظموں کے ذریعے میرے ہی نہیں ہر محبت کرنے والے کے وارث بن گئے ۔اور وارث پر یاد آیا کہ امجد صاحب کے ساتھ مکالمے کا دوسرا ذریعہ تو ”وارث“ ہی بناتھا ۔یہ 1978-79ءکا زمانہ تھا جب انہوں نے وارث جیسا شاہکارتخلیق کیا۔جنرل ضیاءکے مارشل لاءکا سورج نصف النہار پرتھا۔شام ہوتے ہی ملک بھر میں سڑکیں اور گلی کوچے وارث کی محبت میں ویران ہوجاتے تھے۔ہمیں پہلی بار معلوم ہوا کہ سڑکیں اور گلی کوچے صرف جبر کے خوف سے ہی ویران نہیں ہوتے۔لوگ امجداسلام امجد اوراس ڈرامے کے تمام کرداروں کے دیوانے ہوچکے تھے۔اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھااورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتاہے اور وقت کا بہاﺅ ان کے جعلی رعب ودبدبے کی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھرہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو خس وخاشاک کی طرح بہتے ہوئے بھی دیکھا۔پھراس کے بعد امجد اسلام امجد کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔1983ءمیں وہ زکریایونیورسٹی کے مشاعرے میں شرکت کےلئے ملتان آئے۔ یہ وہی مشاعرہ تھا جس میں پہلی بارخالد مسعودخان کی رونمائی ہوئی تھی اورجس کے بارے میں خود خالد مسعود کاکہنا ہے کہ اسی مشاعرے کے ذریعے وہ دنیائے ادب پر سکائی لیب بن کر گرا تھا۔اسی مشاعرے کے اگلے روز نواں شہر میں ڈاکٹر مقصود زاہدی کے گھرناشتے پر امجد اسلام امجد اور منیر نیازی کے ساتھ ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر انور زاہدی ،ماہ طلعت زاہدی اور اظہرسلیم مجوکہ بھی موجودتھے۔اس کے بعد ان گنت تقریبات اور مشاعروں میں ان کے ساتھ ملاقاتیں رہیں۔ابتداءمیں احمد فراز اور منیر نیازی کے تجربات کے پیش نظر میں امجد صاحب سے دوررہتا تھا۔مجھے خوف تھا کہ اگر میں نے ان کی آنکھوں میں بھی اپنے لیے اجنبیت کی پرچھائیاں دیکھ لیں تو یہ صورتحال میرے لیے بہت تکلیف دہ ہوگی۔صدشکر کہ ایسا نہ ہوا۔وہ جیسے اپنی شاعری میں دکھائی دیتے ہیں ویسی ہی ان کی شخصیت ہے۔بڑا شاعر اور بڑاانسان ہونا دو الگ الگ باتیں ہونا تو نہیں چاہئے لیکن فی زمانہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے ۔ہم بہت سے نامور شعراءکی خامیوں کو عظمت فن کی دلیل دے کر نظرانداز کردیتے ہیں۔ان کی بشری خامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تو ان کے ذاتی معاملات ہیں۔ہمیں صرف شاعر کو اس کے فن کی کسوٹی پر ہی پرکھنا چاہیے۔امجد اسلام امجد کے ساتھ ایسا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔وہ جتنے خوبصورت اپنی شاعری میں نظرآتے ہیں ویسی ہی دل آویز ان کی شخصیت بھی ہے۔یہ ا مجداسلام امجد ہی ہیں جن کے ساتھ مل کر احساس ہوا کہ تمام مشہور لوگ مغرور نہیں ہوتے۔محبت،احترام اور رکھ رکھاﺅ کا جو سلیقہ ان کے ہاں جھلکتا ہے بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔وہ انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں ۔وہ رشتوں کاتقدس جانتے ہیں۔وہ ان چندشاعروں میں سے ہیں جن کی ذات سے کسی قسم کا کوئی سکینڈل وابستہ نہیں ۔میں جو پہلے صرف ان کی شاعری کا مداح تھا اور میں جو پہلے ان کی نظموں کا حافظ تھا چند ہی ملاقاتوں میں ان کی شخصیت کابھی اسیر ہوگیا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت اور احترام کا یہ رشتہ مستحکم ہوتا چلا گیا۔ایک سینئر کی حیثیت سے وہ قدم قدم پر ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔وہ کسی تقریب یا بھری محفل کے دوران جب ہماری تعریف کرتے ہیں،جب ہمارا نام لیتے ہیں تو ہم اپنے قد سے بھی بڑے ہوجاتے ہیں۔بلاشبہ وہ آج کے عہد کے سب سے بڑے شاعرہیں۔اردو نظم کو امجد اسلام امجد نے جو اسلوب دیا اس نے مجھ سمیت ان کے بعد آنے والے بہت سے شعراءکو متاثر کیا۔ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہم امجد اسلام امجد کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔پہلے تو میں انہیں صرف محبت کرنے والوں کا وارث سمجھتا تھا لیکن آج مجھے یہ کہنے دیجئے کہ اردو شاعری کے وارث بھی اب امجد اسلام امجد ہی ہیں۔
امجد اسلام امجد کے ساتھ شام میں پڑھا گیا
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker