جون کے مہینے میں تپتی دھوپ اور جھلسادینے والی لو کے دوران ہمیں اپنے ایک دوست کی گفتگو بہت یادآتی ہے۔ہمارے اس دوست کاکہنا ہے کہ یہ گرمیوں کا موسم بھی بہت غلط وقت پرآتا ہے۔اتنے غلط وقت پر کہ ہم اس سے ٹھیک طرح سے لطف اندوز بھی نہیں ہوسکتے۔ان کا کہنا ہے اگریہ موسم کبھی سردیوں میں آجائے تو بہت لطف آئے گا۔پھرہمیں گرمی نہیں لگے گی۔پنکھے اور ایئرکنڈیشنربھی نہیں چلاناپڑیں گے اور واپڈا والوں کو دریاﺅں میں پانی کے باوجود لوڈمنیجمنٹ کے نام پر لوڈشیڈنگ بھی نہیں کرناپڑے گی۔خودہمارا بجلی کا بل بھی بہت کم آئے گا کیونکہ جب گرمیوں کا موسم سردیوں میں آئے گا تو ہیٹر بھی تو استعمال نہیں ہونگے۔ہمیں اپنے اس دوست کی یہ گفتگو خاصی احمقانہ دکھائی دی مگر مختلف دفاتر میں سالہا سال کی ملازمت کافائدہ یہ ہوا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں خاصی احمقانہ گفتگو پربھی تحسین کے انداز میں مسکرانے کا ڈھنگ آگیا ہے۔
وگرنہ اس سے پہلے یہ ہوتاتھا کہ ہم ایسے مواقع پرطنزیہ انداز میں مسکرا کرخاصانقصان اٹھایا کرتے تھے۔ اس دوست کی احمقانہ گفتگوپربھی ہم زیرلب مسکرا کر خاموش ہوگئے۔ہماری یہ زیر لب مسکراہٹ بھی انہیں ایسے ہی ناگوار گزری جیسے حکمران جماعت کو آج کل جائز تنقید بری لگتی ہے۔ ہمارے وہ دوست کہنے لگے،آپ ہماری اس گفتگو پر کیوں مسکرا رہے ہیں۔ہم نے کہا بھائی بات ہی مسکرانے کی ہے۔کوئی بھی ذی شعور آپ کی اس گفتگو پر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
”اچھااچھا تو گویاآپ خود کوذی شعور ظاہر کرنے کےلئے ہماری اس علمی گفتگو کامذاق اڑا رہے ہیں۔ورنہ ہمیں تو یہ شک ہوگیاتھا کہ شاید ہم واقعی کوئی غلط بات کہہ بیٹھے ہیں۔“
لیجئے صاحب انہوں نے اطمینان کے ساتھ اپنی بے سروپا گفتگو کوبھی علمی قراردیدیا۔ہم انہیں کہنا چاہتے تھے کہ اگرہر شخص اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا شروع کردے اور اپنی حماقتوں پر اصرار کی روش ترک کردے تو سارے جھگڑے ہی ختم نہ ہوجائیں مگر ہم نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا ۔ہماری اس خاموشی کو ہمارے اس دوست نے ہماری کم علمی سمجھ کر دوبارہ اپنی گفتگوشروع کردی۔کہنے لگے دیکھومیرے پاس گرمیوں سے نجات اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے بہت سے منصوبے ہیں۔ اگر تم میرا مذاق نہ اڑاﺅ تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جب یہ گرمیاں سردیوں میں آجائیں گی تو بہت سکون ہوجائے گایہ جو باربارلائٹ بند ہوجانے سے جی گھبرانے لگتاہے،باربارپیاس لگتی ہے اورکاروبار زندگی معطل ہوجاتا ہے یہ سب جھنجھٹ بھی ختم ہوجائیں گے ۔اب تو یہ عالم ہے کہ ادھربجلی بند ہوتی ہے ادھر جان نکلنے لگتی ہے۔بستر پر تنہا لیٹنا بھی عذاب ہوجاتا ہے ۔اوریہ جو تم مسلسل میری گفتگوپر مسکرارہے ہوناں اگر ابھی لائٹ بند ہوجائے تو یہ تمہاری مسکراہٹ بھی اس کے ساتھ ہی نودو گیارہ ہوجائے گی اورتمہیں یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ مسکراہٹ تو کوئی لائن مین بھی بحال نہیں کرسکتا۔لیجئے صاحب۔اب تو انہوں نے باقاعدہ ذاتی حملے شروع کردیئے تھے مگر گفتگو ان کی اتنی دلچسپ تھی کہ ہم نے یہ انداز تخاطب بھی ویسے ہی برداشت کرلیاجیسے ہم بحیثیت قوم نریندرمودی کا توہین آمیز رویہ برداشت کرکے خود کو مہذب ، امن پسند اور باوقارثابت کررہے ہیں۔موصوف نے گفتگو مسلسل جاری رکھی ۔کہنے لگے لوڈشیڈنگ کابھی کوئی ٹائم نہیں واپڈاوالے جب جی میں آتا ہے بجلی بند کردیتے ہیں(اب ہم انہیں کیابتاتے کہ آج کل لوڈشیڈنگ اتنی زیادہ نہیں ہورہی لیکن ان کی گفتگوپر خاموش اس لیے رہے کہ وہ ترنگ میں بولے چلے جارہے تھے)۔کہنے لگے اب یہی دیکھو کل لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے میری بیگم کپڑے استری نہ کرسکی اور میں نوالے اپنے منہ میں نہ ڈال سکا۔”کیاآپ بجلی کی مدد سے نوالے منہ میں ڈالتے ہیں“ہم نے حیرت سے سوال کیا۔اب مسکراہٹ کی باری ان کی تھی۔ کہنے لگے بات وضاحت کے ساتھ کرناپڑے گی تم جیسے کم علم لوگ اشارے کنائے تو سمجھتے ہی نہیں۔دیکھومیاں کل ہم رات کاکھاناکھانے لگے تو لائٹ آف ہوگئی۔ہم نے کھانا تو خوب کھایا مگر پھربھی بھوکے ہی رہ گئے۔اندھیرے میں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ منہ کہا ں ہے۔باتوں باتوں میں نوالے اپنے منہ کی بجائے بچوں میں منہ میں ڈالتے رہے۔اور وہ بھی ایسے ناخلف ہیں کہ چپ کر کے کھاتے رہے۔منہ سے یہ نہ پھوٹے کہ اباجی یہ آپ کانہیں ہمارا منہ ہے۔اسی لیے تو میں کہتا ہوں گرمیاں سردیوں میں ہی آنی چاہیں۔گرمیاں جب سردیوں میں آئیں گی تو ایسے بہت سے مسائل سے نجات مل جائے گی۔سردیوں میں اگرلوڈشیڈنگ ہوئی بھی تو کم ازکم جی تو نہیں گھبرایاکرے گا۔
اب ہمارے ضبط اوران کے خبط کی انتہاءہوچکی تھی۔ہم نے کہاکہ حضور آپ کی تمام باتیں درست مگر کوئی طریقہ بھی توبتائیں کہ گرمیوں کو سردیوں کے موسم میں کیسے منتقل کیاجاسکتا ہے۔انہوں نے ترس کھاکرہماری جانب دیکھا اوربولے ہمیں معلوم تھا کہ تم ایسے ہی طفلانہ سوالات کروگے۔کیا عجیب زمانہ آگیاہے۔ایک تو تمہیں اتنی اعلی تجویز دی اور اب اس کاطریقہ کار بھی کیا میں ہی بتاﺅں؟ ہمارے ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم ہرکام میں ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتے ہیں اورتمہیں ایک بات بتاﺅں کہ
تیری جو ہٹ دھرمی ہے
اس کے پیچھے گرمی ہے
افسوس کہ کوئی بھی اپنا کام خود نہیں کرناچاہتا۔حکومت اگر چاہے تو گرمیوں کوسردیوں میں منتقل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا بس ایک آرڈیننس کے ذریعے ایسا ہو جائے گا ۔
تو پھرسردیوں کو ہم کہاں لے جائیں گے؟ ہم نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا ۔انہوں نے کچھ دیرکےلئے سوچا پھرکہنے لگے انہیں گرمیوں میں لے جانا۔
عرض کیا کہ جناب بات تو پھروہیں کی وہیں آجائے گی ۔پھر اتنے تردد کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ہمارے اس سوال پر انہوں نے مسکرانے کی بجائے باقاعدہ قہقہہ لگادیا۔کہنے لگے اس سارے تردد کا فائدہ یہ ہوگا کہ یکسانیت ختم ہوجائے گی۔زندگی میں کچھ تبدیلی آجائے گی ۔اور پھران لوگوں کے منہ بھی بند ہوجائیں گے جو کہتے ہیں کہ نئی حکومت کو 10ماہ ہوگئے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اور تو اور جب سردیاں واپس گرمیوں میں آ جائیں گی تو میں اپنے سردیوں والے سوٹ گرمیوں میں بھی استعمال کرسکوں گا ۔۔ کیوں پھر کیسا ؟ ۔۔

