اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : ملتان رنگ ، پروفیسر انور جمال اور رول نمبر257

ملتان کے ادبی منظرنامے میں کون کون سی ادبی تنظیمیں متحرک رہیں ۔کون سے شاعر،ادیب اور نقاد سرگرمی کے ساتھ ماضی کی ادبی تقریبات ،تنقیدی اجلاسوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے رہے۔ یہ موضوع آج ہمارے لیے بے شک اہم نہ ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی یہ تقریبات آنے والے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کرجائیں گی۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ادبی بیٹھک کی سرگرمیوں کوکتابی صورت میں محفوظ کرنا شروع کیا تاکہ ہم اپنے حصے کا کام تو کرجائیں ۔قیام پاکستان کے فوراً بعد کے ملتان کا ادبی منظر کیسا تھا۔ اس بارے میں ہمیں زیادہ تفصیل پڑھنے کو نہیں ملتی۔ اس زمانے میں اخبارات بھی زیادہ نہیں تھے ، اور نشرواشاعت کے ذرائع بھی بہت محدودتھے۔ ہمیں اس زمانے کاملتان کچھ تذکروں اور چند تحقیقی کتابوں میں پڑھنے کو ملتا ہے۔
اسی طرح 1960 اور70کے عشروں کی تقریبات کااحوال بھی مختلف مضامین میں تو موجودہے لیکن کتابی صورت میں وہ تقریبات اب تک یکجانہیں ہوسکیں۔اس حوالے سے ڈاکٹر مختارظفر نے ملتان کی ادبی تنظیموں اور محفلوں کے بارے میں جو تحقیقی کام کیا اب تک وہی بنیادی مآ خذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پروفیسر انور جمال نے 1980ءکے عشرے میں منعقد ہونے والی تقریبات کو کتابی صورت میں محفوظ کردیا ہے۔1981 سے 1986ءتک کی ادبی سرگرمیاں زیرنظرکتاب ” ملتان رنگ “میں موجود ہیں۔1981 وہ سال ہے جب ہم گو رنمنٹ کالج سول لائنز میں پروفیسر انورجمال سے اردو پڑھتے تھے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ہم نے ادبی تقریبات میں آمد ورفت شروع کی تھی۔
پروفیسر انور جمال اس زمانے میں روزنامہ نوائے وقت میں ”ملتان رنگ“ کے نام سے ہفتہ وارکالم لکھتے تھے۔یہ کالم بنیادی طورپر تقریبات کے احوال پر مبنی ہوتا تھا۔اور بعض اوقات وہ اس سے ہٹ کربھی بعض اہم موضوعات کو اپنے کالم کا حصہ بناتے تھے۔اگرچہ وہ زمانہ ہماری نظروں کے سامنے رہا اور ہم خود ان تقریبات کاحصہ رہے لیکن اب یہ کتاب پڑھی تو معلوم ہوا کہ ہم بھی اس زمانے کے بہت سے نام ،بہت سے واقعات اور بہت سی تقریبات کو فراموش کرچکے ہیں۔کچھ لوگ جب اس جہان سے رخصت ہوئے توپھران کا تذکرہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا چلاگیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ان کے نام سامنے آئے تو جیسے سب کچھ دوبارہ یاد آگیا۔ پروفیسر انور جمال کے یہ کالم شاید کتابی صورت میں منظر عام پرنہ آتے اگرمیں اور شاکر انہیں ان کالموں کو یکجا کرنے کی ترغیب نہ دیتے۔ہم گزشتہ تین برس سے پروفیسر انور جمال صاحب سے کہہ رہے تھے کہ ان کالموں کو کتابی صورت میں لے آئیں لیکن ان کا کہناتھا کہ میرے لیے پرانے کالموں کو ترتیب دینا ممکن نہیں۔ پھرایک روز انہوں نے یہ سب تراشے میرے حوالے کردیئے اور کہا کہ آپ شاکر کے ساتھ مل کر اسے ترتیب دے دیں۔
کالموں کا مطالعہ شروع کیا تو میں ایک مرتبہ پھر 1980ءکے عشرے میں پہنچ گیا۔سول لائنز کالج کی راہداریاں ،کینٹین پر جابر علی سید، حسین سحر،مبارک مجوکہ، پروفیسر امین، عامرفہیم اور شوکت مغل کی بیٹھک نظروں میں گھوم گئی۔ میں یک دم رول نمبر257والا لڑکا بن گیا جو 1981ءمیں نان میڈیکل فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا،جوپروفیسر انورجمال اور مبارک مجوکہ کے لیکچر تو بہت شو ق سے سنتا تھا لیکن کیمسٹری والے فیاض صاحب اور فزکس والے نجم الحسن صاحب کے پیریڈمیں رول نمبر155(شاکرحسین شاکر) کے ساتھ رفو چکر ہوجاتاتھا۔بسا اوقات ہم ایک دوسرے کی پراکسی بھی لگاتے تھے۔
اسی زمانے میں ہم ناپسندیدہ لیکچروں کے دوران پروفیسر انور جمال کاکالم نوائے وقت کے دفتر پہنچانے کے بہانے وقت سے پہلے کالج سے فرارہوجاتے تھے تاکہ کالم کے ساتھ اپنی غزل بھی لپیٹ کر جبار مفتی یا نصیر رعنا کے حوالے کر دیں ۔پروفیسر انور جمال نے تو ہمیں یہ ذمہ داری نہیں سونپی تھی ۔لیکن ہم ازخود ان کے خدمت گاربن گئے تھے۔لالچ یہ ہوتا تھا کہ ہم یہ کالم نوائے وقت میں شائع ہونے سے پہلے ہی پڑھ لیں گے۔ سائیکل پر سوارہونے سے پہلے میں اور شاکر کہیں بیٹھ کر یہ کالم پڑھتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ کالم میں سے کسی کا نام حذف یا شامل کردیں لیکن پھر یہ سوچ کر اس خواہش کو خواہش ہی رہنے دیتے کہ اگر ہم نے کالم میں ردوبدل کردیا تو پکڑائی ہوجائے گی۔پھر اگلا پورا ہفتہ ہم لوگوں کوبتاتے تھے کہ اس مرتبہ انور جمال صاحب کے کالم میں کون سے موضوعات کا ذکرہوگا۔زیر نظر کتاب میں مجید امجد اکادمی کاذکربھی ہے اوراسی تناظر میں جنریشن گیپ پربھی بات کی گئی ہے۔مجید امجد اکادمی اس زمانے میں بہت متحرک تھی۔ انشائیہ، ہائیکو اورسرائیکی مشاعرے اس زمانے میں ابتدائی مراحل میں تھے ۔کالموں میں بھی ان کاجابجا تذکرہ موجود ہے ۔پروفیسرفاروق عثمان ،وفا راشدی وفا حجازی ، انور زاہدی، قمریزدانی کاتذکرہ اس کتاب کا حصہ ہے۔ازرق عدیم کا نام اب کسی کویاد بھی نہیں ہوگا لیکن اس کی شاعری پر گفتگواس کتاب میں موجودہے۔مشتاق صوفی کے ساتھ شام، ادیبوں کا مقابلہ حسن صحت، ملتان میں ٹی وی اسٹیشن کی ضرور ت جیسے موضوعات پر انورجمال صاحب نے تفصیل سے بات کی ہے۔اس کے علاوہ ادب ،ادیب اور حب الوطنی جیسا سدابہارموضوع بھی اس کتاب میں محفوظ ہیں ۔کئی کالم توایسے ہیں کہ آج 40سال بعدبھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ آج کی بات ہے۔پروفیسر انور جمال صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں یہ کتاب ترتیب دینے کا اعزاز بخشا۔آنے والے دنوں میں کسی نے 1980کے ادبی منظرنامے میں جھانکنا ہوگا تو یقیناً یہ کتاب اس کے لیے مددگارثابت ہوگی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker