اسلام آباد : سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ بدھ کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ قراردے گی کہ آئین کا آرٹیکل 226 سینیٹ الیکشن پرلاگوہوتا ہے یا نہیں ؟ آرٹیکل 226 کے تحت تمام الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگرآئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہوگی تو بات ختم۔جیو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، ریاست کے ہر ادارے کو اپنا کام حدود میں رہ کرکرنا ہے، ووٹنگ کےلیے کیا طریقہ کاراپنانا ہے ؟ کتنی سیکریسی ہونی چاہیے؟ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔
دریں اثنا بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹنگ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سندھ بار کونسل کے وکیل صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات ایک سیاسی معاملہ ہے اور سپریم کورٹ کو خود کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا ارکان پارلیمان کا اختیار ہے اور عدالت پارلیمنٹ کے اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپنے دلائل میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ اوپن بیلیٹنگ کروانے سے رشوت ختم ہو جائے گی تو یہ تاثر غلط ہے کیونکہ رشوت لینے اور دینے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلیٹنگ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت گذشتہ چند ہفتوں سے جاری ہے۔ بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران سندھ بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 226 کے بارے میں جو خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے، سپریم کورٹ سے رائے مانگی ہے تو عدالت کو اس کا جواب آئین کی روشنی میں ہی دینا ہو گا اور اگر اس سے ہٹ کر کوئی رائے دی گئی تو عدالت کے متنازعہ ہونے کے بارے میں تاثر قائم ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو کردار ہیں ایک کردار وہ کہ جب دو فریق مقدمے بازی میں آتے ہیں تو اس بارے میں سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے اور دوسرا جب کسی قانونی اور آئینی پہلو پر عدالت عظمیٰ سے رائے مانگی جاتی ہے۔ صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ ’دوسرے معاملے میں سپریم کورٹ کو احتیاط سے کام لینا ہو گا۔‘
فیس بک کمینٹ

