رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : بوٹا انتخابی نشان بوٹ

ڈرتے ڈرتے

قارئین کرام بوٹا کونسلر بہت اداس ہے اور اداس کیوں نہ ہو اس کے ساتھ پچھلے انتخابات میں ہاتھ ہو گیاتھا۔ ہاتھ یہ ہوا کہ آخری انتخابی معرکے میں اس کا کوئی مول نہیں پڑا۔ اگرچہ بوٹے نے اپنے مکان کے باہر برائے فروخت کا علامتی بورڈ بھی لگا رکھا تھا لیکن سادہ لوح امیدواروں نے اس بورڈ کی طرف دھیان ہی نہ دیا۔ ایک دو ضرورت مند آئے تو سہی مگر مکان کی قیمت پوچھ کر واپس چلے گئے۔ الیکشن سے ایک رات پہلے جب بوٹے کو معلوم ہوا کہ اس کے اڑوس پڑوس کے سب کونسلردس ،دس ،پندرہ ، پندرہ ہزار کما چکے ہیں تو وہ خود امیدواروں کے پاس جا پہنچا اور ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے میرے مکان کے باہر لگا ہوا بورڈ پڑھا ہے ؟ ایک امیدوار نے تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ بھائی میری نظر کمزور ہے اور مجھ سے بورڈ نہیں پڑھے جاتے۔ دوسرے نے کہا بورڈ پڑھا ہے مگر میں نے مکان نہیں خریدنا۔ اس نے کہا جناب آپ مکان پر لعنت بھجیں ”بوٹا“ حاضر ہے۔ اسے خرید لیں مگر اسے بتایا گیا کہ تم نے آنے میں بہت دیر کر دی۔ ہماری گنتی پوری ہو چکی ہے اور ہم نے جنہیں خریدنا تھا خرید کر محفوظ مقامات کی جانب روا نہ بھی کر دیا ہے۔ بوٹا اتنا گیا گزرا بھی نہیں تھا کہ اسے دس پندرہ ہزار روپے نہ ملتے۔ بس ہوا یہ کہ اس کی شہرت خراب ہو گئی تھی۔ اس کے بارے میں دشمنوں نے یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ بوٹا پیسے لے کربھی ووٹ نہیں دیتا۔ ویسے بھی اس نے الیکشن میں دونوں طرف وعدے کئے اور انہیں نبھایا بھی۔ بیلٹ پیپر پر دو مہریں لگائیں۔ ووٹ ضائع ہو گیا اور دونوں طرف کا حلف پورا ہو گیا۔
پھر رن آف الیکشن ہوا ( جسے عرف عام میں ری پولنگ بھی کہتے ہیں) اس موقع پراس نے باقاعدہ منتیں بھی مانی تھیں اور دعا کی تھی کہ یا اللہ بانڈ تو میرا کبھی نہیں نکلا بس اس الیکشن پر میری بولی لگوا دے۔افسوس کہ وہ دعا بھی پوری نہ ہوئی۔ ہم نے بوٹے سے پوچھا بھی کہ ” بوٹا بھائی جان آپ کو رن آف الیکشن سے آخر کیا دلچسپی ہے؟ کہنے لگا ری پولنگ بہت ضروری ہے۔ اگر آج ہی فیصلہ ہو گیا تو ہم میں سے کسی کا مول نہیں پڑے گا۔ سب ٹکے ٹوکری ہو جائیں گے۔“
جب دوبارہ پولنگ کا اعلان ہوا تو بوٹا سیدھا سجدے میں گر گیا۔ شکرانے کے نوافل پڑھے۔ د و جگہ چادریں چڑھائیں۔ تین جگہ گھی کے چراغ جلائے اور گھر والوں کو بتا دیا کہ اب ہمارے دن بدلنے والے ہیں۔ کونسلرکے الیکشن پرجو خرچہ ہوا تھا وہ بھی پورا ہو جائے گا۔ شاید چار پیسے بچ بھی جائیں۔ اس نے یہ بھی اعلان کیا کہ میں جولائی کے مہینے میںاغواہو جاﺅں گا میرا سامان تیار رکھنا۔ اغوا کے ذکر پر اس کی بیگم نے اسے بہت ناگواری ، حسرت اور رشک کے ساتھ دیکھا مگر منہ سے کچھ نہ کہا۔ ہاں البتہ سامان رکھتے ہوئے اس نے بوٹے سے یہ ضرور پوچھا کہ تمہارے پاس زیور تو ہے نہیں اغوا کے وقت ”سامان“ کون سا لے کر جاﺅ گے ؟۔پھرایک روز جب بوٹے کو اس کے محلے کے ایک ادھیڑ عمر کونسلر نے بتایا کہ میرا 15ہزارروپے میں سودا ہو گیا ہے تو بوٹے نے فوراً گھرجا کر آئینہ دیکھا۔ بیگم سے پوچھا کہ اگر 50سالہ رشید کا مول 15ہزار لگ سکتا ہے تو میری قیمت بھلا کیا ہوگی۔ بیگم بھنائی بیٹھی تھی کہنے لگی 15ہزار کے خواب دیکھ رہے ہو۔ یہ تو الیکشن کا دور ہے تمہارے جیسوں کی تو بقر عید کے سیزن میں بھی کوئی قیمت نہ لگے۔
پھر ایک ایک کرکے محلے کے سب کونسلر اغوا ہو گئے۔ بوٹا ہر دستک پر گھر سے باہر نکلا اور ناکام و نا مراد واپس لوٹ آیا۔ آخری مرتبہ تو اس کے ساتھ بہت برا ہوا۔ وہ دستک پر باہر نکلا فجا قصائی کونسلر نئے لاچے اور کالی مونچھوں کیساتھ دروازے پر کھڑا تھا۔ ” بوٹے میں بھی جا رہا ہوں“ قصائی نے اسے دیکھتے ہی آواز لگائی۔ ”کتنے میں سودا ہوا ، بوٹے نے مری ہوئی آواز میں دریافت کیا “۔ ” جتنے میں بھی ہوا تجھے اس سے کیا ۔۔۔۔۔؟“
قصائی کے جواب پر وہ بہت آزردہ ہوا۔ ہمت کرکے وہ حرف سوال زبان پر لے ہی آیا ”بھائی قصائی …. میرا بھی سودا کرا دے“ اس نے کمزور نحیف بکرے جیسی آواز نکالی۔ ” نہ بھائی تیرا سودا نہیں ہو سکتا۔یہاں ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے اور ہارس ٹریڈنگ میں گدھے گھوڑے ایک قطار میں نہیں آسکتے“ قصائی کے جواب پر وہ اس سے سلام لئے بغیر دروازہ بند کرکے کمرے میں آگیا۔ اگلی صبح اس نے مکان سے برائے فروخت کا بورڈ اتار ا اور الیکشن کے دوران تیار ہونے والا ہینڈ بل گھر کے دروازے پر دوبارہ چسپاں کر دیا۔ ہینڈ بل کی عبارت یہ ہے ۔ ” آپ کا بوٹا …….. نہ بکنے والا، نہ جھکنے والا،،، انتخابی نشان بوٹ“ ۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker