اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

اسامہ کی حمایت ، خاموشی کا شور اور ایک غلام کی منتشر خیالی ۔۔ رضی الدین رضی

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی چپ تان لینے کو جی چاہتا ہے۔ یہ احساس اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ لوگوں کی اکثریت اب وہی کچھ سننا چاہتی ہے جو انہیں مسلسل سنایا جا رہا ہے اور وہی کچھ پڑھنا چاہتی ہے جو انہیں پڑھایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لکھاریوں نے عوامی جذبات کو مدِنظر رکھ کر وہی طرز بیان اختیار کر لیا جو آسانی کے ساتھ ”سب کو“ ہضم ہو جاتا ہے۔ حالت تو یہ ہو گئی کہ حساس اداروں کی طرح تمام موضوعات ہی حساس قرار پا گئے۔ کہنے کو ہم آزاد میڈیا کے دور میں سانس لے رہے ہیں۔ جمہوریت اور آزادیء اظہار کے نا م نہاد علمبردار چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ آزادی ہم نے خیرات میں نہیں لی۔ اس کے لئے ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ قربانیاں ہم نے ضرور دیں لیکن یہ سب کچھ ہمیں کسی جدوجہد کے نتیجے میں تو نہیں ملا۔ (بلکہ جدوجہد کے باوجود ہمیں کچھ بھی نہیں ملا) حضور دینے والوں نے آپ کو جو کچھ بھی عطا کیا اپنی مرضی سے عطا کیا اور اتنا ہی عطا کیا جتنا وہ عطا کرنا چاہتے تھے۔ ہم تو وہ غلام ہیں کہ جنہیں خود کو غلام کہنے کی بھی اجازت نہیں۔ ہم زنجیریں پہن کر آزادی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم مارشل لاء کو مارشل لاء اور غیر جمہوری دور کو غیر جمہور ی دور کہہ لیا کرتے تھے اب تو حالات اس نہج پر آگئے کہ ہم فوجی عدالتوں والے دور کو بھی جمہوری کہنے پر مجبور ہیں۔ دہشت گرد ہمیں جب اور جہاں چاہتے ہیں مار جاتے اور ہم خود کو غیر محفوظ بھی نہیں کہہ سکتے۔ عجب تضاد بھرا معاشرہ ہے کہ جس میں بہت سے نجس بھی مقدس قرار دے دئے گئے۔ جرائم پیشہ افراد معزز اور قاتل رکھوالے قرار پائے۔ مزید کیا لکھوں کہ اس سے زیادہ کی تاب نہیں اور اگر لکھ بھی دیا تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ لوگ تو وہی پڑھنا چاہتے ہیں جو پڑھوانے والے پڑھوا رہے ہیں اور وہی سننا چاہتے ہیں جو سنوانے والے سنوا رہے ہیں۔چپ تان لیں تو خاموشی شور مچاتی ہے اور بولیں تو ۔۔۔ چھوڑیں صاحب آپ کو کس منتشر خیالی میں الجھا دیا ۔آئیں اسامہ بن لادن اور حسین حقانی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اور پھر حسین حقانی کو غدار کہتے ہیں کہ اسامہ نے تو ہم سے کوئی غداری نہیں کی تھی وہ تو ہمارا تھا ہی نہیں۔ ہمارا دشمن تو صرف حسین حقانی ہے۔ آئیں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بات پر بلند آواز میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی ان عدالتوں کی حامی ہو گئی ہے۔ اگرچہ خاموشی کا شور بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔لیکن ہم فوجی عدالتوں کے قیام پر تو خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ہم نہ بولے تو اور کون بولے گا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker