رضی الدین رضیکالملکھاری

راشد نثار جعفری : مدینے کی مٹی میں جذب ہونے والا آنسو ۔۔ رضی الدین رضی

آنسو توکہیں بھی گرسکتے ہیں ،کبھی تکیے پر،کبھی دامن پر،کبھی کسی کے شانے پر اور کبھی زمین پر۔آنسو کسی بھی جگہ بہائے جاسکتے ہیں۔کبھی اپنے کمرے میں چھپ کر،کبھی بھری محفل میں حوصلہ دینے والوں کے ساتھ بیٹھ کر اور کبھی تنہاکسی راہ پر بھٹکتے ہوئے اور یہ سوچتے ہوئے کہ کاش میں تنہا نہ ہوتا ۔ لیکن آنسو تو ہوتے ہی بہنے کیلئے ہیں۔آنسو تو ہوتے ہی زندہ رہنے کیلئے ہیں۔کسی یاد کو امر کرنے کیلئے ۔جیون کو تنہا بسر کرنے کیلئے۔
16اپریل 2012ء کی شب کراچی ایئرپورٹ سے اری ٹیرین ایئرلائنز کی پرواز جدہ کیلئے روانہ ہوئی تو میرے فون کے ان باکس میں دوستوں کے الوداعی پیغامات موصول ہونے لگے۔سفر بخیر۔۔۔خیر سے جاؤ اور خیر سے آؤ۔۔۔ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھنا۔۔۔رن وے پر جب تک طیارہ ٹیکسی کرتا رہا پیغامات مسلسل موصول ہوتے رہے ۔بہت سی محبتوں اور بہت سی دعاؤں میں ایک منفرد پیغام راشد نثارجعفری کاتھا۔’’ love uبھائی جان۔جلدی واپس آنا۔‘‘ نثار کا پیغام پڑھ کر میں بے اختیار مسکرادیا۔ایسا محبت بھر اپیغام تو مجھے کسی نے بھی نہیں بھیجا تھا۔طیارہ فضاؤں میں بلند ہوا۔نیچے تاحد نظر جگمگاتا ہوتا کراچی میری نظروں کے سامنے تھا اورپھر ٹیلی فون کے سگنلز ختم ہوگئے۔سب کے ساتھ میرا رابطہ منقطع ہوگیا۔مجھے اس وقت اندازہ بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جلد واپسی کا تقاضا کرنے والے راشد نثار جعفری کے ساتھ تو میرا رابطہ ہمیشہ کیلئے منقطع ہوگیا ہے۔مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ جس کے پیغام پر میں ابھی بے اختیار مسکرایا ہوں چند ہی روز بعد سینکڑوں میل دور مجھے اس کیلئے بے اختیار رونا بھی ہوگا۔تنہا کسی سڑک پر ایک ایسے ماحول میں کہ جہاں مجھے کوئی حوصلہ دینے والا بھی نہیں ہوگا۔ہمیں بھلا یہ کب خبر ہوتی ہے کہ اپنے کسی دوست کیلئے ہمیں کب اورکہاں آنسو بہاناپڑ جائیں۔
راشد نثار جعفری سے میری پہلی ملاقات 2007ء میں لاہور کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔وہ اس وقت صرف نثار جعفری تھا۔میں روزنامہ جنگ چھوڑ کر دنیا ٹی وی سے منسلک ہوا اور ایک ٹریننگ سیشن کے سلسلے میں دوماہ کیلئے لاہور کے اس ہوٹل میں مقیم تھا۔جیسے 16اپریل کو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں سعودی عرب راشد نثار جعفری کیلئے آنسو بہانے جارہا ہوں اسی طرح 2007ء میں جب لاہور کے اس ہوٹل میں داخل ہوا تو اس وقت بھی مجھے اندازہ نہیں تھاکہ میں ملتان سے لاہور صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کیلئے آنسو بہانے آیا ہوں۔سو اسی لاہور میں جہاں میں بی بی کیلئے آنسو بہانے گیاتھا وہیں ایک روز نثار جعفری مجھے ملنے آیا اوراس سے پہلے افتخارجعفری نے مجھے فون کیاتھا کہ میرا چھوٹا بھائی آج کل لاہور میں ہے اسے آپ کی شاعری بہت پسند ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے۔وہ ایک سرد رات تھی نثار چند لمحے کیلئے میرے پاس آیا۔اس مختصر سی ملاقات میں اس نے مجھے سے میری نظم ’’ ستارے مل نہیں سکتے ‘‘ سنی اور پھر واپس چلاگیا۔لاہور میں میرا قیام بس دوماہ کیلئے تھا ۔پھرمیں واپس ملتان آگیا ۔چند ماہ بعد مارچ2008ء میں جب ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے میں نوازش علی ندیم کے ساتھ لاہورگیاتو نثارجعفری کانفرنس ہال میں ہمیں ملنے آیا۔نوازش نے اسے بلایاتو اس لیے تھا کہ ہم اس کے ساتھ لاہور گھومیں گے اور کچھ دوستوں کے ساتھ ملاقات کریں گے لیکن اسی روز لاہور کے ایف آئی اے سنٹر میں دھماکوں کے بعد راستے مسدود ہوگئے تھے۔نثار جعفری ہمیں اپنے گھر لے گیا پرتکلف تواضع کی ہم نے دوپہر اسی کے ساتھ گزاری اور پھر ملتان آگئے۔کچھ ہی عرصے کے بعد ایک روز وہ لال کرتی میں نذیرے کے ہوٹل میں ہمارے درمیان موجودتھا۔اب اس کامعمول بن گیا کہ وہ جب بھی لاہور سے ملتان آتا تو کچھ وقت ہمارے ساتھ ضرور گزارتا ۔نجم الاصغر شاہیا کی سربراہی میں نذیرے کے ہوٹل پر ہونے والی اس ہفتہ وار محفل میں بہت سے دوست موجودہوتے تھے۔نثار جعفری وہاں ابتداء میں خاموش سامع کے طورپر ہی کچھ وقت گزارتا رہا۔پھرمعلوم ہوا کہ وہ لاہور کو خیر باد کہہ کے مستقل طورپر ملتان آگیا ہے۔اب وہ سخن ورفورم کا مستقل حصہ بن گیا۔اس کے ساتھ تعارف تو اس کے بڑے بھائی افتخار جعفری کی وساطت سے ہوا مگر اب افتخار کے ساتھ ملاقاتیں کبھی کبھارہوتیں مگر نثار باقاعدگی کے ساتھ حلقہ دوستاں میں شامل ہوگیا۔ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک شروع ہوئی تو نثار اس بیٹھک کے بانی اراکین میں موجودتھا۔ جب تک وہ زندہ رہا بیٹھک کے نظم ونسق کے حوالے سے ہمیں کوئی فکر نہ ہوتی تھی۔وہ دوستوں کے ہمراہ بہت پہلے آرٹس کونسل پہنچ جاتا اور ہمارے آنے تک اس نے ادبی بیٹھک کوآراستہ کیا ہوتا تھا۔کچھ ایسی کشش تھی اس کی شخصیت میں کہ اس نے بہت جلد سب کو اپنا گرویدہ کرلیاتھا۔
پھر ایک روز معلوم ہوا کہ وہ توشعر بھی کہتا ہے۔سکول اور کالج کے زمانے میں جب اس کا دل دھڑکا تو اس نے شعر کہنے شروع کیے۔پھر غم روزگار کے جھمیلوں میں کچھ ایسا پھنسا کہ شاعری سے دورہوگیا۔اب جو اسے شعری ماحول میسر آیا تو اس کے اندر کا شاعر ایک بار پھربیدار ہوگیا۔وہ نثار جعفری سے راشد نثار جعفری بن گیا۔بہت جلد اس کا شمارسخن ورفورم کے اوپن بیٹسمینوں میں ہونے لگا۔ارشد عباس ذکی اورراشد نثارجعفری یکے بعد دیگرے سٹیج پر آتے اورابتداء ہی میں مشاعرے کو ایسی بنیاد فراہم کردیتے کہ پھر آخر تک مشاعرہ عروج پر رہتا۔بڑا مسحور کن انداز تھا اس کا۔
خرید لو کہ ہے تازہ غزل برائے فروخت
مرے سخن کے ہیں سارے کنول برائے فروخت
غریب ماں جسے افسر مزاج کہتی تھی
لگائے بیٹھا ہے ریڑھی پر پھل برائے فروخت
کہاں کہاں سے خریدارآگئے راشد
شکستہ گھر پہ جو لکھا محل برائے فروخت
کیا تیکھا انداز اور اسلوب تھا اس کا۔ایک کرب کی کیفیت تھی جو سننے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھی اور یہ کرب اس کی شاعری میں یونہی تونہیں آیا تھا۔وہ زمانے کے بہت سے گرم سرد دیکھ چکا تھا۔اس نے مالی آسودگی بھی دیکھی لیکن اب اس کی آزمائش کادور تھا۔اسے بہت سے مسائل کاسامنا تھا۔یکے بعد دیگرے اس نے بہت سے کام کیے۔آخری دنوں میں وہ بیمہ کمپنی کے ساتھ وابستہ ہوگیا ۔وہ دوستوں کی زندگیوں کابیمہ کرارہاتھا ۔نثار نے ہم سب کو قائل کیا کہ ہمیں اپنی بچوں کے مستقبل کیلئے اپنی زندگیوں کابیمہ کرالینا چاہیے لیکن خوداسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی اپنی زندگی کاسفر تمام ہونے والا ہے۔ایک روز معلوم ہوا کہ وہ مقروض ہو کر لاپتہ ہوگیا ہے۔اس کافون یاتو آف رہتا یا پھر اٹینڈ نہ ہوتا۔سب رابطے میں ناکام ہوگئے تو ایک روز میں نے اسے فون کیامجھے معلوم تھاوہ میری کال کو نظرانداز نہیں کرے گا۔اس نے فوراً فون اٹینڈ کیا اور پھر بچوں کی طرح رونے لگا۔’’ رضی بھائی یہ مجھے ماردیں گے۔میں تنگ آگیاہوں اس زندگی سے ۔سب بے نقاب ہوگئے ہیں۔سب رشتے عارضی ہوتے ہیں۔پیسہ نہ ہو تو خون بھی سفید ہوجاتا ہے‘‘۔وہ پتہ نہیں کیا کچھ کہتا رہا۔میرے پاس تو لفظ ہی نہیں تھے کہ اسے حوصلہ دیتا۔’’بس تم ملتان آجاؤ‘‘ میں اتنا ہی کہہ سکا اور وہ ملتان واپس آگیا‘‘۔وہی مسکراتا چہرہ،وہی قہقہے لگاتا نثارجیسے دل میں کوئی درد تھاہی نہیں۔پھرایک روز وہ صبح سے شام تک میرے پاس بیٹھا رہا۔اس نے مجھے سب کچھ بتادیا۔سارے دکھ بیان کردیئے۔مسائل سے کیسے نکلنا ہے ،رشتوں کو کیسے سنبھالنا ہے،دوستوں کے شکوے کیسے دور کرنے ہیں ہم بہت دیر تک یہ باتیں کرتے رہے۔
آخری ملاقات 12اپریل کی شب ملتان پریس کلب میں ہوئی ۔وہ بہت دیر تک میرے ساتھ بیٹھا رہا ارشد عباس ذکی اس کے ساتھ تھا۔بہت سے شعر اس نے مجھے سنائے ۔بہت سے مجھ سے سنے۔زمانے جہان کی باتیں کیں۔بہت زوردار قہقہے لگائے اس رات ہم نے۔میں عموماً دس سے گیارہ بجے کے درمیان پریس کلب سے واپس گھر چلا جاتاہوں لیکن اس رات نثار نے مجھے ایک بجے تک اپنے ساتھ بٹھائے رکھا۔’’اب تو آپ سے عمرے کے بعد ہی ملاقات ہوگی‘‘۔یہ اس کا آخری جملہ تھا۔اورپھر24اپریل کی رات میں مدینہ منورہ میں تھا جب میرا فون بجا ۔دوسری جانب سہیل عابدی کی آواز تھی ۔پاکستان میں اس وقت صبح کے پانچ بجے ہونگے۔’’رضی بھائی ،نثار جعفری رخصت ہوگئے‘‘۔اس کے بعد سہیل عابدی نے کیا کہا مجھے سنائی نہ دیا ۔شاید اس نے مزیدکچھ کہابھی نہیں تھا اور وہ کہہ بھی کیا سکتا تھااس کے پاس کہنے کو اور تھا ہی کیا۔پھر فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔دوستوں سے سنا بھی تھا اور پڑھا بھی تھا کہ پردیس میں کسی کے رخصت ہونے کی اطلاع بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔کہ وہاں رونے کے لئے کوئی شانہ بھی میسر نہیں ہوتا۔دیارغیر کا یہ میراپہلا سفر تھا اور مجھے اندازہ بھی نہیں تھاکہ میں پندرہ روز کے اس مختصر سے سفر میں بھی اس بڑے تجربے سے گزرنے والا ہوں۔نثار کا مسکراتا چہرہ میری نم آنکھوں میں دھندلانے لگا۔وہ جو سب میں رابطے کا ذریعہ تھا ،وہ جو روٹھے ہوؤں کو منالیتا تھا،وہ جو دوستوں کی زندگی کی بیمہ کرتا تھا اور جس کے سینے میں بہت سے غم اور چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگیا۔ایک اطلاع آئی کہ اس کی میت لاہورسے ملتان کے لئے روانہ ہوگئی ہے۔وہی لاہور جہاں میں بے نظیر بھٹو کے لئے آنسو بہانے گیا تھا اور وہی لاہور جہاں نثار مجھ سے پہلی بار ملا تھا اور جہاں اس سے دوسری بار بھی ملاقات ہوئی تھی ۔اسی لاہور میں اس نے خاموشی کے ساتھ آنکھیں موند لی تھیں۔پھر ایک دوست نے بتایاکہ ہم پرسہ دینے اس کے گھر پہنچ چکے ہیں۔پھرفون آیا کہ ایمبولینس اس کے گھرکے باہرآچکی ہے۔ایک کہرام تھا جو میں سینکڑوں میل دور ٹیلی فون پر سن رہاتھا۔پھرتدفین کامرحلہ آیا۔سب ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کیلئے ملتان میں موجودتھے اور میں تنہا مسجد نبوی کے باہر بلندوبالا ہوٹلوں کے درمیان ایک سڑک پر بیٹھااسے یاد کرتا تھا۔ میں بہت رونا چاہتا تھا مگر مجھے رونے کے لئے شانہ میسر نہیں تھا ۔ میں اس کے بارے میں بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا مگر وہاں کون تھا جو میرے ساتھ بات نثار کی باتیں کرتا۔نثار جعفری کو سپردخاک کردیاگیا ہے ایک اور ٹیلی فون کال نے ضبط کے سارے بندھن توڑ دئے ۔میں نے کہا ناں کہ آنسو کا کیا ہے یہ تو کہیں بھی گر سکتا ہے۔سو ایک آنسو میرے رخسار سے ڈھلکااور مدینے کی مٹی میں جذب ہوگیا۔یہ راشد نثار جعفری کے حصے کا آنسو تھا ۔میں سینکڑوں میل کا سفر کرکے یہی آنسو بہانے تو مدینے آیاتھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker