رضی الدین رضیشاعریلکھاری

ہر تابوت میں میری میت ۔۔ رضی الدین رضی

حال میں تو بے حال تھے مستقبل بھی اب برباد
اتنا ماتم کون کرے اب کون کرے فریاد
ہم کو دکھ میں قید کیا اور ہو گئے خود آزاد
ان کا سبق بھی کرنا ہو گا اب ہم کو ہی یاد

سانجھے بچے ، سانجھی خوشیاں‌اور سانجھے آلام
سارے زخم مرے سینے پر میرے گھر کہرام
ہر تابوت میں میری میت ، یہ میرا انجام
سب قبروں پر ایک ہی کتبہ ، سب پر میرا نام

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker