رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالم

ملتان کی گرمی اور شاہ شمس کی بوٹی : سخن ورکی باتیں/ رضی الدین رضی

ملتان میں رہ کر گرمی کا شکوہ کرنا کوئی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ جس شہر کی پہچان ہی گردوگرما ہواور اس کے بعد گورستان کا تذکرہ ہو وہاں کے باسیوں کو گرمی پر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے اوراس کی حدت و شدت پر کسی قسم کی پریشانی بھی لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا کیا کریں کہ آج کل شہر میں گرمی کے سوا کوئی سرگرمی ہی نہیں۔صبح سے شام تک ہم سب کمروں میں دبکے رہتے ہیں اور باربار اپنے موبائل فون پر درجہ حرارت معلوم کرکے آہیں بھرتے ہیں۔ ویسے تو مئی اورجون کا مہینہ ذہن میں آتے ہی گرمی کا تصور سامنے آجاتا ہے اورچوٹی سے ایڑی تک پسینے والا شعربھی یاد آ جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ گرمی کچھ اس لئے بھی زیادہ زیرِبحث ہے کہ یہ رمضان المبارک کامہینہ ہے اورروزہ داروں کے لئے حکومت نے اعلان کررکھا ہے کہ انہیں سحری اورافطاری کے وقت کسی تعطل کے بغیربرقی روکی فراہمی جاری رہے گی ۔ حکومت تواپنے وعدے پرقائم ہے سحری اورافطاری کے وقت شہروں میں توواقعی بجلی بند نہیں ہوتی، ہاں البتہ باقی تمام دن آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمیں اس کے باوجود یہ یقین ہے کہ حکمرانوں کے دعوے کے مطابق یکم جون سے مزید بجلی سسٹم میں شامل کی جا چکی ہے۔
کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے حضرت شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے ۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مؤرخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس سائیں نے ملتانیوں سے آگ مانگی تو اہلِ ملتان نے درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آ گیا ۔ نام ان کا شمس تھا ، انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے تو بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ بھی نہیں دے رہے۔ایسے میں سورج شمس کی مدد کوآیا ، بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پرآ گیا اورحضرت شاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر کھا لی ۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ہمارے بچپن میں’’ دھپ سڑی ‘‘ کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی بھی فرقوں میں تقسیم ہو گئے توکچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے ۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں ، لیکن یہ کچھ سوالات ضرور جنم دیتی ہے۔مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے حضرت شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کردیا تھا؟اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید یہ شہر اُس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکاربھی نہ ہوتا۔ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادارنہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں آیئے بس گرمی کاہی ذکر کرتے ہیں کہ جس کی شدت اس شہر میں ہمیشہ سے بہت زیادہ رہی لیکن جو شوراورہاہکار ہمیں اب سننے کومل رہی ہے وہ ہمارے لیے نئی بھی ہے اور حیران کن بھی۔
ہمارے بچپن میں بھی گرمی ایسی ہی ہوتی تھی ، لیکن شہر میں درختوں کی اتنی بہتات تھی کہ گرمی کی شدت ہمیں محسوس نہ ہوتی تھی۔ اونچی چھتوں والے ہوادار مکانوں میں ایک آدھ بجلی کا پنکھا گرمی کے مقابلے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔ گھڑے اورصراحی کا ٹھنڈا پانی گرمی کی شدت کم کرتا تھا۔ دوپہر کو یا شام ڈھلے شکنجبین تیارکی جاتی تھی۔ آئس کریم اورقلفی گرمی کا خاص تحفہ ہوتی تھی۔ لکڑی کی ہتھ ریہڑی پر آئس کریم والا گلی میں آکرجب مخصوص آوازلگاتا تو سب بچے ماؤں کے روکنے کے باوجود ننگے پاؤں گھروں سے باہر نکلتے اور کاغذ میں لپٹی ہوئی آئس کریم لے کر واپس آجاتے شدید گرمی کے باوجود آئس کریم کی خواہش میں ان کے پاؤں بھی نہیں جلتے تھے۔ کاغذ میں لپٹی ہوئی یہ آئس کریم اب مختلف برانڈزکی آئس کریموں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ہتھ ریڑھیوں کی جگہ ڈیپ فریزر اب مختلف دکانوں پرموجود ہیں جن میں آئس کریم محفوظ کی جاتی ہے۔ لیکن یہ ڈیپ فریزرتوبہت بعدمیں آئے ہتھ ریڑھی اورقلفیوں کے زمانے کے بعد ملتان میں سب سے پہلے کینٹ کے علاقے میں کون آئس کریم متعارف ہوئی تھی یہ ہمارے سکول کادور تھا۔ ہم نے پہلی بار کون آئس کریم کے ساتھ اس کے بسکٹ کا بھی لطف لیا ، اوربہت سے لوگ توایسے تھے جنہیں ابتداء میں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ جس بسکٹ کو ہاتھ میں تھام کر وہ کون آئس کریم کھارہے ہیں وہ بسکٹ بھی کھانے کی چیز ہے ، وگرنہ تو کئی لوگ آئس کریم کھانے کے بعد اس بسکٹ کو کوئی غیرضروری چیز سمجھ کرپھینک دیتے تھے ۔
برف شہر کے مختلف علاقوں میں پھٹوں پر فروخت ہوتی تھی جو گھر پہنچتے پہنچتے آدھی رہ جاتی تھی ۔شہرمیں کچھ برف خانے بھی ہوتے تھے جہاں برف پھٹوں کے مقابلے میں ارزاں نرخوں پردستیاب ہوتی تھی لوگ دوردراز علاقوں سے بھی زیادہ برف کے لالچ میں ان کارخانوں تک آتے تھے اور بہت ہجوم میں دھینگا مشتی کے بعد برف حاصل کرتے تھے ، یہ الگ بات کہ شدید گرمی میں ارزاں نرخوں پر برف لے کر جب وہ گھرپہنچتے تھے تومعلوم ہوتاتھاکہ برف اتنی ہی رہ گئی جتنی پھٹے سے ملتی ہے ۔
لو صاحب برف پر یاد آیا کہ ہمارے ایک معزز دوست اپنی محبوبہ کی خوشنودی کے لئے ایک بار ناز سینما سے ڈبل پھاٹک تک سر پر برف رکھ کر لائے تھے اور اس دوران ان کا چہرہ مبارک برف محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کئے جانے والے برادے ، پسینے اور برف کے پانی کی آمیزش سے مزید خوبصورت ہو گیا تھا ۔ المیہ یہ ہوا کہ جس محبوبہ کے لئے انہوں نے اتنی مشقت جھیلی اس نے وہ برف ان کے رقیب کی مدارت کے لئے منگوائی تھی کہ وہ بھی چلچلاتی دھوپ میں اپنے مشن پر وہاں آیا ہوا تھا ۔ خیر چھوڑیں اس قصے کو کہ ہم آپ کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں ہم برف کے گولے بہت شوق سے کھاتے تھے اورہمیں یہ فکر بھی نہ ہوتی تھی کہ ان گولوں پر جو میٹھا رنگ ڈالا جارہاہے اس کے ہماری صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ سچ پوچھیں تو برف کے گولوں نے ’’مضرصحت ‘‘ ہونے کے باوجودکبھی ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں کیے تھے۔اب تو برف کے یہ گولے بھی پیالوں میں پیش کئے جاتے ہیں اوران پررنگ دارپانی کی بجائے بہت سے میٹھے لوازمات اورشربت ڈالے جاتے ہیں لیکن جولطف سرکنڈے والے گولے میں تھا وہ پیالیوں والے گولے میں کہاں؟ پیالی میں کُو ٹ کر ڈالی گئی برف کو گولہ تو بہر حال نہیں کہا جا سکتا ۔
کوک اور دیگر مشروبات توبہت بعد میں آئے وگرنہ ملتانیوں کا پسندیدہ مشروب تو گولی والی بوتل ہی تھا، جی ہاں اس شہر میں بندوق ہی نہیں بوتل بھی گولی والی ہوتی تھی ۔ایک خاص ڈیزائن کی بنی ہوئی یہ بوتل بھی اب ماضی کاحصہ بنتی جارہی ہے۔اندرون شہر والے آئس کریم یا قلفی کی بجائے فالودے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ پینے کا صاف پانی سول علاقوں میں بھی وافر مقدار میں موجود ہوتاتھا،گھروں میں ہینڈپمپ کا پانی بھی آج کے فلٹر پلانٹ والے پانی سے بہتر ہوتا تھا۔ گلی محلوں میں مختلف چوراہوں پر سرکاری نل سے لوگ پانی بھرتے تھے اور آپس میں لڑتے تھے۔ یہ پانی مخصوص اوقات میں دن میں تین مرتبہ فراہم کیا جاتا تھا اوران اوقات میں نلوں کے باہر بالٹیوں ، برتنوں کی قطاریں اورلوگوں کا ہجوم ہوتاتھااورہم جو اپنے گھرکی کھڑکی سے سامنے والے نل پرلوگوں کوکبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑتا دیکھتے تھے توسوچتے تھے کہ یہ غریب لوگ کیایہ اپنے گھر پرہینڈ پمپ بھی نہیں لگواسکتے؟ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھاکہ ایک وہ زمانہ بھی آئے گاجب ہم بھی پانی کابرتن لئے کسی واٹرپلانٹ کے باہرقطار میں موجود ہوں گے ، ہمارے گھرمیں ہینڈپمپ ہی نہیں پانی والی موٹر بھی ہوگی لیکن ا س کے باوجودہم ’’غریب ‘‘ہوچکے ہوں گے ۔
وقت زقند لگا کر آگے بڑھ گیا۔ وہ سڑکیں جہاں گھنے درخت ہواکرتے تھے فلائی اوورز،میٹرو اور دورویہ کشادہ سڑکوں کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں سے خالی ہوگئیں۔ کینٹ کامال روڈ ہو یا ابدالی روڈ ،بہاولپور روڈ ہو یا نواب پور روڈاب یہاں لوگ سائے کوبھی ترستے ہیں۔اور تو اورہاؤسنگ کالونیوں کے کاروبار نے شہراورگردونواح سے آموں کے باغات کابھی صفایا کردیا۔شاہ شمس کی بوٹی بھوننے کے لیے جو سورج سوا نیزے پرآیاتھا وہ کچھ اور نیچے آگیا ہے۔

(بشکریہ روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker