رضی الدین رضیکالمکھیللکھاری

شکریہ نوجوان کھلاڑیو :سخن ور کی باتیں۔۔رضی الدین رضی

کرکٹ سے ہماری دلچسپی ختم ہوچکی تھی۔شدید غصہ تھااور جھنجھلاہٹ تھی۔ ہم نے نیوز چینلز کی طرح سپورٹس چینل بھی دیکھنا چھوڑ دیئے تھے۔کوئی میچ ہوتا توہمیں یہ دلچسپی ہی نہیں رہی تھی کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ہماری یہ دلچسپی ایک دن میں ختم نہیں ہوئی تھی۔اس غصے اور جھنجھلاہٹ اور عدم دلچسپی کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما تھے۔کھیل جب جوئے میں تبدیل ہوااور کھلاڑیوں اور جواریوں کا نام ایک ساتھ لیا جا نے لگا ۔میچ فکسنگ معمول بن گئی اور میچ سے ایک دن پہلے ہی بچوں کوبھی معلوم ہونے لگا کہ نتیجہ کس کے حق میں آئے گاتو بہت سے لوگوں کی اس کھیل سے دلچسپی ختم ہو گئی ۔بکیوں نے اس خوبصورت کھیل کو ایسا برباد کیا کہ میچ دیکھنا وقت کا ضیاع لگنے گا۔ہمارے پاس اس کھیل کی بہت خوبصورت یادیں ہیں۔سو ہم نے خود کو کرکٹ کے خوبصورت ماضی کا ہی اسیر کرلیا۔عمران خان کے یارکر،جاوید میانداد کاچھکا،سرفراز نواز کی سوئنگ باﺅ لنگ،مدثرنذر کی سست ترین بیٹنگ،ماجد خان کی بلے بازی،وسیم باری کی وکٹ کیپنگ،وسیم راجہ کی الٹے ہاتھ سے بیٹنگ اور ہمیشہ نروس نائنٹیز کا شکارہو کر سنچری بنائے بغیر پویلین میں واپسی،ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کی نظر کی عینک کے ساتھ ہیلمٹ پہنے بغیر جارحانہ بیٹنگ ،محسن حسن خان کی بلے بازی اوررینارائے کے ساتھ شادی،عبدالقادر کی گگلی،وسیم اور وقار کی ڈبلیو جوڑی اوران سب کے ساتھ ساتھ جمشید مارکر،چشتی مجاہد،عمرقریشی ، حسن جلیل اور منیر حسین کی کمنٹری۔اور یہ کمنٹری ہم ٹرانسسٹر پر سنتے تھے۔رات بھر ریڈیو کو کان سے لگائے رکھتے تھے اورہوا کی لہروں کے ساتھ ساتھ ٹرانسسٹر کو گھماتے تھے تاکہ آواز صاف سنائی دے۔کیا خوبصورت انداز تھا چشتی مجاہد،منیر حسین اورحسن جلیل کا ۔ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن چشتی مجاہد کی کمنٹری ہم ٹھیک طرح سمجھتے تھے۔آواز کا اتارچڑھاﺅ،تماشائیوں کا جوش وخروش،یہ سب ہمارے خون کی گردش کو تیز کرتاتھا۔دل ایسے دھڑکتا تھا کہ جیسے ابھی سینے سے باہر آجائے گا ۔ اورجب حسن جلیل کہتے تھے کہ بہت خوبصورت ، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے جو گیند کو سوئنگ کررہی ہے۔اور بیٹسمین مشکل کا شکارہیں۔توملتان کی گرمی میں بھی انگلستان کی وہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہماری روح کو سرشارکرتی تھی۔پھراس کے بعد ٹیلی ویژن کا زمانہ آیا۔کیمرے اس وقت زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ایک کیمرہ گراﺅنڈ کے ایک جانب ہوتاتھا اور کمنٹیٹر کی زبانی معلوم ہوتا تھا کہ یہ پویلین اینڈ ہے یا یونیورسٹی روڈ اینڈ۔پویلین اینڈ کے ساتھ ساتھ ہر شہر میں دوسری جانب کی باﺅ لنگ کے لیے اس شہر کی مناسبت سے کوئی علاقہ بتایا جاتاتھا۔جتنی تیزی کے ساتھ اب ایکشن ری پلے دکھائی جاتے ہیں اس زمانے میں یہ ممکن نہیں تھا۔کسی اوو ر کے بعد کسی چھکے یا وکٹ کا ری پلے کچھ اس انداز میں ٹی وی پر نظرآتا کہ کھلاڑی سلو موشن میں بھاگتے آتے تھے اور پھرہمیں انداز ہ ہوتا تھا کہ چھکا کیسے لگا ، یا وکٹ کیسے گری۔یہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی اور بلیک اینڈ وائٹ کھلاڑیوں کا زمانہ تھا۔سفید کپڑوں میں ملبوس یہ کھلاڑی ٹیسٹ میچ اور ون ڈے میں گھنٹوں سکرین پرموجودرہتے۔کرکٹ ابھی اتنی رنگین اور تیزنہیں ہوتی تھی۔یہ رنگ برنگے کھلاڑی توہمیں 90کے عشرے میں دکھائی دیئے۔اور پھر گیند بھی رنگین ہوگئے۔کیمروں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ایکشن ری پلے کی جگہ ریویو نے لی اور غلطی کا جو سارا بوجھ امپائر پر ہوتاتھا وہ ختم ہوگیا۔ایل بی ڈبلیو کو ہمیشہ متنازع فیصلہ ہی جانا جاتاتھایہ تنازع بھی ہمیشہ کے لئے انجام کو پہنچا ۔یادوں میں جاتے ہیں تو اور بہت سے مناظر ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔بہت سے یادگارمیچ اپنے خوبصورت پس منظر کے ساتھ آج بھی ہماری یادوں کاحصہ ہیں۔
بلیک اینڈ وائٹ زمانے میں ابھی ٹی وی گھرگھر نہیں آیاتھا۔سو دکانوں اورہوٹلوں کے باہر ایسے موقع پر ٹی وی سیٹ رکھ دیا جاتاتھا اور وہاں لوگوں کا ہجوم ہوتاتھا۔ہمارے سب کھلاڑی ہیروتھے۔ہم ان سے پیار کرتے تھے۔ان کی بڑی بڑی تصاویر ڈرائنگ رومز میں آویزاں ہوتی تھیں۔نیشنل سٹیڈیم کراچی، قذافی سٹیڈیم لاہور،اقبال سٹیڈیم فیصل آباد،ایوب سٹیڈیم کوئٹہ،جناح سٹیڈیم سیالکوٹ ،ابنِ قاسم باغ سٹیڈیم ملتان،نیاز سٹیڈیم حیدرآباد،ارباب نیاز سٹیڈیم پشاور،جناح سٹیڈیم گوجرانوالہ اورپنڈی کلب گراﺅنڈکرکٹ کے مراکز تھے۔یہ سب مراکز اب ویران ہوچکے ہیں۔پہلے جواریوں اور پھردہشت گردوں نے اس مقبول ترین کھیل کوپاکستان سے نکال دیا۔1992ءمیں ہم نے ورلڈکپ جیتاتو پاکستان کی کرکٹ عروج پر پہنچ گئی تھی ۔اوریہیں سے زوال کاآغازہوا۔پھرجوئے کی گفتگو شروع ہوئی۔میچ فکسنگ،بکی ،بال ٹیمپرنگ،ڈوپ ٹیسٹ جیسے لفظ کرکٹ کی لغت میں شامل ہوئے۔جن لوگوں کو ورلڈ کپ نے ہیرو بنایا تھا انہوںنے ہیروشپ کا تاوان وصول کرنا شروع کردیااوراس کے بعد ہرنامور کھلاڑی نے یہی راہ اپنا لی۔کسی نے ہسپتال بنایا،کسی نے خیراتی ادارہ قائم کیا،کسی نے کوچنگ کے نام پر اکیڈمی بنالی اوران اداروں کے لیے سرکاری اراضی ،خیرات ،صدقات اور کھالوں کے حصول کے لیے سرگرم ہوگئے۔پھراس کے ساتھ ساتھ کرکٹ میں تبلیغ کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔کھلاڑیوں کو مسلمان بنایا جانے لگا۔کھلاڑیوں نے فیلڈ سیدھی کرنے کی بجائے گراﺅنڈ میں صفیں سیدھی کرکے تصاویر بنوانا شروع کر دیں ۔ہمارے بہت سے ہیرودیگر شعبوں میں تو شہرت پاگئے لیکن کرکٹ کے میدان میں زیروہوگئے۔ بدترین لمحہ وہ تھا جب 90ءکے عشرے میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف لاہور میں جوئے کا مقدمہ چلا۔مقدمے میں سلیم ملک اوراعجاز احمد پرجوئے کاالزام ثابت ہوگیا۔جسٹس عبدالقیوم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وسیم اکرم،وقاریونس اورانضمام الحق کو مستقبل میں کرکٹ بورڈ کا کوئی عہدہ نہیں دیناچاہیے اور نئے کھلاڑیوں کو ایسے سینئرز سے دور رکھا جائے جو ان غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔بعد کے دنوں میں دانش کنیریا ،سلمان بٹ،محمدآصف اور محمد عامر پر بھی جوئے کے الزامات ثابت ہوئے جبکہ سلمان بٹ،محمدآصف اور محمد عامرنے میچ فکسنگ کے الزام میں لندن میں جیل بھی کاٹی ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہمیں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں کامیابی دلوانے والا محمد عامربھی سزایافتہ ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہی انضمام الحق ہیں جن کے بارے میں جسٹس قیوم نے منفی ریمارکس دیئے تھے۔محمد عامر کے بارے میں یہ سوال تو کیا جا سکتا ہے کہ ہم اگر اس کے بغیر سیمی فائنل جیت سکتے تھے تو یقیناً اس کی کمی فائنل میں بھی محسوس نہ ہوتی۔کہاں گئی جسٹس قیوم کی وہ رولنگ کہ جوئے میں ملوث سینئر ز کو نئے کھلاڑیوں سے دور رکھا جائے۔
چلیے چھوڑیں اس بحث کو ہمیں تو ویسے بھی کرکٹ کی الف بے معلوم نہیں۔ہم تو نائٹ واچ مین کو رات کا چوکیدار اور سلی پوائنٹ کو بے وقوفوں کامرکز سمجھتے ہیں۔ہم نے تو یہ کالم صرف نوجوان کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تحریرکیا ہے کہ جو ہمیں ماضی سے نکال کرآج کی کرکٹ میں لے آئے۔جنہوںنے اس روتی سسکتی اور دکھوں کی ماری لاشیں اٹھاتی قوم کو نعرے مارتے ،قہقہے لگاتے ،تالیاں بجاتے، شور مچاتے ،ڈھول بجاتے ،ناچتے ہوئے سڑکوں پر آنے کا ایک موقع فراہم کردیا۔ہم جو برسوں سے ذلتوں کے مارے ہوئے ہیں ، کم ازکم ایک دن کے لیے تو خوش ہوگئے۔ہم جو ہارے ہوئے ہیں جیت گئے۔ہم جو سرکو جھکا کرچلتے ہیں ان کھلاڑیوں نے ہمیں فخر کے ساتھ سینہ تان کر اور سراٹھا کر چلنے کا موقع فراہم کردیا۔ہم دنیا میں دہشت گرد سمجھے جاتے تھے ۔سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد افغانستان جیسی سی کلاس ٹیم نے بھی پاکستان کے دورے سے انکار کردیا۔نوجوان کھلاڑیو آپ کا شکریہ کہ آپ نے پاکستان کو سربلند کیا۔کہ آپ نے ہمارے اس حریف کا غرورخاک میں ملایا جو فادرزڈے پر ہمارا باپ بننے کا خواب دیکھ رہاتھا۔آپ کا شکریہ کہ آپ نے ایک دن کے لیے ہمیں پانامہ کیس ،جے آئی ٹی ،نوازشریف ،عمران خان،آصف زرداری،بلاول زرداری کی کہانیوںسے دور کردیا۔آپ نے ایک دن ایسا دیا کہ ہمیں نہ شدید گرمی کااحساس ہوا اور نہ بجلی کابحران یادآیا۔یہ ایک دن ہماری زندگی میں بہت قیمتی ہے۔ہمیں یہ قیمتی دن اورایسی خوشیاں برسوں بعدملتی ہیں۔اے نوجوانو،کہنے صرف یہ آیا ہوں کہ تم بھی اس دن کو سنبھال کر رکھنا ۔اس عزت کو سنبھال کررکھنا ۔ان پھولوں کو سنبھال کررکھنا ۔ایسی ہی سربلندی ہمیں 1992ءمیں ملی تھی لیکن ہمارے ہیرو اس عزت کو سنبھال نہیں سکے تھے۔اہم جیت نہیں ہوتی اس جیت کو برقراررکھنازیادہ اہم ہوتا ہے۔
(بشکریہ ۔۔روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker