Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, جون 27, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں ؟ معصومہ شیرازی اور ’’ صدائے ابابیل ‘‘ : رضی الدین رضی کا کتاب کالم
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم
  • روہڑی کے تاریخی ماتمی جلوس میں چار عزادار جاں بحق ، متعدد زخمی
  • وینزویلا میں شدید زلزلہ 32 اموات کی تصدیق : تعداد ہزاروں سے تجاوز کرنے کا امکان
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»رضی الدین رضی»رضی الدین رضی کا کالم : ویسٹ انڈیز کا دورہ ملتان اور1981ء کا قاسم باغ سٹیڈیم
رضی الدین رضی

رضی الدین رضی کا کالم : ویسٹ انڈیز کا دورہ ملتان اور1981ء کا قاسم باغ سٹیڈیم

ایڈیٹرجون 15, 20220 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
cricket bat
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جوکسی اوریاد کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں کسی خاص واقعے کے ساتھ ان کاتعلق ہوتاہے اورجب کوئی ایساواقعہ رونماہوتاہے توماضی کے جھروکوں میں موجودوہ یادیں بھی تازہ ہوجاتی ہیں جیسے گزشتہ ہفتے ملتان میں ویسٹ انڈیز اورپاکستان کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز منعقدہوئی اوراس دوران کرکٹ ٹیموں کی سکیورٹی کے پیش نظر ملتان کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کردی گئیں توہمیں یاد آیاکہ کیسا شاندارزمانہ تھاجب کرکٹ صرف ایک کھیل تھاایک ایسا کھیل جسے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھااورہم اپنے ہیروز،اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو اپنے درمیان موجودیکھ کر حیران ہوجاتے تھے،اور ان سے باتیں کرتے تھے۔ آج کے نوجوانوں کو یہ بات بہت عجیب لگے گی لیکن یہ ایسی حقیقت جوخودہمیں بھی خواب دکھائی دیتی ہے۔یہ ہمارے کالج کازمانہ تھااورملتان میں ویسٹ انڈیز کی کر کٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کھیلنے آئی تھی،یہ میچ 30دسمبر1980ء سے 4جنوری 1981ء تک قاسم باغ سٹیڈیم میں کھیلاگیاتھا۔ویسٹ انڈیزکی ٹیم اس زمانے میں کالی آندھی کے نام سے جانی جاتی تھی،ویون رچرڈ،ڈسمن ہینز،میلکم مارشل،سلوسٹرکلارک،کیسے کیسے عظیم کھلاڑی ویسٹ انڈیزکی ٹیم میں شامل تھے۔پاکستانی ٹیم میں بھی نامور کھلاڑی موجودتھے،جاویدمیاں داد (کپتان)عمران خان،ظہیرعباس،وسیم راجہ، سرفراز نواز،صادق محمد پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔
میں اورشاکرحسین شاکراس زمانے میں سول لائنز کالج میں فرسٹ ایئرکے طالب علم تھے،ہمارامعمول تھاکہ ہم چوک کچہری میں کواپریٹوبینک کے سامنے واقع بک سٹال پراخبارات اوررسائل کی ورق گردانی کے لئے جایاکرتے تھے۔اسی چوراہے کے قریب گرلز کالج کے سامنے شیزان ہوٹل میں پاکستانی کھلاڑی ٹھہر ے ہوئے تھے۔جنوری کی ایک صبح میں اورشاکر بک سٹال پرموجودتھے کہ ہمیں ہوٹل سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑ ی بک سٹال کی جانب آتے دکھائی دیئے۔جاویدمیاں داد،ظہیرعباس،صادق محمد،وسیم راجہ کواپنے سامنے دیکھ کر ہماراکیا حال ہوا ہوگااس کاآپ خود اندازہ کرسکتے ہیں۔یہ تمام کھلاڑی چہل قدمی کے لئے ہوٹل سے نکلے تھے اورپھربک سٹال پرآکرانہوں نے بھی اخبارات کی وردگردانی شروع کردی۔اگروہ سیلفیوں کازمانہ ہوتاتوہماری ان کے ساتھ سیلفی بھی بن چکی ہوتی لیکن وہ توآٹوگراف کادورتھااور آٹوگراف بک ہم کالج لے کر تونہیں آئے تھے۔کھلاڑیوں کو اپنے سامنے دیکھ کر ہمیں آٹوگراف بک اسی طرح یاد آئی جیسے آج کے نوجوانوں کوکسی اہم شخصیت کودیکھ کر موبائل فون کاکیمرہ یادآتاہے۔آٹوگراف کی غیرموجودگی میں ان کھلاڑیوں کے دستخط کیسے حاصل کئے جائیں کہ ہمارے پاس صرف کالج کی فائلیں تھیں یادوچارکتابیں اورکاپیاں جوہم نے ہاتھوں میں تھام رکھی تھیں،ہم نے وہی کاپیاں،اور وہی کاغذاپنے ہیروزکے سامنے رکھ دیئے اوروہ مسکراتے ہوئے ہمیں آٹو گراف دے کر واپس چلے گئے۔میری آٹوگراف بک میں ظہیرعباس سمیت بہت سے اہم کھلاڑیوں کے آٹوگراف اسی روز کے ہیں جومیں نے کاغذسے کاٹ کے اس پرچسپاں کردیئے تھے۔
اس مرتبہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کی آمدپر ملتان کے شہری جس عذاب میں مبتلارہے اس کاتذکرہ اخبارات اورسوشل میڈیا پرتسلسل کے ساتھ ہوتارہا۔یہ ٹیمیں جن ہوٹلوں میں ٹھہری ہوئی تھیں ان کے باہرسڑکیں بلاک رہیں کسی چڑیا کو بھی پرمارنے کی اجازت نہیں تھی۔ابدالی روڈ،چوک نواں شہر،ایل ایم کیو روڈ اورگردونواح کے تمام علاقوں میں سکیورٹی کے ایسے سخت انتظامات تھے کہ جنہوں نے شہریوں کو اذیت سے دوچارکردیا۔کم وبیش ایک ہفتہ ہم ملتانیوں نے ٹریفک کی قطاروں میں گزارا۔ابدالی روڈ پرہی امراض قلب کاہسپتال موجودہے اوردوسری جانب ایک راستہ نشترہسپتال کی طرف بھی جاتاہے لیکن ملتان کے شہریوں کو کرکٹ سے لطف اندوزہونے کی بڑی بھاری قیمت اداکرناپڑی۔عام شہریوں کے ساتھ ایمبولینسیں بھی کئی کئی گھنٹے ٹریفک میں پھنسی رہیں۔کس مریض کے ساتھ کیا ہوااس کی تفصیل جاننے کی بھی کسی کوضرورت محسوس نہ ہوئی۔یہ 1981ء تونہیں تھاکہ جب کھلاڑی عام لوگوں کی طرح سڑکوں پرنکل آتے تھے اورجن ہوٹلوں میں ان کاقیام ہوتاتھاان کے سامنے ٹریفک بھی رواں رہتی تھی۔1981ء اور2022ء کے درمیان پورے 41سال موجودہیں اوران اکتالیس برسوں کے دوران بہت کچھ تبدیل ہوگیاہے۔وہ عمران خان جو1981ء میں جاویدمیاں داد کی کپتانی میں میچ کھیلنے ملتان آئے اورمین آف دی سیریزقرارپائے تھے بعدازاں نہ صر ف یہ کہ 1992ء کے ورلڈکپ کے فاتح بنے بلکہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پربھی فائزہوئے اورپھرمعیشت بربادکرنے کے الزام میں تحریک عدم اعتمادکے نتیجے میں اقتدارسے نکال دیئے گئے۔اکتالیس برس پہلے کرکٹ ایک کھیل تھاجواب کاروبار بن چکاہے اوریہ اسی کاروبارکانتیجہ ہے کہ اس کھیل میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی سیاست بھی درآئی ہے۔3مارچ 2009ء کولاہور میں سری لنکن ٹیم پرحملے کے بعد پاکستانی کرکٹ جس مشکل سے دوچارہوئی یہ اسی کانتیجہ ہے کہ اب اس کھیل کے حوالے سے کسی قسم کا رسک لینے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔
ٹیموں کی حفاظت پرکروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اوریہی کچھ ملتان میں ہوا۔کھلاڑیوں کی سٹیڈیم آمدورفت کے دوران شہر کس طرح بند رہااس کے ہم سب عینی شاہد ہیں،اس دوران بہت سی تجاویززیربحث آئیں، یہ سوال کیاگیاکہ سارے شہر کواذیت میں ڈالنے کی بجائے ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوٹلوں کے سامنے واقع ایم سی سی گراؤنڈ سے سٹیڈیم تک منتقل کیوں نہیں کیاگیا۔اوراس سوال کاجواب یہ ملا کہ اگرعوام کی سہولت مدنظررکھی جاتی تو سکیورٹی کے نام پرکروڑوں روپے کمیشن مافیامیں بھلاکیسے تقسیم ہوتے۔آئیے آپ کو اب اکتالیس برس پہلے کے سٹیڈیم کااحوال بھی سنادیتے ہیں۔جس ٹیسٹ میچ کاابھی ہم نے ذکرکیااسے سردیوں کی بارش نے متاثرکردیاتھااوربارش کے بعد جب میچ کاڈرا یقینی ہوگیا توآخری روز انتظامیہ نے سٹیڈیم کے دروازے سب کے لئے مفت کھول دیئے۔ہم توجیسے اس دن کاانتظارہی کررہے تھے بس پھرسائیکل اٹھائی اورشاکر کے ہمراہ سٹیڈیم پہنچ گئے۔بارش رک چکی تھی لیکن ابھی میچ شروع نہیں ہواتھامیں اورشاکر سیدھاپریس گیلری میں چلے گئے جہاں ریڈیو اوراخبارات کے شناساچہرے موجودتھے اورہمارے سامنے کمنٹری باکس میں چشتی مجاہد آنکھوں دیکھا حال سنارہے تھے۔اورمجھے یاد ہے کہ شاکر نے انہیں حیرت سے دیکھا اورپھرمیرے کان میں کہایاررضی ٹی وی پرتویہ بہت گورے دکھائی دیتے ہیں یہاں ایسے کیوں ہیں، اس سے پہلے کہ وہ چشتی مجاہد کے پاس جاکر یہی جملہ ان کی جانب اچھال دیتامیں اسے کمنٹری باکس سے باہر لے آیاکہ بارش کاماحول دوبارہ سے بن رہاتھااوراگربارش شروع ہوجاتی توہمیں سردی میں ٹھٹھرناپڑتا۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

قاسم باغ ویسٹ انڈیز
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ، دو فرنٹ مین گرفتار
Next Article خط کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تو ادارہ مکمل تعاون کرے گا، ترجمان پاک فوج
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ویسٹ انڈیز کے معروف کھلاڑی پر 11 خواتین سے ریپ کا الزام

جون 28, 2025

ملتان ٹیسٹ سیریز برابر، ویسٹ انڈیز نے 35 سال بعد پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دیدی

جنوری 27, 2025

دوسرے ٹیسٹ پر ویسٹ انڈیز کی گرفت مضبوط، پاکستان کو جیت کیلئے 178 رنز، مہمان ٹیم کو 6 وکٹیں درکار

جنوری 26, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 27, 2026
  • ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں ؟ معصومہ شیرازی اور ’’ صدائے ابابیل ‘‘ : رضی الدین رضی کا کتاب کالم جون 26, 2026
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار جون 26, 2026
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم جون 26, 2026
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم جون 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.