اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : آج کا دن کیسے گزرے گا ؟

آج کا دن کیسے گزرے گا ؟ یہ سوال ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ صبح سویرے خود سے کرتے ہیں ۔ ایک فہرست ہوتی ہے بہت سے مسائل اور کاموں کی جو ہمارے ذہن میں کہیں موجود ہوتی ہے اوراس فہرست کے مطابق ہم بھاگم بھاگ اپنے دن کا آغاز کر دیتے ہیں‌۔ پھر اسی بھاگ دوڑ میں دن گذر جاتا ہے اور ایک روز معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایک دن کر کے ہم نے پوری عمر ہی گزار دی ہے ۔ پھر اپنی عمر کے اختتام پر ہم تنہائی میں خود سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے یہ عمر کس کے لئے گزاری اور جس کے لئے گزاری کیا اس کو بھی معلوم ہے کہ کسی نے یہ عمر اس کے نام پرر ائیگاں کر دی ہے ۔
کبھی کبھار تو ایسے ہوتا ہے کہ ہم اپنے دن بھر کے کاموں پر جب رات کو ایک نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے اپنوں کی طرح ان میں سے کوئی ایک کام بھی تو ہمارا اپنا نہیں تھا ۔ کچھ وقت بچوں اور عزیز و اقارب کی نذر ہوتا ہے تو کچھ ہم دوستوں کے لئے وقف کر دیتے ہیں ۔غم روزگار اپنی جگہ ہوتا ہے اور اس ایک غم کے ساتھ کئی اور غم بھی جڑے ہوتے ہیں اور یہ سب غم جب ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ہم سے ہمارا وقت ، ہمارے خواب اور بسا اوقات تو ہماری عزیز ترین ہستیوں کو بھی چھین کر لے جاتے ہیں ۔
ان فضول سے کاموں کے ہجوم میں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو کوئی چپکے سے اور بہت مہارت سے ہمارے ذمے لگا جاتا ہے ۔ ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی اور کے کام یا ٹاسک میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں کبھی ایسے کام بھی سر زد ہو جاتے ہیں جن کا انجام پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ بعض لوگ تعلقات کے ساتھ ساتھ دوستوں کو استعمال کرنے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں ، ہم انہیں اپنا سمجھتے ہیں اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو کسی اور کے کہنے پر ہمارے پاس آئے تھے بلکہ ہم پر مامور کئے گئے تھے اور ہم سے ایسا کام کرا گئے کہ” ہمیں بعد میں یہ خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے “پھر ہم سوچتے ہیں کہ شاید ہم استعمال ہو گئے ہیں ۔ ہمارا تو خیر ذکر ہی چھوڑیں یہاں بڑے منجھے ہوئے لوگ بھی کسی نہ کسی کے ہاتھوں‌استعمال ہو رہے ہوتے ہیں اور بے خبری میں نہیں کسی مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے ۔
چلیں چھوڑیں اس کہانی کو منیر نیازی کو یاد کرتے ہیں کہ اسی ماہ کے دوران ان کا انتقال ہوا تھا ۔ آئیں ان کی نظم آپ کی نذر کرتے ہیں ۔
خوبصورت زندگی کو ہم نے کیسے گزارا
آج کا دن کیسے گزرے گا کل گزرے گا کیسے
کل جو پریشانی میں بیتا وہ بھولے گا کیسے
کتنے دن ہم اور جییں گے کام ہیں کتنے باقی
کتنے دکھ ہم کاٹ چکے ہیں اور ہیں کتنے باقی
خاص طرح کی سوچ تھی جس میں سیدھی بات گنوا دی
چھوٹے چھوٹے وہموں ہی میں ساری عمر بتا دی
( بشکریہ : سب نیوز اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker